آبادی میں بھارت چین پر بازی لے گیا،ہم کہاں کھڑے ہیں

بھارت آبادی کے لحاظ سے چین پر بازی لے گیا ہے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2022میں کی گئی سٹڈی کے مطابق ہندوستان کی آبادی ایک ارب 41 کروڑ اور70 لاکھ جبکہ چین کی آبادی ایک ارب41 کروڑ اور 20لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے اس طرح ہندوستان کی آبادی، چین سے20 لاکھ نفوس زیادہ ہو گئی ہے۔

 چین17.73 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جبکہ گزشتہ برس بھارت، جاپان پر برتری حاصل کر کے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے، اس کی معاشی تعمیر و ترقی کی رفتار دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے۔ ہمیں کتابوں میں معیشت بارے پڑھایا جاتا رہا ہے کہ آبادی میں اضافہ، وسائل پر بوجھ ہوتا ہے اس کی بڑھوتی اور اس کی رفتار کو قابو میں رکھنا ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ مشہور سماجی سائنسدان مالتھس کے نظریے کے مطابق آبادی کی رفتار، وسائل میں اضافے کی رفتار سے ہمیشہ زیادہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آبادی کی بڑھوتی پر قابو نہ پایا جائے تو معاشی معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

ہم مالتھس کے نظریے کے پرچارک بھی رہے اور اقوام مغرب سے اس کے نظریے پر عمل پیرا ہونے کے لئے گرانٹیں بھی وصول کرتے رہے ہیں لیکن ہم آبادی کی شرح افزائش کو اپنی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق کبھی بھی استوار نہیں کر سکے،اس طرح ہماری آبادی، ہمارے وسائل کے مطابق ترتیب نہیں پا سکی ۔اور آج صورت حال یہ ہے کہ ہماری معاشی صورت حال، فی الاصل نازک ہو چکی ہے ہم اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض پر قرض لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ہمارے قرضے اس قدر زیادہ ہو چکے ہیں کہ ان پر سود کی ادائیگی کے لئے بھی ہمیں قرض لینا پڑ رہا ہے۔ ہمارے دفاعی اخراجات بھی پورے نہیں ہو پا رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی کچرا کونڈی بن چکا ہے،۔تین کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود اشیاءخورد و نوش درآمد کرنا پڑتی ہیں۔آٹے کا حصول، روٹی نان کی قیمت کا تعین،مرغی و انڈے کی قیمت، دال سبزی اور ٹماٹر تک کی دستیابی اور ان کی قیمتیں متعین کرنے کی مہمیں ہمارے میڈیا میں سرخیوں کے موضوعات ہیں۔  بنیادی ضروریات کی دستیابی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے،ہم تعمیر و ترقی کی منزل کی طرف ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں تو اسی لمحے ہمارے تین چار قدم پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ سفر جاری ہے لیکن منزل کا پتہ نہیں ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہماری آبادی بہت زیادہ ہے۔افزائش ِ آبادی کی شرح ٹھیک نہیں ہے اِس لئے ہم غریب ہیں مفلوک الحال ہیں۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں چین نے اپنی آبادی کو ایک ہتھیار کے طور پر تیار کر کے اقوام عالم میں باوقار مقام حاصل کر لیا ہے۔چینی کہاوت ہے کہ جب ایک منہ کھانے کے لئے دنیا میں وارد ہوتا ہے تو وہ کام کرنے کے لئے دو ہاتھ بھی ساتھ لاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف منہ کو نوالہ مہیا کرنے کا بندوبست نہیں کیا بلکہ ان دو ہاتھوں کو بھی کارآمد بنانے کی کاوشیں کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دو ہاتھ تعمیر و ترقی کا ذریعہ بن گئے انہیں ایک منہ کو روٹی فراہم کرنے کا مسئلہ نہیںرہا۔چین نے فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کے ذریعے ہاتھوں کو کام پر لگایا،صنعتی و زرعی شعبے کو ترقی دی، دولت پیدا کی۔1960کی دہائی میں شروع کیا جانے والا انقلابی پروگرام اب اپنے برگ و بار دکھا رہا ہے، چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے ایشیا و یورپ اور افریقہ کے براعظموں میں اپنے مفادات کا جال پھیلا چکا ہے،چینی مال دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے، دولت سمٹ کر چین جا رہی ہے چین دنیا پر چھا رہا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے بھی اپنی آبادی کی قوت کے ذریعے ملک کو دنیا کی تیسری معیشت کے مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔پہلے پہل انڈیا، اپنی آبادی کے باعث دنیا کے لئے عالمی صارف مارکیٹ کے طور پُرکشش تھا پھر یہاں سرمایہ کاری آنے لگی یہاں کی آبادی ہنر مند بنی اور پھر صنعتی شعبے میں انقلاب آ گیا۔آج بھارت صرف مارکیٹ ہی نہیں بلکہ دنیا کے لئے دیگر حوالوں سے بھی اہم ملک بن چکا ہے۔ہندوستان نے اپنی کثیر آبادی کو کارآمد بنایا اور اس طرح وہ اقوام عالم میں اہم پوزیشن حاصل کر چکاہے۔

