’جیل بھرو تحریک‘ عمران خان کی مایوسی کا اعلان ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 18 / فروری / 2023
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے بدھ سے ’جیل بھرو‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ باقاعدہ تاریخ کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین اس نئے سیاسی ہتھکنڈے سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس نام نہاد جیل بھرو تحریک کو کیسے آگے بڑھایا جائے گا۔ عمران خان کے ذہن میں جو بھی خاکہ ہو لیکن ان کا یہ نیا اعلان اور اب اس پر عمل کرنے کے پروگرام سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی طور سے زندہ رہنے کے لئے ان کے پاس آپشنز کم ہورہے ہیں۔
جیسا کہ شہباز حکومت سے بھی کہا جاتا ہے کہ ملک گوناں گوں مسائل کا سامنا کررہاہے۔ صورت حال اس حد تک خراب ہے کہ وفاقی کابینہ کے سینئر وزیر بھی اپنی تقریروں میں اعتراف کررہے ہیں کہ ملک درحقیقت ڈیفالٹ کرچکا ہے۔ دنیا کا کوئی مالیاتی ادارہ یا ملک فی الوقت پاکستان پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ روز افزوں مہنگائی اور سنگین ہوتے سیاسی بحران کے دوران کم از کم یہ تو کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اس کے ارکان تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور غیر ضروری بیان بازی یا ملک میں سیاسی نفرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر نے اور یہ سوچنے کی بجائے کہ عمران خان کو کیسے اور کس الزام میں گرفتار کیا جائے یا انہیں کیسے نااہل قرار دے کر سیاست سے نکال باہر کیا جائے، اگر شہباز شریف سمیت حکومت میں شامل سب لوگ تندہی سے صرف ملکی معاشی وسماجی مسائل کی طرف توجہ دیتے تو کم از کم ملک میں سیاسی ہیجان ختم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن تحریک انصاف کی طرح حکومتی پارٹیاں اور ان کے نمائیندے بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
سب پارٹیوں کے سیاست دانوں نے یہ طے کررکھا ہے یا وہ اس شدید غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اشتعال انگیز بیانات، مخالفین کی کردار کشی اور جب موقع ملے تو مدمقابل کو ہراساں کرنے کی کوشش ہی سب سے تیر بہدف سیاسی طریقہ ہے۔ حالانکہ سیاست کی بجائے ملک بچانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت اگر واقعی اس تاریخی بحران میں ملک کی قیادت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو سے پارٹی سیاست، ہار جیت، انتقام و دشمنی سے بلند ہوکر ٹھوس اقدامات کرنے اور معاشرہ کی تعمیر اور عوام کی تشفی کے لئے کوششیں کرنی چاہئیں۔
کچھ اسی قسم کی گزارش عمران خان سے بھی کی جاتی رہی ہے۔ کہ سازش، احتجاج، لانگ مارچ، بائیکاٹ اور روزانہ خطابات سے پیدا کئے گئے ہیجان سے باہر نکلنے اور ملک و قوم کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن عمران خان ایک ایسے وقت میں تمام سیاسی ہتھکنڈے آزمانے پر تلے ہوئے ہیں جب پاکستان کسی حد تک زندگی و موت کی جنگ میں مصروف ہے۔ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کا معاملہ منظور نہیں ہوسکا اور اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے نہ پاسکا تو اسٹیٹ بنک کے پاس بیرونی ادائیگیوں کے لئے وسائل موجود نہیں ہیں۔ اس صورت میں پاکستان کو حقیقی ڈیفالٹ کا سامنا ہوگا۔ یہ کہنا آسان ہے کہ جب عملی طور سے ملک قلاش ہوچکا ہے تو ساورن ڈیفالٹ کرنے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ موجودہ حالات میں عوام کی مشکلات میں ضرور اضافہ ہؤا ہے لیکن ریاست کا اعتبار اس حد تک قائم ہے کہ وہ اپنی غیر ملکی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ارادہ و عزم رکھتی ہے اور ان کی تکمیل کے لئے ہمہ قسم کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ لیکن ساورن ڈیفالٹ کی صورت میں یہ بھرم ختم ہونے سے جو قیامت برپا ہوگی، اس کا قیاس کرنا بھی مشکل ہے۔
