مقبوضہ کشمیر میں عصمت دری کے واقعات
- تحریر اطہر مسعود وانی
- بدھ 22 / فروری / 2023
مقبوضہ کشمیر میں مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل سے انکار پر بھارتی ہٹ دھرمی اور دھونس کی صورتحال میں کشمیریوں کی سیاسی اور عسکری جدوجہد 1988میں تیز تر ہوئی۔
گزشتہ 35سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی فوروسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے اور کشمیری فریڈم فائٹرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف فوج کے قتل وغارت گری سمیت ہر طرح کے ظلم و ستم کا حربہ استعمال کر نے کے باوجود کشمیریوں کے عزم آزادی کو دبانے میں اب تک ناکام چلا آ رہاہے۔
بھار ت نے کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کے لئے خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی حربے کے طو ر پر استعمال کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری خواتین کی عصمت دری کے ہزاروں واقعات پیش آئے ہیں جن میں اجتماعی عصمت دری کے کئی واقعات بھی شامل ہیں۔ سرینگر میں شال ٹینگ کے قریب ایک بارات کو بھارتی فوج نے روک لیا اور دلہن کو گاڑی سے اتار کر نزدیکی فوجی پکٹ میں لے جا کر اس کی عصمت دری کی گئی۔ اسی طرح بارات کو راستے میں روک کر دلہنوں کی عصمت دری کے مزید واقعات بھی ریکارڈ پہ موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیریوں کے خلاف عصمت دری کے بدترین عمل کو جنونیت کے انداز میں ایک جنگی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
13فروری1991 کو بھارتی فوج کی 4 راجپوتانہ رائفلز نے ضلع کپواڑہ کے دو گائوں کنن اور پوش پورہ کو گھیرے میں لینے کے بعد تمام آبادی کو گھروں سے نکال کر مردوں اور خواتین کو الگ الگ کر دیا۔ مردوں کو بندوق کی نوک پر ایک جگہ جمع کرنے کے بعد بھارتی فوجیوں نے ان پر شدید تشدد کیا ۔عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فوجی شراب کے نشے میں دھت تھے اور وہ نعرے لگاتے ہوئے سب کو مار دینے کی باتیں کر رہے تھے۔ اس کے بعد بھارتی فوجیوں نے کنن اور پوش پارہ نامی دیہاتوں کی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کا بھیانک عمل شروع کر دیا اور اس دوران دس سال کی معصوم بچی سمیت 70سالہ خاتون کی بھی عصمت دری کی گئی۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کنن اور پوش پورہ نامی دیہاتوں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری کی شکار خواتین کی تعداد 150 بتائی جاتی ہے۔ جبکہ دو سو سے زائد مرد بھارتی فوجیوں کے تشدد سے شدید زخمی ہوئے۔ اس اندوہناک واقعہ کے منظر عام پہ آتے ہی دنیا بھر میں بھارت کی شدید مذمت سامنے آئی اور بھارت کو عالمی سطح پہ سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی کوشش سے عصت دری کا شکار 23خواتین کے کیس عدالت میں پیش کئے گئے لیکن سالہا سال گزرنے کے باوجود اس مقدمے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس سے ایک بار پھر واضح ہوا کہ بھارتی عدلیہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی فورسز کے غیر انسانی سلوک کی صورتحال میں انصاف کرنے کے بجائے بھارتی حکومت کے لئے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہی ہے۔
عالمی دباؤ کی صورتحال میں کنن اور پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں درجنوں خواتین کے عصمت دری کے واقعہ کے دو ہفتے بعد 8 مارچ کو اس واقعہ کی تریہگام پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی اورمارچ کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مفتی بہاالدین فاروقی کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ وفد نے کنن اور پوش پورہ کا دورہ کرکے انسانیت سوز واقعہ کی تفصیلات جمع کیں۔ ہائیکورٹ وفد نے53خواتین کے انٹرویو کئے اور سب نے بھارتی فوجیوں کے خلاف عصمت دری کی تصدیق کی۔ آزاد ذرائع کے مطابق کنن اور پوش پورہ کے دیہاتوں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری کی شکار لڑکیوں، خواتین کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ کنن اور پوش پورہ کے لوگ تیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باجود آج بھی صدمے کی حالت میں ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ کے محکمہ خارجہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق پر اپنی 1992 کی رپورٹ میں کہا ہے کہ باھرتی فوج کی زیادتی کے معتبر ثبوت موجود ہیں۔
