تحریک انصاف میں پرویز الہی کی شمولیت : کیاعمران خان کو فارغ کیا جارہاہے؟

اس سے ملکی  مفادات  یا پاکستان کو درپیش مسائل پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں جاری سیاسی سرکس میں ایک ’آئیٹم‘ کا اضافہ ہونے کے بعد اینکر حضرات اور سینئر تجزیہ نگار چوہدری پرویز الہی کے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے پر نت نئی قیاس آرائیوں کا انبار ضرور لگادیں گے۔ یوں اس بے جان سرکس میں کچھ مزید رونق لگانے کا اہتمام کیا جائے گا۔

چوہدری پرویز الہیٰ  کو عین ایک ہفتہ قبل پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگ (ق) کو نقصان پہنچانے اور تحریک انصاف کے ساتھ انضمام کی باتیں کرنے کے الزام میں پارٹی سے نکال دیاتھا۔ اس اعلان کو   کوئی خاص توجہ نہیں مل سکی تھی کیوں کہ اس سے پہلے پرویز الہیٰ کا گروپ چوہدری شجاعت حسین کو مسلم لیگ (ق) کی صدارت سے علیحدہ کرچکا  تھا۔ اس معاملہ پر ابھی الیکشن کمیشن کے ذریعے کھینچا تانی ہو ہی رہی تھی کہ  چوہدری پرویز الہیٰ نے  خود ہی اپنا راستہ علیحدہ یا دوسرے لفظوں میں سیدھا کرلیا۔ اس لئے  سیاسی ڈرامے کا  یہ منظر  ماضی کا قصہ بن جائے گا کہ مسلم لیگ (ق)  میں جوتوں میں  دال بٹ رہی  ہے اور یہ کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ اب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا۔ چوہدری پرویز الہیٰ چھوٹی سے مسلم لیگ (ق) کی صدارت یا اس پر اختیار کی کوشش کرتے کرتے ملک کی نام نہاد سب سے بڑی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی صدارت تک پہنچ  گئے۔

چوہدری پرویز الہیٰ اور تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان  کیا کہ انتہائی مشکل وقت میں عمران خان اور پارٹی کا ساتھ دینے کے صلہ میں پرویز الہیٰ کو  تحریک انصاف کا صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چئیرمین عمران خان اور سینئیرقیادت نے اس  کی منظوری بھی دے دی ہے۔  لیجئے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ چوہدری پرویز الہیٰ ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہی نہیں بلکہ عہد حاضر کے ’سب سے بڑے لیڈر‘ کے محسن کے طور پر سامنے آئے اور انعام میں پائی صدارت۔  البتہ پرویز الہیٰ اتنے جہاں دیدہ ضرور ہیں کہ  انہیں یہ علم ہی نہ ہو کہ  تحریک انصاف کے اس عہدہ جلیلہ پر پہلے جاوید ہاشمی کو فائز کیا گیا تھا کیوں کہ وہ  ’میں باغی ہوں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر  پارٹی میں تشریف لائے تھے۔  جاوید ہاشمی کے انجام سے یہ سبق سیکھنا بھی کوئی مشکل نہیں ہوگا کہ چئیرمین عمران خان کے ہوتے  تحریک انصاف میں صدر کی کیا اوقات ہوگی۔  پرویز الہیٰ کو تو اس حوالے سے  وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کی  خشمگین نگاہوں کا سامنا بھی رہے گا جو پنجاب کی سیادت کے لئے بہت دیر سے ہاتھ پاؤں مارر ہے ہیں۔

ملکی میڈیا میں چھائی رہنے والی یہ ’خبر‘ اس لحاظ سے بھی کوئی خبر نہیں ہے کہ  پرویز الہیٰ کے پاس مزید سیاست کرنے اور اپنے ہونہار صاحبزادے مونس الہیٰ کا سیاسی مستقبل محفوظ کرنے کے لئے زیادہ آپشنز موجود نہیں تھے۔ مونس الہیٰ یوں بھی عمران خان کے  پروانے ہیں اور انہیں کے اکسانے پر پرویز الہیٰ نے پی ڈی ایم کے ساتھ طے ہونے والا معاہدہ  مسترد  کرکے نہ صرف  آصف زرداری اور شہباز شریف کو حیران کردیا تھا بلکہ  چوہدری  شجاعت حسین کے ساتھ اپنی ساری زندگی کی سیاسی  رفاقت  بھی ختم کردی تھا۔ قریبی رشتہ داری اور   مصالحت کی خبریں سامنے آنے کے باوجود  دو دلوں  میں پڑی دراڑ ختم نہیں ہوسکی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی چوہدری شجاعت پارٹی صدارت سے نکالے گئے اور کبھی پرویز الہیٰ کو  پارٹی ہی سے نکال باہر کیا گیا۔   پرویز الہیٰ نے یہ ٹنٹا ہی ختم کردیا۔

