پنجاب، خیبرپختونخوا میں انتخابات کے سوال پر الیکشن کمیشن اٹارنی جنرل و قانونی ماہرین سے مشاورت کرے گا

  • منگل 21 / فروری / 2023

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان پر اٹارنی جنرل اور قانونی ماہرین سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن سے جاری بیان کے مطابق اس سلسلے میں اٹارنی جنرل 22 فروری 2023 کے لیے دعوت دی گئی ہے اور مشاورت کے لیے دو آئینی یا قانونی ماہرین کا بھی انتخاب کیا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ہر وقت آئین اور قانون کے تحت 90 دن میں الیکشن کروانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ مگر آئین اور قانون میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ الیکشن کی تاریخ کمیشن دے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’البتہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے تاریخ مقرر کرنے کے بعد کمیشن فوراً الیکشن شیڈول دے کر الیکشن کروانے کا پابند ہے‘۔ ای سی پی کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ہوا جس میں ای سی پی اراکین نے بھی شرکت کی۔

بیان کے مطابق اجلاس میں الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ کمیشن آئین و قانون کے مطابق بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ صدر پاکستان کی جانب سے انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے بعد آج کمیشن کے اجلاس میں اس پر تفصیلاً غور کیا گیا اور اٹارنی جنرل اور دیگر قانونی ماہرین سے مزید رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر عارف علوی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ایک کے تحت 9 اپریل بروز اتوار پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے۔

خط میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 دو کے تحت الیکشن کا پروگرام جاری کرے اور چونکہ کسی بھی عدالتی فورم کی جانب سے کوئی حکم امتناع نہیں، لہٰذا سیکشن 57 ایک کے تحت صدر اختیار کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

صدر عارف علوی نے لکھا ہے کہ آئین کے تحت آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا ہے۔ آئین اور قانون 90 دن سے زائد کی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا لہٰذا آئین کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اپنا آئینی اور قانونی فرض ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