ریاست پاکستان کے دیوالیہ ہونے سے نہ صرف درآمدات کا سلسلہ بند ہوجائے گا، مہنگائی کا ایک ناقابل یقین طوفان آئے گا اور تمام ریاستی ادارے بے بس ہوکر رہ جائیں گے بلکہ انتشار اور بدامنی کی ایسی کیفیت بھی پیدا ہوسکتی ہے جس میں فوج سمیت ملک کا کوئی بھی ادارہ محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ صورت حال خانہ جنگی سے لے کر ملک کے حصے بخرے ہونے تک کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ باتیں کھلے اور صاف لفظوں میں کہنے کی ضرورت یوں محسوس ہورہی ہے کہ صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ ریاست کا کوئی بھی ادارہ ان حالات کو سمجھنے اور اس شدید پریشان کن صورت حال سے بچنے کے لئے اجتماعی کاوش کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہ مزاج عدالتوں میں دیکھے جانے والے رویے سے لے کر میڈیا کی سنسنی خیزی اور سیاست دانوں کی غیر ذمہ داری تک ہر جگہ پر نمایاں ہے۔
عمران خان نے آج نہایت فخر سے صدر عارف علوی کی طرف سے حکومت کے مالیاتی آرڈی ننس پر دستخط نہ کرنے کی تعریف کی ہے۔ گویا انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہوسکتا ہے اور اس کے جلو میں ایک قیامت کا منظر نامہ پاکستانی عوام پر مسلط ہوسکتا ہے بلکہ اس بات کی خوشی ہے کہ شہباز حکومت کو مزید پریشانی، ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا ہو کیوں کہ اسی میں عمران خان کی کامیابی ہے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے عمران خان کے ہر اقدام کا مقصد بحران و ہیجان میں اضافہ کرنا رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی تنازعہ جاری رہے تاکہ وہ خود کو ہیرو اور مخالفین کو ولن کے طور پر پیش کرتے رہیں ۔ لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ جب ڈوبتے جہاز کے بوجھ میں اضافہ کرکے اس کی تباہی کا اہتمام کیا جائے گا تو ایسے میں ہر وہ شخص ولن ہی کہلائے گا جو حالات سنبھالنے میں کردار ادا کرسکتا تھا لیکن اس نے کسی گمرہی کی وجہ سے اس سے گریز کیا۔ پاکستان کو نقصان پہنچا تو عمران خان کا نام اسے تباہ کرنے والوں میں سر فہرست ہوگا۔
عمران خان کی کل سیاست فوری انتخابات تک محدود ہوکر رہ چکی ہے۔ اب جیل بھرو تحریک کا اہتمام بھی حکومت کو مجبور کرنے کے لئے کیا جارہا ہے تاکہ وہ فوری انتخابات کا اعلان کرے۔ تاہم عمران خان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ موجودہ حالات میں جو انتخابات منعقد ہوں گے، وہ کیوں کر ملکی مسائل حل کرسکتے ہیں۔ شہباز شریف متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں بدنام ہورہا تھا اور متعدد دوست ممالک سخت نالاں تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے ان تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ تاحال اس کا کوئی عملی ثبوت تو دیکھنے میں نہیں آیا لیکن اس وقت یہ ہمارا موضوع گفتگو نہیں ہے۔ بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ عمران خان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے پاکستان کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے لیکن وہ یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ وہ جس نقصان کی طرف اشارہ کررہے ہیں، اس کے بیشتر عوامل کا تعلق عمران خان اور تحریک انصاف کی حکمت عملی سے ہے۔
عمران خان کی اس بات کو اگر من و عن مان لیا جائے کہ انتخابات ہی موجودہ مسائل کا حل ہیں تو انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ انتخابات میں خواہ کوئی بھی نتیجہ سامنے آیا ، وہ اسے خوشدلی سے قبول کریں گے۔ ان کا سیاسی رویہ نشاندہی کررہا ہے کہ وہ انتخابات کو درحقیقت تحریک انصاف کو اقتدار دینے کی اصطلاح کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اگر نام نہاد انتخابات سے یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا تو عمران خان اسے دھاندلی قرار دے کر انتشار اور خلیج پیدا کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
عمران خان فوری انتخابات چاہتے ہیں لیکن جس ادارے نے یہ انتخابات منعقد کروانے ہیں اور جن قوانین کے تحت ملک میں انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں، انہیں ان پر بھروسہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ چیف الیکشن کمشنر پر ہمہ نوعیت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ فوج اب تک غیر متنازعہ ادارہ تھی۔ عمران خان نے اسے مکمل طور سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنے بیانات اور اقدامات سے فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اگرچہ بظاہرسابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن ان کا اصل ہدف موجودہ فوجی قیادت ہے جس سے وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اسے عمران خان کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا چاہئے اور موجودہ حکومت کا ’بائیکاٹ‘ کرنا چاہئے تاکہ وہ انتخابات پر مجبور ہوجائے۔ فوج پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لئے ہی عمران خان نے ملک میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد عسکری اداروں کو نشانہ بنانا ضروری سمجھا ہے۔
ان حالات میں عمران خان خود ہی بتائیں کہ انتخابات کیوں کر ان کی سیاسی خواہشات کی تکمیل کا سبب بنیں گے۔ انہیں فی الوقت چونکہ عدالتوں سے مسلسل ریلیف مل رہا ہے جس کا وہ سیاسی فائدہ بھی حاصل کرتے ہیں، اس لئے وہ کسی حد تک عدالتوں کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لیکن جس روز انہیں اندازہ ہؤا کہ عدالتوں میں ان کے ’عاشقین‘ کی بجائے میرٹ پر فیصلہ کرنے والے ججوں کو اختیار حاصل ہورہا ہے تو ان کی توُپوں کا رخ فوری طور سے عدلیہ کی طرف ہوجائے گا۔ عمران خان کو جان لینا چاہئے کہ دریں حالات انتخابات شاید ان کے سیاسی عزائم کی تکمیل کا راستہ نہ بن سکیں بلکہ انتخابات ان کی سیاست کا قبرستان بھی بن سکتے ہیں۔
ان حالات میں وہ ایسے انتخابات کے لئے جیل بھرو تحریک شروع کرنے والے ہیں جن کے نتیجہ میں صرف وہی کامیاب ہوں۔ ملک کی کوئی سیاسی پارٹی یا ادارہ انہیں یہ ’تحفہ‘ دینے پر تیار نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے انہوں نے اپنے سابقہ محسن جنرل باجوہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے، اس کی روشنی میں کوئی دوسرا ویسا ہی ’محسن‘ بننے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ یوں بھی ایسی جیل بھرو تحریک کون سا مقصد حاصل کرسکے گی جس میں قائدین تو اپنے آرام دہ گھروں میں رہنا چاہتے ہیں لیکن کارکنوں کو جیل بھرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے سارے قائدین عدالتوں سے حاصل کی گئی ضمانتوں کو واپس کرکے گرفتاریوں کا آغاز کرتے اور اپنے کارکنوں پر یقین رکھتے کہ لیڈر کے ایثار کے بعد وہ خود بھی گرفتاریاں دیں گے۔ عمران خان کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اپنے کارندوں کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کی ایک پیشی سے بچنے کے لئے درجنوں جھوٹ بولنے پر تیار رہتے ہیں۔
کوئی حکومت کسی شہری کو کسی قانون شکنی کے بغیر گرفتار نہیں کرسکتی۔ عملی طور سے جیل بھرو تحریک کا یہی مقصد ہوگا کہ تحریک انصاف کے کارکن قانون ہاتھ میں لیں گے تاکہ حکام انہیں گرفتار کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ سوچنا چاہئے کہ اقتدار کے لئے قانون شکنی کو جائز ہتھکنڈا سمجھنے والا لیڈر اس ملک میں کیسے قانون کی حکمرانی نافذ کرے گا؟