پرویز الہیٰ کی سیاست کے حوالے سے  دیکھا جائے تو  مستقبل میں  ایک بار پھر پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کے لئے ان کے پاس اس سے بہتر کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں تھا۔ اگر  وہ مسلم لیگ (ق) کا علیحدہ دھڑا بنا بھی لیتے تو بھی تمام تر وفاداری اور   فرماں داری کے باوجود عمران خان  پنجاب میں انتخاب جیتنے کے بعد  وزارت اعلیٰ کے لئے   عثمان بزدار جیسے ہی کسی وفادار کا انتخاب کرتے۔  پارٹی میں شامل ہوکر پرویز الہی  نے تحریک انصاف کی کامیابی کی صورت   اپنی وزارت اعلیٰ تو پکی کرلی ہے۔   عمران خان کے حکم پر پنجاب اسمبلی توڑنے کے  سوال پر سامنے آنے والی خبروں میں یہ واضح تھا کہ  پرویز الہیٰ ’وفاداری‘ کے لئے  کوئی ایسی بھاری قیمت مانگ رہے تھے  جو ادا کرنا شاید عمران خان جیسے  ’سیاسی رئیس‘ کے بس میں  بھی  نہیں تھا۔  اسی تناظر میں مسلم لیگ (ق) کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کی  بات شروع ہوئی تھی تاکہ پرویز الہیٰ کے سیاسی گروہ کو زیادہ سے زیادہ  نشستوں پر تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہوسکے۔    پارٹی کا صدر بنانے کے بعد عمران خان،  پرویز الہیٰ کو کم از کم اتنا حق تو دیں گے کہ وہ  گجرات کے علاقے میں اپنے ساتھیوں کا سیاسی مستقبل محفوظ کرسکیں۔

یہ  کہنا مشکل ہے کہ تحریک انصاف میں پرویز الہیٰ  کی شمولیت عمران خان کی سیاسی کامیابی ہے  یا  پرویز الہیٰ سیاسی طور سے فائدے میں رہے ہیں۔ البتہ  پارٹی کے لئے شاید یہ کوئی بہت  خوش آئیند خبر نہ ہو ۔ پرویز الہیٰ جیسے گھاک سیاسی لیڈر کی شمولیت سے تحریک انصاف نہ صرف اپنے بنیادی سیاسی ایجنڈے  سے مزید  دور ہوجائے گی بلکہ  پارٹی کے اندر گروہ بندی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایک ہی چھت تلے قیادت  و سیادت کے کئی امید وار اکٹھے ہوجانے سے  جو  بے چینی اور اتھل پتھل دیکھنے میں آتی  ہے وہ جلد یا بدیر تحریک انصاف میں بھی دیکھنے میں آئے گی۔ بلکہ  ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق پنجاب میں انتخابات منعقد ہونے کا فیصلہ ہوتے ہی ٹکٹوں کی تقسیم پر یہ کھینچا تانی  شدت اختیار کرسکتی ہے۔

تاہم ان تمام پہلوؤں سے اہل پاکستان یا تحریک انصاف کی حمایت کرنے والوں کے ’مفادات‘ پر کوئی اچھا برا اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن پرویز الہیٰ کے  اعلان سے  اس  پراسرار پہیلی  کا جواب ضرور تلاش کرنا پڑے گا کہ  جب سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کا سب سے بڑا وکیل،  ان کے  سب سے بڑے ’دشمن‘ کی پارٹی میں  شامل ہورہا ہے تو درپردہ کہاں کون سی کھچڑی پک رہی ہوگی۔  پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے پوچھنے پر کہ کیا پرویز الہیٰ اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ، تو پرویز الہیٰ نے کہا کہ  ’اگر ایسا ہے  تو اچھا ہی ہے‘۔  اس طرح انہوں نے اس قیاس کی تردید  نہیں کی بلکہ بالواسطہ طور سے  یہ سچائی تسلیم کی کہ انہوں نے  سیاست میں ہمیشہ وہی کیا ہے جس کا اشارہ اسٹبلشمنٹ سے موصول ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ق) سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں قائم ہوئی تھی اور چوہدری برادران کو نواز شریف کی سیاست ختم کرنے کے لئے ایک نئی پارٹی بنا کر دی گئی تھی۔ اس وقت سے یہ کوئی راز نہیں ہے کہ چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ کی  اصل سیاسی طاقت کیا ہے۔  البتہ جب دونوں چوہدری سیاسی  الحاق کے سوال پر آمنے سامنے ہوگئے تو  یہ قیاس آرائیاں ضرور ہوتی رہیں کہ بڑے گھر کا دست شفقت درحقیقت کس کے سر پر ہے۔ پھر اسے بھی اسٹبلشمنٹ کے اندر پائی جانے والی چپقلش کا شاخسانہ سمجھ کر  نظر انداز کردیا گیا۔

