عدلیہ، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • بدھ 22 / فروری / 2023

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ہٹانے کے لئے مبینہ ’بیرونی مداخلت‘ کی تفتیش پر سائفر سے متعلق چیمبر اپیلیں مسترد کردیں۔ انہوں نے کہا جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے۔ عدلیہ، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

بیرونی سازش سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر اپیل پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان چیمبر سماعت کی۔ اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ، سید طارق بدر اور نعیم الحسن نے دائر کی تھیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے اپیلیں اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کر دی تھیں۔ درخواست گزاروں نے رجسٹرار آفس کے اعترضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھیں۔ پی ٹی آئی نے بیرونی سازش سائفر کے ذریعے حکومت ختم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اپیلوں میں میموگیٹ طرز کے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کے ذریعے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے پیچھے مبینہ ’بیرونی سازش‘ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کر دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان چیمبر سماعت کرنے کے بعد اپیلیں مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ حکومت اگر چاہے تو دنیا بھر کے سائفر پبلک کر سکتی ہے، کوئی دوسرا ایسا کرے گا تو سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔ وزیر اعظم اپنے اختیارات استعمال کرکے دنیا سے تعلقات ختم بھی کر سکتے ہیں۔ اگر کوٸی وزیراعظم بننے کا بھی اہل نہیں تو اس کا بھی حل ہے۔ جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے، جوڈیشری ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے سائفر پر تحقیقات کے لیے چیمبر اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل 24 جنوری کو سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود نے چیمبر اپیلیں سننے سے معذرت کی تھی۔ جج نے سائفر تحقیقات کے لیے دائر اپیلیں واپس چیف جسٹس کو بھجوا دی تھیں۔

سائفر کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ تاہم رجسڑار آفس نے درخواستوں پر مختلف اعتراضات عائد کر کے انہیں واپس کردیا تھا۔ 21 جنوری کو‏ ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ اور سید طارق بدر اور ایڈووکیٹ نعیم الحسن نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ میں درخواستوں سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خطوط لکھے تھے، جس میں ان سے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کی تحقیقات کے لیے پبلک انکوائری اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ چیف جسٹس اور صدر کے پاس اس مراسلے کی کاپیاں ہیں جو اس وقت کے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے دی تھیں۔ خطوط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کا خیال تھا کہ مراسلے کے مندرجات ’وزیر اعظم عمران خان‘ کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکومت کی تبدیلی کی سازش کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

چیف جسٹس اور صدر مملکت کے لکھے گئے خطوط میں اس وقت کی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی وفاداری بدلنے اور پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کی وفاداری خریدے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ’انجینئرڈ‘ تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں موجودہ حکومتی اتحاد نے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