 دور جانے کی بات نہیں ہے،1971میں بنگلہ دیش عالمی بھکاری مانا جاتا تھا۔ ان کے ٹکے(بنگلہ دیشی کرنسی) کی قدر انتہائی پست تھی، پاکستان روپے کے3.5 ٹکے ملتے تھے بنگلہ دیش میں افزائش آبادی کی بلند شرح تھی، آزادی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی کثیر آبادی کو ایک قوت اور طاقت بنانے کا فیصلہ کیا،اُنہیں ہنر مندی کے ذریعے کارآمد بنایا،آج بنگلہ دیش خطے کا سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک بن چکا ہے ۔اس کے ٹکے کی قدر میں اضافہ ہے اس کی برآمدات شاندار ہیں زرمبادلہ کے مستحکم ذرائع ہیں زیادہ آبادی ان کے لئے باعث ِ عزت و افتخار ہے۔  ملائیشیا، انڈونیشیا، تائیوان جیسے ممالک نے بھی اپنی کثیر آبادی کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ تعمیر و ترقی کا زینہ بنایا۔

جن ممالک نے مالتھس کے نظریے پر عمل کیا آج وہ پریشان نظر آ رہے ہیں کہ ان کے پاس اپنے نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لیے افرادی قوت ہی دستیاب نہیں ہے۔اولڈ ایج پاپولیشن کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے جبکہ ان کی جگہ لینے کے لئے نئی نسل حسب ِ ضرورت دستیاب نہیں ہے۔ انہیں ”انسانوں“ کی شدید ضرورت ہے جو ان کے ہاں پیدا نہیں ہو رہی ہے کبھی تو افرادی قوت درآمد کرنے کی منصوبہ سازیاں کرتے نظر آتے ہیں، کبھی امیگریشن قوانین میں نرمی کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نفوس ان کے ممالک کا رخ کریں اور ان کا نظام چلانے اور تعمیر و ترقی کو جاری و ساری رکھنے میں ان کے ممدو معاون ثابت ہو سکیں۔ جرمنی نے حال ہی میں دس لاکھ شامیوں کو اپنا شہری بنانے کا اعلان کیا ہے جاپان میں یوتھ کی تعداد پریشان کن حد تک گھٹ چکی ہے جبکہ بوڑھی افرادی وقت میں ہوشربا اضافے نے انہیں پریشان کر رکھا ہے۔

پاکستان اس حوالے سے انتہائی خوش قسمت ملک ہے اس کی آبادی 220ملین سے متجاوز ہے جس کی65فیصد تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یعنی پاکستان اپنی آبادی میں نوجوانوں کی شرح کے حوالے سے دنیا میں اولین پوزیشن رکھتا ہے لیکن معاشی ترقی کے اعتبار سے انتہائی بدقسمت ثابت ہوا ہے اس کی وجہ دستیاب افرادی قوت کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہ کرنا ہے۔ہمارے پاس کروڑوں ہاتھ کام کرنے والے موجود ہیں لیکن ہم ان کے نوالوں کا بندوبست ہی کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ہمارے ایسے ادارے جو ان نوجوانوں کو ہنر اور قابل روزگار صلاحیتیں دینے کے لئے قائم کیے گئے تھے،اپنے فرائض ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ایسے ادارے نیو ٹیک کی صورت میں مرکز کے زیر انتظام ہوں یا ٹیوٹا کی صورت میں صوبائی حکومتیں چلا رہی ہیں۔قومی وسائل کو ضائع کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

 ہمارے ذمہ داران چاہے وہ سیاست دان ہوں یا سول و ملٹری کے حاکمانِ اعلیٰ،ان سب کو اپنی اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی جلدی ہے، اپنے اپنے لئے وسائل اکٹھے کرنے کی جلد بازی ہے یہی وجہ ہے کہ بے پناہ قدرتی و انسانی وسائل کی موجودگی اور دستیابی کے باوجود ہم غریب، محکوم اور فقیر بنے پھرتے ہیں جبکہ ہمارے ہی نوجوان چہار عالم جہاں بھی جاتے ہیں اپنے علم و ہنر کے جھنڈے گاڑتے چلے جاتے ہیں یہاں ہمارے ہاں ایسے ہنر کی پذیرائی نہ ہونے کے باعث معاملات دگر گوں ہیں اور سردست ان میں کوئی جوہری تبدیلی واقع ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)