بات جو مکمل نہ ہو سکی
- تحریر امر جلیل
- منگل 21 / فروری / 2023
معاشرے میں جب بھی کچھ نیا آتا ہے، ہم سے ہمارا بہت کچھ پرانا دور ہو جاتا ہے۔ آنے والی نئی چیز فیشن ہو، بشمول بالوں کی تراش خراش، لباس، کھانے جس میں تھائی کھانے، چائینز اورانگریزوں کے کھانے مثلاً برگر، پیزا، سینڈوچز وغیرہ، اور ایجادات ہوں، بہت کچھ پرانا یا پرانی عادتیں، رویے، شوق، مشغلہ تو ہم کھونے لگتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ موبائل فون جدیدایجاد ہے۔ موبائل فون کے ساتھ چوں کہ لفظ فون چپکا ہوا ہے، اس لئے مانا جاتا ہے کہ موبائل فون بنیادی طور پر ایک ایسا ٹیلیفون ہے جو آپ کے ساتھ ، آپ کی جیب میں پڑا ہوا آپ کے ساتھ گھومتا رہتا ہے۔ میری بے حد محدود معلومات کے مطابق نئی ایجاد پرانی ایجاد کی جگہ لے لیتی ہے۔ دور سے دشمن کو زخمی کرنے یا موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے انسان نے تیرکمان ایجاد کیا۔ تاریخ میں مثالیں نہیں ملتیں، مگر میں سمجھتا ہوں کہ دوبدو لڑنے کی بجائے دور سے ایک دوسرے کو فنا کرنے کے لئے لوگوں نے ایک دوسرے پرپتھر برسائے ہوں گے کیوں کہ پتھروں سے مارڈالنے کا وحشی نظام، سنگ سار، ہزاروں برس پرانا ہے۔ تیرکمان ایجاد کرنے سے پہلے لوگوں نے ایک دوسرے کو دور سے کاری ضرب لگانے کےلئے ایک دوسرے پر پتھر برسائے ہوں گے۔ میں نے تاریخ میں ایسی کسی جنگ کا ذکر نہیں پڑھا جس میں فریقین نے ایک دوسرے پرپتھر برسائے ہوں۔
بندوق کی ایجاد نے تیرکمان کو ختم کردیا۔ اب تیرکمان اولمپکس کے مقابلوں میں کھیل کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔ انسان اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ تیرکمان ہو یا بندوق ایجاد کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی دور سے دشمن پر ضرب لگانا۔ اپنے اسی مقصد کو پورا کرنے کے لئے انسان نے بندوق، بندوق کے بعد توپیں، توپوں کے بعد راکٹ ایجاد کئے۔ ان مہلک ہتھیاروں کے اثرات چوں کہ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لئےدور سے دشمن پروار کرنے کے لئے خودکار ہتھیار لگاتار جنگ وجدل میں استعمال ہورہے ہیں۔ مگر آج تک ایسا نہیں ہوا کہ دورسےدشمن پر وار کرنے والے تمام ہتھیاروں کو یکجا کرکے ایک ہی ہتھیار ایجاد ہوا ہو۔ ایسا ہتھیار جس کو آپ موقع محل کے مطابق کبھی ریوالور، کبھی خودکار رائفل، کبھی مشین گن، کبھی توپ، کبھی راکٹ اور کبھی راکٹ لانچر کے طور پر چلا سکتے ہوں۔
دیگر مثالیں دنیا میں ہوں گی، میں مگرناقص اور بے علم ہوں اور نہیں جانتا کہ موبائل فون کے علاوہ ایسی کون سی ایجاد ہے جس نے کئی ایجادات کو اپنے اندر سمو لیا ہو۔ ایک اسمارٹ موبائل فون آپ تصویریں نکالنے اور ویڈیو بنانے کے لئےاستعمال کرسکتے ہیں۔ آپ موبائل فون کو سپر ریڈیو اور ٹیلی وژن کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ اپنا موبائل فون ٹیپ ریکارڈر کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے موبائل فون میں اپنی پسند کی موسیقی، گیت، غزلیں، گانے، فلمیں، ڈاکیومنٹریز ڈائون لو ڈکرسکتے ہیں۔ علم، تعلیم، تربیت کے لئےآپ بے شمار کتابیں ڈاؤن لوڈ کرکے موبائل فون میں اچھی خاصی لائبریری بناسکتے ہیں۔ آپ کے خط وکتابت اور مواصلات کی تمام ضرورتیں موبائل فون پوری کردیتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ایک اسمارٹ موبائل فون آپ کا کیمرا، ٹیپ ریکارڈر، ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور کیلکولیٹر ہے۔
موضوع کے حوالے سے مجھے جو بات آپ سے کرنی ہے، اس بات کے لئے مختص جگہ کی وسعت اور کشادگی کم پڑتی جارہی ہے۔ اس لئے میں نےجو دیکھا ہے اور میں نے جوسوچا ہے، وہ براہ راست آپ سے شیئر کرتا ہوں۔ یہ ٹیلی ویژن کے آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ ریڈیو کا بول بالا تھا۔ جہاں جہاں بجلی کی رسائی تھی، وہاں ریڈیو پہنچ چکا تھا۔ لوگ دیوانہ وار ریڈیو سے چپکے رہتے تھے۔ خبریں سنتے تھے۔ گانے سنتے تھے۔ حالات حاضرہ پر تبصرہ سنتے تھے۔ خاص طور پر ڈراموں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ریڈیو کی دنیا چوں کہ آواز کی دنیا ہوتی تھی، تمام توجہ اور اہمیت آواز اور تلفظ پر دی جاتی تھی۔ شکیل احمد کی آواز میں جس نے بھی خبریں سنیں، ان کو پھر کبھی شکیل احمد کی گرجدار آواز سننے کو نہیں ملی۔ ریڈیو ڈراموں میں آواز کے بل بوتے پر آرٹسٹ کردار نگاری کرتے تھے۔ اچھے خاصے، دیکھے بھالے لوگ ریڈیو پاکستان میں بطور آرٹسٹ شامل ہونے کے لئے آڈیشن، یعنی آواز کا امتحان پاس نہیں کرسکتے تھے۔
میں آ پ سے انیس سو پچاس کی دہائی کی باتیں کررہا ہوں۔ ان دنوں ریڈیو پاکستان کراچی سے کمال کے ڈرامے نشر ہوتے تھے۔ مکالموں کی ادائیگی اور آواز کے اتار چڑھاؤ اور پس منظر کے صوتی اثرات اور موسیقی سے پروڈیو سر ایسا سماں باندھتے تھے کہ سب کچھ سامعین کو جیسے دکھائی دینے لگتا تھا۔ سننے والے آرٹسٹوں کی آواز پرفریفتہ ہوتے تھے۔ من موہنی آواز کے ایک آرٹسٹ کا نام تھا ایس ایم سلیم۔ ہم ان کو ریڈیو کی دنیا کا دلیپ کمار کہا کرتے تھے۔ ان کی آواز میں مکالمے سن کرلگتا تھا، جیسے دلیپ کمار بول رہے ہوں۔ ریڈیو پاکستان کراچی بندر روڈ(بعد میں ایم اے جناح روڈ) پر تاج محل سینما اور تھیا سافیکل ہال کے سامنے انگریزوں کے دور کی لوکل بورڈ آفس کی خوبصورت عمارت میں قائم ہوا تھا۔ رات کے آٹھ بجے سے نو بجے تک ڈرامے نشر ہوتے تھے۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ ہمارا گھر ریڈیو پاکستان کے تقریباً سامنے تھا۔ ڈرامہ ختم ہوتے ہی آرٹسٹوں کو دیکھنے کے لئے، خاص طور پر ایس ایم سلیم کو دیکھنے کے لئے جم غفیر ریڈیو پاکستان کے باہر جمع ہوجاتا تھا۔
مجھے محسوس ہورہا ہے کہ جو بات مجھے آپ سے شیئر کرنی تھی ، وہ بات زبان پر آنے سے کوسوں دوررہ گئی ہے۔ اگلے منگل کے روز ملیں گے، اور خوب باتیں کریں گے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )