مہان انڈین دانشور جاوید اختر کی لاہور یاترا
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 22 / فروری / 2023
محترم جاوید اختر کا نام آتے ہی ہمارے ذہن کی سکرین پر انڈین فلم انڈسٹری کی ادبی چاشنی بھری کئی کہانیاں گھوم جاتی ہیں۔ کئی خوبصورت مکالمے اور گیت ذہنی کینوس پر ابھرنے لگتے ہیں۔
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، ایک بلند پایہ رائٹر ،ادیب، شاعر یا گیت نگار ،سکرین پلے رائٹر، فلم ڈائریکٹر ، کثیر الجہتی صلاحیتوں کے مالک جاوید اختر فلم کے ساتھ ساتھ ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیت کی پہچان رکھتے ہیں۔ بھارتیہ راجیہ سبھا کے ممبر رہے ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر وہ اتنے پیارے انسان ہیں جس کا سینہ انسانیت کی محبت سے سرشار ہے۔ ان کی وسعت نگاہی میں نہ کوئی علاقائی تعصب ہے اور نہ مذہبی ، نسلی یا لسانی، وہ دنیا بھر کے تمام مذاہب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ سیکولر لبرل نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔ عقل و شعور اور استدلال کی پھلجہڑیاں بکھیرتے ہیں۔ ان کی محفل میں بیٹھیں تو جی چاہتا ہے وقت رک جائے لیکن ان کی منطقی و علمی باتیں ختم نہ ہونے پائیں ۔
اصل مدعا پر آنے سے قبل بہتر ہوگا ایک طائرانہ نظر ان کی ابتدائی زندگی پر ڈال لی جائے 17جنوری 1945 کو ان کی پیدائش اگرچہ گوالیار مدھیہ پردیش کی ہے لیکن ان کے بچپن اور نو عمری کا زیادہ عرصہ اتر پردیش کے کیپٹل معروف رومانوی شہرلکھنو میں بسر ہوا۔ تعلیم لکھنو کے علاوہ بھوپال اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ان کے ددھیال اور ننہال دونوں علمی و ادبی پہچان سے مالا مال تھے۔ ان کے و الد جان نثار اختر اردو زبان کے معروف شاعر تھے جنہوں نے انڈین فلموں کیلئے بہت سے گیت لکھے۔ ان کے دادا مضطر خیر آبادی بھی اپنے دور کے معروف شاعر تھے۔ علامہ فضل حق خیر آبادی کے نام نامی اسم گرامی سے متحدہ ہندوستان کی تاریخ کا کون سا پڑھا لکھا فرد ہو گا جو آگہی نہ رکھتا ہو۔ ان کی جدوجہد اور اس کی پاداش میں خاک بھی کہاں محو استراحت ہے سب کے سامنے ہے اور پھر غالب سے تعلق داری اور دیوان غالب کی تدوین میں ان کا رول ادبی تاریخ کا حصہ ہے وہ دادا کے دادا تھے۔ لیکن جاوید اختر نے ہمیشہ جس طرح پنجابی میں کہتے ہیں کہ اپنی بال کے سیکی ہے، کبھی بڑوں کے ناموں کو بیچا نہ ان پر اترائے اپنے ماموں مجاز سے بھی اصلاح لی ذریعہ تفاخر نہیں بنایا۔ والدہ صفیہ اختر بھی ادبی شغف رکھتی تھیں مگر اپنے لاڈلے کو چھوڑ کر جلد ہی راہی ملک عدم ہوئیں یوں جاویداختر جن کا نام والد محترم نے اپنے ایک شعر کی مناسبت سے ’’جادو‘‘ رکھ دیا تھا اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے یا قسمت کا کھیل رچانے سترہ اٹھارہ برس کی عمر میں ہی ممبئی کی جادو نگری جا پہنچے۔
