جزیروں میں بٹا ہؤا پاکستان

جس ملک میں آئینی ادارے ایک دوسرے کا احترام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہر ہتھکنڈا آزمانے پر بضد ہوں، اس کے خوشگوار مستقبل کے بارے میں کوئی بلند بانگ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔  گو کہ ہمارے سارے لیڈر  اور اداروں کے نمائیندے  اس کے برعکس دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ کسی سیاسی لیڈر کا بیان ہو، وزیر کی تقریر، جج کے ریمارکس ہوں یا آرمی چیف کے تبصرے ، ہر موقع پر عوام  کو  یقین دلایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک عظیم قوم ہے۔ اس پر مشکل وقت ضرور آن پڑا ہے لیکن پاکستانی قوم میں ہر مشکل سے نمٹنے کی بے پایاں صلاحیت ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک  اس قسم کے دعوؤں اور اہل پاکستان کے عزم  پر یقین رکھنے والے بھی اب قومی منظر نامہ  پر ابھرتی تصویروں کو دیکھ کر مایوسی سے ہاتھ  ملتے دکھائی دیتے ہیں۔   وزیر خزانہ   آج بمشکل  قومی اسمبلی سے منی بجٹ یا آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق محاصل عائد کرنے کا بل منظور کروانے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد  موہوم سی امید باندھی جاسکتی ہے کہ  اب حکومت نویں جائیزے کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کی تشفی کروا سکے گی اور اس طرح  7 ارب ڈالر کے طے شدہ پروگرام میں سے ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی اگلی قسط جاری  ہوسکے گی۔ قیاس ہے کہ آئی ایم ایف کے اشارے کے بعد ہی سعودی عرب، چین اور دیگر عالمی  ادارے پاکستان کو مزید وسائل فراہم کریں گے۔ اس کے بعد حکومت وقتی طور پر ہی سہی  یہ دعویٰ کرتی ضرور دکھائی دے گی کہ  مشکلات پر قابو پالیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے اور اب ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اگرچہ  منزل  بالکل قریب ہونے کے باوجود ، اس تک رسائی  سو فیصد یقینی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف نے محاصل میں اضافے، سبسڈیز  کی تنظیم نو اور  خسارے کی کمی کے لئے اقدامات کرنے کے لئے پاکستان کو یکم مارچ تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ گو کہ کسی طرف سے تفصیل تو نہیں بتائی گئی لیکن یہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ اگر اس وقت تک حکومت پاکستان  آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بناکر اس کے عملی نتائج دکھانے سے قاصر رہی تو شاید آئی ایم ایف سے موجودہ معاہدہ خطرے میں پڑ جائے اور  پاکستان کی ڈیفالٹ ہونے کا اندیشہ  بڑھ جائے۔ اس عمل میں سب سے تکلیف دہ پہلو یہ رہا ہے کہ کوئی عالمی ادارہ یا ملک اس وقت پاکستان پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔  آئی ایم ایف اپنی شرائط کو مؤثر  کرنے سے پہلے بات کرنے پر آمادہ نہیں اور کوئی دوست ملک یا ادارہ آئی ایم ایف کی مرضی کے بغیر پاکستان کو مزید قرضہ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ کسی ملک پر بداعتمادی کی یہ فضا اس کی معیشت اور  بین الملکی تعلقات کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

