آزادی کے لئے ایثار چاہئے

چند دن قبل میں کوٹلی ایک لیڈی ڈاکٹر کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک رول ماڈل ہیں۔ اور خواتین ان سے انسپریشن حاصل کرتی ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے کبھی کوئی منفی اور حوصلہ شکن بات نہیں سنی تھی۔

لیکن جب میں نے کہا کہ ہم میرپور میں  پبلک ڈپلومیسی کے لیے ایک دفتر قائم کر رہے ہیں تو انہوں نے برجستہ کہا کہ آپ کی کوشش تو ہے لیکن ہوگا کچھ نہیں۔  میں نے بھی فوری جواب دیا کہ اگر آر پار کے کشمیری سیاستدان محب وطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آجائیں تو پھر ہماری آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہاں ڈاکٹر صاحبہ کسی سوچ میں پڑ گئیں اور ہم آگے چل دیے۔ 

میرپور جاتے ہوئے سفر میں درجنوں سوالات نے میرے زہن میں جست لگائی۔ کیا یہ شکست خوردگی ہے یا مایوسی؟ میرا دماغ ہزاروں سال پرانے تاریخی واقعات میں کھو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ عالم دین تحریروں و تقریروں میں اکثر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کا زکر کرتے ہیں لیکن دنیا پھر بھی بگڑی ہوئی ہے۔ انسان ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں تو کیا پیغمبروں نے اپنا وقت ضائع کیا؟    کیا ہمیں جبر کے آگے ہتھیار ڈال دینے چائیں؟ کیا واقعی کچھ لوگ حکم چلانے اور کچھ تابعداری کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ 

قرآن کہتا ہے کہ بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے مگر کن بنیادوں پر؟ اس طرح کے سوالات مجھے کھائے جا رہے تھے لیکن اچانک مجھے خیال آیا کہ میں ڈرائیو کر رہا ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ میں حادثہ کر ڈالوں ۔ فوری زہن کو ان سوالوں سے خالی کیا اور کار سٹیرنگ ہر توجہ مرکوز کر دی۔ میرپور پہنچنے پر میرپور بورڈ کے ایک سابق افسر اور متعدد کتابوں کے مصنف راجہ محمد شبیر صاحب مجھے اپنے ایک علم دوست انسان جناب اعظم گیلانی صاحب کے پاس لے گئے۔  ان کے تجربات اور تجزیات سنے ۔ پھر انہوں نے مجھے محمد عربی کے عنوان سے محمد عنایت اللہ سبحانی صاحب کی کتاب کی ایک کاپی تحفتاً دی۔

’ہوتی ہے سحر پیدا‘ کے عنوان سے لکھے گے باب میں مصنف رقمطراز ہیں: دین ابراہیمی عرب میں زیادہ نہیں ٹھہرا۔ پورے ملک میں بت پرستی پھیل گئی۔ لوگ خدا کے ساتھ مورتیوں کو بھی پوجنے لگے اور ان کو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھنے لگے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ خدا کے ساجھی اور ہمارے سفارشی ہیں۔

اس میں دو رائے نہیں کہ حضرت ابراہیم خالص توحید کے داعی تھے لیکن لوگوں کی سوچ و فکر کا اپنا معیار تھا۔ وہ ہر چیز کو اپنے معیار پر دیکھتے اور پرکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کچھ لوگوں کو ریاست جموں کشمیر کی آزادی ممکن اور کچھ کو ناممکن نظر آتی ہے۔ حالانکہ اسے ناممکن کہنے والے بھی اپنا جائز پیدائشی حق سمجھتے ہیں لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دنیا اور عیش و عشرت چند دن کی بات ہے اور زندگی رہنے والی چیز خدا کی ذات اور انسان کا کردار ہے۔ کچھ لوگ اپنے اس حق کے لیے  اپنے وقتی مفادات قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

چند دن قبل ہم کھوئی رٹہ کے تحصیلدار محمد علی صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی ان کے دفتر میں آیا اور کہا کہ راجہ قیوم صاحب ہمارے لیڈر ہیں۔ محمد علی صاحب کو معلوم تھا کہ یہ کام نکالو آدمی ہے تو پھرآپ راجہ صاحب کا ساتھ کیوں نہیں دیتے۔ وہ صاحب کنفیوز ہو گئے اور کہنے لگے، ہم کیا کریں جی کسی اور نے کب یہاں لاشوں کا ڈھیر لگا دیا ہے۔  محمد علی صاحب نے جواب دیا لاشیں گرانا ضروری نہیں، خود لاش بننا پڑتا ہے!

 تو قاریین کرام ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اجتماعی مقصد کے لیے  اپنے انفرادی مفادات، جزبات اور خواہشات کو قربان کرنا ہڑتا ہے۔ فنا میں بقا ہے۔ جس دن ہم یہ راز سمجھ گئے اس دن دنیا اور آخرت ہماری ہو جائے گی۔ اور اگر نمود و نمائش اور وقتی آن بان شان کو اپنی منزل اور کامیابی کا معیار بنائیں گے تو پھر سکندر اعظم کی طرح دنیا سے رخصت ہوتے وقت ہاتھ خالی ہوں گے؟