شدت پسند ی سے ہماری جان کب چھوٹے گی؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 17 / فروری / 2023
آج تو موضوعات کی اخیر ہے، سمجھ نہیں آ رہی کہ کس کی کہانی چھیڑیں اور کس کی چھوڑیں۔ ابھی ویلنٹائن ڈے گزرا ہے جس پر ہمارے سوشل میڈیا میں مباحث کی بھرمار ہے۔ وہ بھی ہیں جو اسے پیار محبت کے دن کی حیثیت سے مناتے ہوئے خود کو عالمی برادری کا ایک طرح سے حصہ محسوس کرتے ہیں۔
اور چاہتے ہیں کہ انسانوں سے محبت کا ہر تہوار ہم سب کو مل کر منانا چاہئے، چاہے اس کی شروعات کہیں سے بھی ہو۔ آج کا گلوبل ویلیج ہر ابھرتے دن کے ساتھ قومی، نسلی ، مذہبی، لسانی یا صنفی و جنسی تعصبات و ننگناؤں سے اوپر اٹھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا کا ہر مذہب اور ہر انسان قابل احترام ہے اگر وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا یا کسی دوسرے کے خلا ف منافرت کا چلن نہیں اپناتا ۔
حال ہی میں انڈین پرائم منسٹر نریندرا مودی نے مسلم داؤدی بوہری فرقہ کی تقریب الجامعہ الصفیہ عریبک اکیڈمی کے نئے کیمپس میں شریک ہو کر خطاب کرتے ہوئے جہاں ان کے روحانی پیشوا سیدنا مفضل سیف اللہ سے اپنی عقیدت مندی کا تفصیلی ذکر کیا ہے، وہیں یہ بھی کہا ہے کہ میں خود کو آپ کے مذہبی فرقے کا ایک فرد محسوس کرتا ہوں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میرا آپ کے خاندان سے تعلق چار نسلوں پر محیط ہے اور خود کو آپ کا حصہ سمجھتا ہوں۔ انڈیا میں مودی جی کو معروف مسلم سکالر علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کا دوسرا جنم قرار دیا جاتا ہے اور انہوں نے ابھی جو کچھ کہا ہے اس پر ایک دلچسپ کالم لکھا جانا چاہئے۔ مگر کیا کریں اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔
انہی دنوں برادر ہمسایہ ملک ایران میں خمینی انقلاب کی سالگرہ زوروشور سے منائی جا رہی ہے جبکہ ایرانی عوام کا نوجوان طبقہ پچھلے برس ستمبر سے اب تک اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے سڑکوں پر ہے، جن کا مطالبہ ہے کہ وہ حجاب یا اس نوع کی مذہبی بندشیں قبول نہیں کریں گے۔ جبکہ ہمارے یہاں ویسے ہی طبقے کی طرف سے اصرار ہے کہ ہمارے نوجوان ویلنٹائن ڈے جیسے مغربی تہوار سے دور رہیں اس کی بجائے اس دن کو ’’یوم حیا‘‘ کے طور پر منائیں کیونکہ ویلنٹائن ڈے سے بے حیائی پھیلتی ہے۔ حالانکہ جو مائنڈ سیٹ قبروں سے خواتین کی لاشیں نکال کر ان کی بے حرمتی کرتا ہے یا اس نوع کے مظالم ڈھاتا ہے، وہ یہ ذہنیت کہاں سے لیتے ہیں۔ کاش اس کی تھوڑی سی معلومات لے لی جائیں۔ یہ گھناؤنے جرائم اسی خوفناک مذہبی گھٹن کا نتیجہ ہیں۔
14فروری ہمارے جنوبی ایشیا یا انڈیا کی عظیم فنکارہ مدھوبالا کا جنم دن بھی ہے۔ اس حوالے سے اگر قلم اٹھایا جائے تو بڑی دلچسپ کہانیاں سامنے آتی چلی جائیں گی چونکہ یہ موقع گزر گیا ہے، اس لئے اسے بھی آئندہ پر ڈالے دیتے ہیں۔ ان سے بھی بڑھ کر ہمارے عظیم ترین شاعر اور دانشور مرزا غالب کا یوم وصال یا عرس بھی تو 15فروری کو ہوتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے جی چاہتا ہے بہت کچھ لکھنے کو۔ بالخصوص کلام غالب اور دانش غالب کی مختلف جہتوں کو جن کی آج ہمارے سماج کوشاید پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں جس طرح کلام اقبال کو پیش کیا جاتا ہے کاش اقبال کے بھی اس محسن و مرشد کو اسی ذوق ودلجمعی کے ساتھ میڈیا میں اٹھایا جائے۔
