ہم کفایت کرنے اور تنگی برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں: وزیراعظم

  • بدھ 22 / فروری / 2023

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت شعاری کے لیے ہمارے مشترکہ اقدام سے غریب شخص کو یہ احساس ضرور ہوگا کہ آج سیاستدان اور بیوروکریٹ صرف دکھانے کے لیے نہیں مگر دل سے کفایت شعاری، سادگی اور تنگی برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم کڑے امتحان اور چیلنج سے گزر رہی ہے اس لیے ہم سب کو مل کر کفایت شعاری کرنی چاہیے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ کفایت شعاری، سادگی، قربانی اور ایثار کے جذبے سے کام لیا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہر دور میں غریب نے قربانی دی ہے۔ غریب مہنگائی میں پسا، بچوں کو ایک وقت کی روٹی دینے پر مجبور ہوا اور غریب شخص عید جیسے مواقع پر دوائی اور دودھ کے پیسوں سے بچوں کے لیے کپڑے خریدنے پر مجبور تھا۔ صاحب حیثیت لوگوں نے یقیناً غریب لوگوں کی مدد میں اپنا حصہ ڈالا ہے مگر یہ سوالیہ نشان ہے کہ کیا سب نے اپنا حصہ ڈالا یا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں رہنے کے بجائے ماضی سے سبق حاصل کرکے آج آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ آج قوم کی توقع ہم سے اور قومی ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ قوم کی نظریں مخلوط حکومت پر ہیں مگر یہ کوئی مذاق نہیں ہے کہ مخلوط حکومت انتہائی مشکل فیصلے کر رہی ہے اور ملک کو اپنی سمت پر لانے کے لیے پوری توانائی سے کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لیے آج عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چاہے کوئی وزیر، مشیر، معاون خصوصی ہے، چاہے کوئی بیوروکریٹ یا حکومتی عہدیدار ہے، ہم سب کو پہلے اس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا پھر ہم اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگوں سے قربانی کی توقع کر سکتے ہیں۔

آج ہمیں چیلنج قبول کرنے کے لیے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ دنیا کو بھی بتائیں کہ پاکستانی قوم توانا قوم ہے اور پاکستانی حکومت ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہر کوشش کرے گی۔ انہوں نے کابینہ کے شرکا سے مخطاب ہوکر کہا کہ یقیناً آج کفایت شعاری کی جو پریزینٹیشن پیش کی جارہی ہے وہ عام آدمی یا یتیم انسان کو خوش نہیں کر سکتی۔ اور نہ ہی اس کے لیے مہنگائی کو کم سکے گی مگر اس کے اندر 75 برس سے ملک میں جو کچھ ہوتا رہا اس سے اس کا غصہ کم ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے مشترکہ اقدام سے غریب شخص یہ احساس ضرور ہوگا کہ آج سیاستدان اور بیوروکریٹ صرف دکھانے کے لیے نہیں مگر دل سے کفایت شعاری، سادگی اور تنگی برداش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ غریب آدمی کی تنگی یہ کہ اس کے پاس سو روپے ہو اور اسے یہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ اپنی بیمار ماں کے لیے دوائی لے یا بچوں کی کتابیں خریدے۔ اس تناظر میں ہمارے لیے تنگی یہ ہوگی کہ اگر ہمیں سرکاری طور پر باہر جانے کے لیے فرسٹ کلاس یا بزنس کلاس سفر کی اجازت ہے تو ہمیں اگر اکانومی کلاس میں جانا پڑے گا تو اسے ترجیح دیں گے لیکن غریب کو درپیش تنگی اور اس کا کوئی موازنہ نہیں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج وقت ہے کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اللہ اور پاکستان کے نام پر کفایت شعاری کرکے دکھائیں۔

واضح رہے کہ 21 فروری کو قومی اسمبلی نے عالمی مالیاتی ادارہ کی شرط پر پیش کیا گیا ضمنی مالیاتی بل منظور ہونے کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ وزیر اعظم حکومتی اخراجات میں واضح کمی کا جامع پروگرام ایوان میں پیش کریں گے۔