انسانی حقوق کی ایک مقامی تنظیم کی رپور ٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے 1989 سے 2020 کے درمیان 11224 خواتین کی عصمت دری کی جن میں 11 سال سے کم عمر اور 60 سال کی خواتین بھی شامل تھیں۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کئی انسانیت سوز کالے قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔ ایسے ہی ایک قانون افسپا کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کو کشمیریوں کے خلاف قتل و غارت گری، تشدد سمیت ہر طرح کی کارروائیوں میں کسی تادیبی کاروائی سے مکمل استثنا حاصل ہے۔ یعنی ان کے خلاف کشمیریوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جرم پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی فوجی شہری علاقوں، دیہاتوں کا گھیراؤ کرنے کے بعد مردوں کو گھروں سے نکال کر ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور پھر گھروں میں تلاشی کے بہانے توڑپھوڑ اور خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ اکثر واقعات میں خواتین کی عصمت دری کے واقعہ کا نشانہ بننے والی لڑکیاں ، خواتین بھارتی فوجیوں کی طرف سے جان کے خوف سے عصمت دری کے واقعات چھپاتی بھی ہیں اور اگر چھپائے جانے واقعات کو بھی شامل کیا جائے تو عصمت دری کے ریکارڈ واقعات کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز انسداد بغاوت کی کارروائیوں کے دوران عصمت دری کو سزا دینے، ڈرانے اور کمیونٹیز کی تذلیل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔
بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق قانون کے تحت جنسی تشدد کو کنٹرول کرنے والی شقوں کی بھارت مقبوضہ کشمیر میں کھلے عام خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے 1949 کے جنیوا کنونشنز کی توثیق کی ہے جو مشترکہ آرٹیکل 3 حکومت اور عسکریت پسند قوتوں دونوں کی طرف سے غیر جنگجوں کے قتل، تشدد اور ناروا سلوک کو منع کرتا ہے۔ جنیوا کنونشن خواتین کی عزت پر ہونے والے کسی بھی حملے، بالخصوص عصمت دری، جبری عصمت فروشی یا کسی بھی قسم کے غیر اخلاقی حملے کے خلاف خاص طور پر تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ذاتی وقار پر حملے، ذلت آمیز سلوک، عصمت دری، جبری جسم فروشی کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری کے واقعات بڑی تعداد میں ریکارڈ پہ موجود ہیں۔ ایشیا واچ اور انسانی حقوق کی ایک دوسری تنظیم پی ایچ آر نے بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری کے 15 انفرادی واقعات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا۔ ایشیا واچ اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے خواتین کی عصمت دری کے بعد معائینہ کرنے والے سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں سے تفصیلات اکٹھی کیں۔ میڈیکل معائنے میں ان سب واقعات کی تصدیق ہوئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں یہ بھی بتایا کہ گھروں میں داخل ہو کر لڑکیوں، خواتین کی عصمت دری کرنے والے کئی بھارتی فوجیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کا افسران نے حکم دیا تھا۔ ایشیا واچ اور پی ایچ آر کی جانب سے حکومت سے معلومات کے لیے درخواستوں کے جواب میں حکام نے بتایا ہے کہ آرمی یونٹنے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔
سینئر حکومتی عہدیداروں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ تلاشی لی گئی۔ روزنامہ کشمیر ٹائمز کے مطابق 14 اکتوبر 1992 کو شوپیاں میں پولیس نے بی ایس ایف کے خلاف 13 اکتوبر کو گینگ ریپ کا مجرمانہ مقدمہ درج کیا گیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا ٹو ایشیا واچ/پی ایچ آر نے کہا کہ کیس کرائم برانچ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی خصوصی تفتیشی شاخ اپریل 1993 تک، حکومت نے نتائج کو عام نہیں کیا۔ اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا دینے کے لیے کوئی کارروائی کی گئی۔