ان دنوں ہمارے کتنے ادبی لوگ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں بالخصوص امجد صاحب اور ضیامحی الدین صاحب۔ اس طرح جنرل پرویز مشرف، جن کی اگرچہ دوسری اور منفی حیثیت ہے مگر اس ملک بدنصیب پر جیسے تیسے ہنگامے انہوں نے برپا کئے رکھے۔ یہاں لٹریری فیسٹول اور فیض فیسٹیول بھی ہوا ہے۔ مہنگائی کا طوفان بھی ہے اپنے کھلاڑی کی ہر لمحے بدلتی داستان بھی ہے۔ سیریا اور ترکیہ کا افسوسناک زلزلہ ہے۔ کس کس پر بات کی جائے۔ اور ہاں ہمارے علی وزیر صاحب کی خدا خدا کرکے رہائی ہوئی ہے جس کی منظور پشتین اور ہمارے پتخون بھائیوں کو مبارکباد۔ امید ہے اب اس نوع کا ظلم روکا جائے گا۔
یہ سب موضوعات اپنی جگہ مگر ننکانہ صاحب میں بلاسفیمی کے نام پر جو دلخراش سانحہ پیش آیا ہے اس کی اہمیت اور سنگینی ہر چیز پر حاوی ہے یہ تو ظلم وستم ، بربریت اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی بدترین مثال ہے کیونکہ ابھی تک تو عمومی چلن یہی رہا ہے کہ جب بھی کہیں کسی شخص پر اس نوع کا الزام لگتا ہے تو فوری طور پر یہی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ بپھرا ہوا ہجوم کوئی حق نہیں رکھتا کہ وہ خود قاضی یا جج بن کر کسی بھی انسان کی زندگی کا حاکم یا خدا بنے۔ عوامی سطح پر بھی اس کا تقاضا کیا جاتا رہا ہے کہ ایسے شخص کو پکڑ کر قانون یا پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اپنے مخالف کسی بھی شخص کو دھمکانے کیلئےاس نوع کے الفاظ استعمال کئے جاتے رہے ہیں کہ میں تمہیں جیل بھجوا دوں گا پولیس اسیشن یا تھانے لے جاؤں گا۔ سفاکیت کی انتہا ہے کہ تھانے پر حملہ کرتے ہوئے توہین قرآن کے مبینہ ملزم کو باہر نکال کر تشدد کرتے ہوئے قتل کیا جاتا ہے اور لاش کو جلایا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 35سالہ وارث نامی شخص پر الزام تھا کہ اس نے جادو ٹونے کیلئے قرآن کا استعمال کیا اور مبینہ طور پر قرآنی اوراق کی بے حرمتی کی یا انہیں جلایا۔ جس پر کچھ لوگوں نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا تاہم جب مساجد کے لاؤڈ سپیکروں پر یہ اطلاع پھیلی تو سینکڑوں مشتعل افراد نے متعلقہ تھانے کے باہر جمع ہو کر مذہبی نعرے بازی شروع کر دی۔ یوں مظاہرین بڑھتے گئے اور انہوں نے ملزم ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تھانے پر دھاوا بول دیا۔ بلڈنگ میں گھس کر فرنیچر اور کمپیوٹر وغیرہ سمیت توڑ پھوڑ شروع کر دی ۔ ہجوم کو دیکھ کر پولیس والے وہاں سے بھاگ گئے اور مشتعل مظاہرین نے ملزم کو حوالات سے نکال کر برہنہ کرکے سڑکوں پر گھسیٹا اس پر ڈنڈے برسائے اور تشدد کرتے ہوئے مار ڈالا۔
