صدر مملکت نے انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کیلئے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کرلیا
صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے تاریخ کے اعلان کے لیے خط لکھا ہے اور اس بارے میں مشاورت کے لئے ایوان صدر آنے کی دعوت دی ہے۔
ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو 20 فروری کو ایوان صدر میں سیکشن 57 ایک کے تحت انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی دعوت دی ہے۔ خط کے مطابق ایکٹ کے تحت صدر مملکت عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کمیشن سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے اور سپریم کورٹ کے حالیہ مشاہدات جیسی کچھ اہم پیش رفت ہوئی۔
صدر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے خاموشی پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ صدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک پہلے خط کا جواب نہیں دیا۔ میں بے چینی سے انتظار کر رہا تھا کہ کمیشن اپنے آئینی فرائض کا احساس کرے گا اور اس کے مطابق کام کرے گا۔ اہم معاملے پر الیکشن کمیشن کے افسوسناک رویے سے انتہائی مایوسی ہوئی۔
صدر نے کہا کہ آئین کے تحفظ اور دفاع کی اپنی آئینی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو اپنے دفتر میں الیکشن پر مشاورت کے لیے ہنگامی ملاقات کے لیے مدعو کرتا ہوں۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ میں بطور صدر مملکت آئین پاکستان کے تحفظ اور دفاع کی اپنی آئینی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57(1) کے تحت الیکشن پر مشاورت کے لیے ہنگامی ملاقات کے لیے ایوان صدر میں اپنے دفتر میں 20 فروری کو صبح 11 بجے طلب کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ 10 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