البتہ اب پرویز الہیٰ کے تحریک انصاف میں شامل ہونے سے دو  اہم سوال سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہی ہے کہ  عمران خان نے گزشتہ کچھ عرصہ سے فوجی قیادت کو نشانے پر لیا ہؤا ہے۔ قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا نام لے کر ہمہ قسم الزامات عائد  کئے جاتے رہے ہیں۔ اب تو عمران خان صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ ان کی حکومت گرانے کی سازش کو جنرل باجوہ ہی نے کامیاب کروایا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے پہلے آرمی چیف جنرل عاصم منیر  کو سابق آرمی چیف کے خلاف  کارروائی کا  مشورہ دیا  ، پھر صدر مملکت  سے  ایک خط میں مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کمانڈر کے طور پر سابق آرمی چیف کی غیر آئینی سرگرمیوں  کی تحقیقات کروائیں۔  اس کے برعکس پرویز الہیٰ سابق آرمی چیف کے مداح رہے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں کہتے رہے ہیں کہ جنرل باجوہ   نے ہی درحقیقت عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا تھا ۔اس لئے ان کا احسان فراموش نہیں کرنا چاہئے۔  اب  تحریک انصاف کا چئیرمین جنرل باجوہ کو دشمن سمجھتا ہے اور نیا نویلا صدر پرویز الہیٰ انہیں عمران خان کا محسن قرار دیتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ  کیا باجوہ مخالف بیان بازی   عمران خان کی نورا کشتی کا حصہ تھی؟

تاہم اس معاملہ سے جڑا دوسرا سوال  زیادہ سنگین اور قابل توجہ ہے۔ پاک فوج ’غیر سیاسی‘ ہونے کا اعلان  کرچکی ہے۔  گو کہ یہ اعلان جنرل باجوہ نے سبک دوش ہونے سے پہلے  کیا تھا اور بار بار اس پر اصرار کرتے رہے تھے البتہ جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد سے فوج نے کسی حد تک خود کو  سیاسی منظر نامہ سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔  تاہم اگر پرویز الہیٰ ’اسٹبلشمنٹ‘ ہی کے اشارے پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں تو  اس سے  ملکی سیاست میں  فوجی قیادت کی بدستور دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ صورت حال فوج کے اعلانات اور آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔ ملک میں تمام تر مسائل کے باوجود یہ امید کی جارہی تھی کہ’ عمران پراجیکٹ‘ میں شدید ناکامی کے بعد فوج نے واقعی سبق سیکھ لیا ہے اور اب وہ عوام میں اپنا امیج بہتر بنانے اور  اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں  میں اضافہ  پر توجہ مبذول کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی بساط پر  مہرے چلنے کا کام پھر سے شروع کیا گیا ہے تو یہ ایک سنگین اور جمہوریت دشمن صورت حال ہے۔

قومی سیاسی ضرورتوں اور جمہوری و آئینی انتظام کی کامیابی کے علاوہ    اس حوالے سے  یہ سوال بھی سامنے آئے گا کہ اسٹبلشمنٹ پرویز الہیٰ کو تحریک انصاف میں شامل کرواکے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ کیا   اسٹبلشمنٹ کے کچھ گوشوں میں ایک ناکام تجربہ میں پھر سے جان ڈال کر اسے  ایک نیا موقع دینے کی خواہش انگڑائیاں لے رہی ہے؟ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری یہ  کہہ چکے ہیں کہ اب بھی اسٹبلشمنٹ میں سابقہ فوجی قیادت کی باقیات عمران خان کی حمایت کررہی ہیں۔  یا پھر تحریک انصاف کو مکمل طور سے ’سرکاری‘ پناہ میں لینے اور عمران خان کو نااہل کرواکے   کسی قابل اعتماد لیڈر کے حوالے کرنے کے منصوبے کا ڈول ڈالا گیا ہے؟

اس پہیلی کا کچھ بھی مطلب نکالا جائے لیکن  یہ واضح ہونا چاہئے کہ سیاسی  معاملات میں   اسٹبلشمنٹ کی مداخلت   کی وجہ  سے ہی  اس وقت  ملک تباہی کے کنارے تک آپہنچا ہے۔ اب بھی یہ سلسلہ بند نہ ہؤا تو جمہوریت ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لئے بھی  خطرات میں اضافہ ہوگا۔  ملک میں پیدا ہونے والی  سیاسی  منافرت اور گروہ  بندی  صرف سیاسی عمل  سے ہی کم ہوسکتی ہے لیکن اگر ’پولیٹیکل  انجینئرنگ ‘ کا عزم جاری رہا تو نفرتوں اور انتشار میں اضافہ کے سوا کچھ  ہاتھ نہیں آئے گا۔