جب یہ ہجوم ملزم وارث کی لاش کو آگ لگا رہا تھا تب پولیس نے مداخلت کی اور ہجوم کو منتشر کیا۔ یہاں بلاشبہ سوال پولیس کی کارکردگی پر بھی اٹھتا ہے جب ہجوم اکٹھے ہو رہا تھا اسی وقت اس کا تدارک کرنے کی کاوش کیوں نہ کی گئی ؟ فوری فون کے ذریعے ملحقہ تھانوں سے مزید نفری منگوانے سے تساہل کیوں برتا گیا ؟ مگر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مذہبی جنونیت کا مائنڈ سیٹ جس طرح ہمارے سماج میں گراس روٹ لیول تک پھیلایا گیا ہے اور لوگ اس طرح کے بلووں کو کوئی برائی نہیں بلکہ ایمانی تقاضا خیال کرتے ہیں، اس کا توڑ کرنے کیلئے ہماری ریاست، حکومت یا میڈیا کیا رول ادا کر رہے ہیں؟
دہشت گردی یا تشدد کی نہ تو یہ کوئی پہلی واردات تھی اور نہ آخری لیکن ہماری اجتماعی بے حسی اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ ہمارے لکھاری بھی محض پولیس یا حکومت کولعن طعن کرکے خاموش ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا میڈیا بھی اس حوالے سے سنگینی کو ایک بھیانک سماجی برائی کی حیثیت سے نہیں اٹھاتا اور نہ کماحقہ اس کی خبروں کو ٹٹول یا کھوج کر اس کے تدارک کی تدابیر پر مباحثہ کروایا جاتا ہے۔ جس سے بات کرو وہ کہتا ہے بھائی لعنت ڈالو ہمیں کیا پڑی ہے، اپنے آپ کو ایسے فضول گند میں رگیدنے کی۔ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ مذہبی جنونی ذہنیت آج یا کسی ایک واقعہ سے پروان نہیں چڑھی ہے اور نہ کسی ایک شخص نے اسے پروان چڑھایا ہے۔ اگر ہم تحقیقاتی اپروچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو ایسی منفی ذہنیت ہمارے اس خطہ میں ہندو مسلم منافرت پھیلانے والوں نے ایک پوری منصوبہ بندی کے ساتھ پروان چڑھائی ۔ درویش اس کی جڑوں تک گیا ہے ایک ایک بلوے کے محرکات کی پوری پوری تفصیلات ان مقدس اور پارسا ناموں کے ساتھ بیان کر سکتا ہے، جنہوں نے اس منافرت کی چنگاری سلگائی اسے ہوا دی۔ اور مخصوص مقاصد کے تحت منافرت کی آگ کا الاؤ بھڑکایا۔ مگر افسوس اتنی زیادہ سچائی یہاں ہضم نہ ہو سکے گی ، ہضم ہونا تو دور کی بات ہے ہمارا اخبار اسے چھاپنے کا متحمل بھی نہ ہو سکے گا۔ اس لئے چھوڑے دیتے ہیں ۔
البتہ درویش اپنےطاقتور ذمہ داران کی خدمت میں اتنی التجا ضرور کرے گا اور دست بستہ عرض کرے گا کہ خدا کے واسطے اب بس کر دیں، متشدد گروہوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیں۔ اپنے سلیبس کو بدلیں ، وسیع تر پیمانے پر تباہی پھیلانے والے منفی و جہادی بیانیے کو اسی طرح بلوں میں واپس بھیجیں جس طرح آج سعودی عرب اپنے پھیلائے ہوئے مخصوص زہریلے بیانیہ کو خود آگے بڑھ کر تلف کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ اگر وہاں کے دینی مدارس اور مساجد کے لائوڈ سپیکرز خطبات سے بھی آگے بڑھ کر اذانوں تک قابو میں لائے جا سکتے ہیں تو پاکستان سعودی عرب سے زیادہ مبارک و متبرک تو نہیں ہے۔ یہاں مذہبی منافرت کے سوتے بند کرنے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاسکتا؟
مسئلہ سنگینی کے ادراک و تفہیم کا ہے۔ اپنی سوچ ، پالیسی یا بیانیہ کو بدلنے کا ہے۔ اگر یہ بنیادی تبدیلی لے آئیں تو لگام ڈالنے کے طریقے ایک سو ایک موجود پائیں گے۔ کسی مولوی صاحب نے ہی اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے یہ دانائی ہانکی تھی کہ نکتہ یا مسئلہ توحید سمجھ میں آ تو سکتا ہے، تیرے دماغ میں ہو تو نجانے تو کیا کہے۔