یہ حالات ملک کے ہر شہری کے لئے لمحہ فکریہ ہونے چاہئیں۔ سب کو مل جل کر انہیں تبدیل کرنے اور قومی وقار و اعتماد بحال کرنے کے لئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن  ایسی کوئی صورت حال دیوانے کے ایسے خواب کی شکل اختیار کرچکی ہے جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ ملک کی سیاسی قوتیں یوں برسرپیکار ہیں گویا ایک دوسرے کا سر کچلے بغیر ملک  کے مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں۔ کسی سیاسی پارٹی یا حکومت کے ایجنڈے میں یہ نکتہ دکھائی نہیں دیتا کہ  ان مسائل کو مل جل کر تو حل کیا جاسکتا ہے لیکن باہمی تنازعہ میں خواہ کسی لیڈر کی جیت ہو لیکن قوم کو بہر حال ہزیمت، پریشانی، شرمندگی اور عوام  کو شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔  اس کے باوصف  اگر  موجودہ حکومت کے دور میں ملک ڈیفالٹ ہوجائے تو عمران خان کی خوشی دیدنی ہوگی۔ وہ برملا کہہ چکے ہیں کہ صدر علوی نے آئی ایم  ایف کے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے تجویز کردہ مالیاتی آرڈی ننس پر دستخط نہ کرکے بہت نیک کام کیا ہے۔ صدر علوی کے اسی کارنامے کی بدولت حکومت کو پارلیمنٹ میں منی بجٹ پیش کرنا پڑا ۔ اب یہ بل تو منظور ہوگیا ہے لیکن اس پر صدر کے دستخط ہونے سے پہلے یہ قانون کی شکل اختیار نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ ملک موجودہ بحران سے  وقتی  طور پر ہی سہی باہر نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

اب صدر عارف علوی کو اچانک اپنے آئینی فرائض  اور ’اختیار‘  پر عمل کروانے کا شوق بھی چرایا ہے۔  ایک ہفتے کے دوران الیکشن کمیشن  آف پاکستان کو دو خط لکھنے کے بعد  صدر  مملکت نے بالآخر گزشتہ ہفتہ کے آخر میں الیکشن کمیشن کو پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات کے بارے میں مشاورت کی دعوت دی۔ الیکشن کمیشن نے پہلے تو ان خطوں کے  جواب دیے اور آئینی سربراہ مملکت کی طرف سے ایک آئینی ادارے کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر  تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے بعد آج صبح ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن،  صدر کو صوبوں میں انتخابات کے سوال پر مشاورت میں شامل نہیں کرسکتا۔ یہ معاملہ چونکہ  عدالتوں میں زیر غور ہے ، اس لئے الیکشن کمیشن کے ارکان صدر سے  اس بارے میں ملاقات بھی نہیں کرسکتے۔ ایوان صدر کو  یہ اطلاع ملنے کی دیر تھی کہ صدر عارف علوی نے  ایک صدارتی فرمان کے ذریعے   اعلان  کیا کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 9 اپریل کو انتخابات کروائے جائیں کیوں کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کے  90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ  چونکہ دونوں صوبوں کے گورنر اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا، اس لئے مجبوراً انہیں یہ فرمان جاری کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے اسی الیکشن کمیشن کو مقررہ  تاریخ  کو انتخابات کے انعقاد کا حکم دیا ہے جو اس بارے میں صدر کے کسی کردار کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکا ہے۔  اب یہ واضح نہیں ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے اس صدارتی فرمان کو ردی کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے نظرانداز کردیا تو صدر عارف علوی اپنا حکم نافذ کروانے کے لئے کیا کریں گے؟ کیا وہ ’سپریم کمانڈر‘ کے طور پر فوج کو حکم دیں گے کہ وہ الیکشن کمیشن  پر دھاوا بول کر اسے اطاعت پر مجبور کرے یا سپریم کورٹ کو ریفرنس ارسال کریں گے کہ وہ الیکشن کمیشن کی سرزنش کرے اور صدارتی فرمان   پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اپنے فیصلے کو حقیقی بنوانے کے لئے عارف علوی جو بھی اقدام کریں لیکن  حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ایوان صدر اور الیکشن کمیشن دونوں آئینی اور قابل احترام ادارے ہیں اور اب وہ دونوں   براہ راست بیان بازی کے ذریعے ایک دوسرے  کے سامنے صف آرا ہیں۔  یہ صورت حال کسی بھی ملک میں پیش آئے، اسے انارکی اور ادارہ جاتی بداعتمادی کی بدترین مثال  کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ پاکستان کے ادارے ایک ایسے وقت میں اس دنگل  میں مصروف ہیں جب معاشی ہی  نہیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے  بھی پاکستان نہایت تشویشناک صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت نے طورخم بارڈر بند کرکے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا اہتمام کیا ہے اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے  دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع نہیں ہوتا، پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی  کرنے والا یا اس کے لئے خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے والا کوئی ملک پاکستان کا دوست نہیں ہوسکتا۔ یہ صورت حال قومی سلامتی کو لاحق اندیشوں کامحض ایک پہلو ہے۔

ان پریشانیوں سے قطع نظر لاہور ہائی  کورٹ کے ججوں اور عمران خان نے   دو مقدمات میں ضمانت  کی درخواست کے سوال پر سارا دن  چھپن چھپائی کا کھیل کھیلا۔ ہائی کورٹ کے فاضل جج نہ  عمران خان کی درخواست برائے ضمانت واپس کرنے پر آمادہ تھے اور نہ ہی اسے مسترد کرنے کا حوصلہ کررہے تھے بلکہ  سماعت کے  لئے ایک کے بعد دوسرا وقت دیتے ہوئے ججوں نے  عدالت عالیہ کی  ’توہین ‘  کا اہتمام کرنا ضروری سمجھا۔  بالآخر سار دن گزار کر اور کئی التوا لے کر شام کے وقت عمران خان  پرجوش حامیوں کے جلو میں ہائی کورٹ تشریف لائے تاکہ ’ثابت‘ کرسکیں کہ انہیں عدالتوں کی عزت اپنی  صحت سے بھی زیادہ عزیز ہے۔  عمران خان نے آج عدالت میں پیشی کو سیاسی طاقت کے شو  میں بدلنے کی بھرپور کوشش کی ۔  اگر وہ سینکڑوں پر جوش کارکنوں کو درخواست ضمانت کے موقع پر جمع کرنے کی بجائے ان سے یہ اپیل کرتے کہ وہ بدھ کو جمع ہوں تاکہ مل کر ’جیل بھر و تحریک‘  کامیاب بنانے کے لئے گرفتاری دی جائے۔ لیکن دوسروں سے جیلیں بھردینے کا تقاضہ کرنے والا لیڈر خود تو حفاظتی ضمانت  کے لئے ایڑیاں رگڑتا دکھائی دیا۔

اس دوران آئی ایم ایف کی سربراہ  کرستینا جارجیوا نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ ہے اسی لئے حکومت پاکستان سے تقاضہ کیا جارہا ہے کہ سبسڈی دینے کا ہر ایسا سلسلہ بند کیا جائے جس سے امیروں کو فائدہ ہوتا ہے اور غریب مسلسل خسارے میں رہتے  ہیں۔ انہوں نے ملکی اشرافیہ اور امرا کو ملک کے مالی بوجھ میں حصہ دار بننے کا مشورہ  دیا ہے۔ یہ وہی باتیں ہیں جو سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل گزشتہ کچھ عرصہ سے  کہتے چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں اشرافیہ کلچر ختم کئے بغیر اور اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ کئے بغیر معاشی بحالی کا خواب دیکھنا خام خیالی ہے۔ 

دیکھا جاسکتا ہے کہ انتخاب، آئین کی حفاظت اور حفاظتی ضمانت کے نام پر پیالی میں طوفان اٹھانے والا کوئی کردار کیا اس بارے میں بھی کسی پریشانی کا شکار ہے۔ یہ  ملک  ایسے جزیروں میں تقسیم ہوچکا ہے جس میں ایک جزیرے پر رہنے والوں کو دوسرے کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی فکر۔   ایک ہی ملک کے باشندے جب ایک دوسرے سے اس قدر بے خبر ہوجائیں  تو سہولت  کی  امید کیسے کی جائے؟