جہاں انہوں نے غربت و تنگ دستی کو اتنے قریب سے دیکھا کہ آج ہر کوئی ان کی زبان سے جدوجہد اور محنت کی وہ د استان سننا چاہتا ہے اور وہ انہیں بیان کرتے ہوئے کوئی عار محسوس کرتے ہیں نہ تعلی۔ کباڑیے سے کتابیں لیتے اور کمال امروہی کے کمالستان میں بیٹھے سب پی جاتے ۔ کیا خوب فرماتے ہیں چائس تو گریٹ بدھا کے پاس تھی جن کے ایک طرف راج نیتی یا حکمرانی تھی جسے تج کر وہ جنگل میں آگئے جبکہ ہمارے تو ہر دو اطراف جنگل ہی جنگل تھا، کوئی چائس نہ تھی لیکن درویش ان کی خدمت میں عرض گزار ہے کہ اپنی تپسیا وریاضت سے آج وہ جنگل سے نکل کر ہم سب کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ اپنی اس لگن اور جدوجہد میں ایک حقیقت انہوں نے اپنوں بیگانوں سب پر واضح کر دی کہ غموں کا دور بھی آئے تو مسکرا کے جیو یا یہ کہ سچی لگن ہو تو پربت بھی دھول ہے۔شاید یہیں سے وہ ’’لاوا‘‘ پھوٹا جو بعدازاں ان کیلئے ’’ترکش‘‘ ثابت ہوا۔ ان کی شادی اداکارہ ہنی ایرانی سے ہوئی یوں دو خوبصورت بچے فرہان اختر اور زویا اختر ان کے دل کی راحت بنے۔ مگر بوجوہ وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ممکن دکھائی نہ دیا، اسے ایک خوبصورت موڑ دیتے ہوئے پورے وقار اور احترام کےساتھ اختتام پذیر کر دیا۔
یوں 1984میں معروف شاعر کیفی اعظمی کے گھرانے سے ان کا تعلق استوار ہوا اور شبانہ اعظمی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گئیں، جن کے حوالے سے لاہور میں ان سے سوال ہوا تو کیا خوب جواب دیا وہ محبت کیا ہے جس میں دوستی نہ ہو اور وہ دوستی کیا ہے جس میں عزت نہ ہو اور وہ عزت کیا ہے جس میں دوسرے کیلئے اختیار نہ ہو۔ اور یہ تو ایسی دوستی و محبت ہے ، شادی بھی جس کا کچھ نہیں بگاڑ سکی ۔ کہا جاتا ہے کہ فلمی کامیابی میں ان کی سلیم خاں (سلمان خان کے والد) سے جوڑی باعث برکت رہی اور شاید وہ پہلا موقع تھا جب درویش کو فلم شعلے کے مکالموں سے جاوید اختر سے اپنائیت ہوئی۔ زنجیر، یادوں کی بارات، ہاتھ کی صفائی، دیوار، مسٹر انڈیا بھی شاید اسی جوڑی کے کمالات تھے بہرحال آج انڈین فلم انڈسٹری میں کون ہے جو ان کا احترام نہیں کرتا۔ اپنے فلمی گیتوں پر وہ پانچ ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں ، پدما شری، پدما بھوشن اور پھر رچرڈ ڈاکنزایوارڈ…. اگر انہی باتوں پر رہے تو اصل مدعا بیان کرنے کیلئے گنجائش نہیں رہے گی۔
جناب جاوید اختر محض تین روزہ یاترا پر فیض میلے میں شرکت کیلئے لاہور تشریف لائے تو الحمرا کا وسیع ہال ان کے چاہنے والوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تنگ محسوس ہو رہا تھا ۔ سیڑھیوں پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور درویش نے ایسا والہانہ استقبال اس ہال میں شاید ہی کبھی کسی کا دیکھا ہو۔ ان کے ایک ایک بول پر پورا ہال تالیوں اور لاہوریوں کی محبتوں سے گونج رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ زندہ دلان لاہور شاید محض جاوید اختر کیلئے ہی نہیں پورے ہندوستان سے محبت کیلئے اپنا سینہ کشادہ کئے ہوئے ہیں۔ اور جاوید اختر تو شاید اس محبت و د وستی کا پل باندھنے لاہور تشریف لائے ہیں۔ انہیں اس کا ادراک بھی تھا۔ اپنے اس سفر کو انتہائی خوشگوار قرار دیتے ہوئے بولے یہ تو طے ہے کہ لاہور میں نہایت عمدہ لوگ ملتے ہیں، خوبصورت محفلیں ہوتی ہیں، فیض میلے میں محض تین دن کیلئے آیا ہوں جن سے میرا کام نہیں چلتا۔ جب لوگ اچھے لگنے لگے تو دن ختم ، آئندہ پورے ہفتے کیلئے آؤں گا۔ ہال میں فرمائش کی گئی کہ اگلے برس فرہان اور زویا کے ساتھ شبانہ اعظمی کو بھی ساتھ لائیے گا۔
ان محبتوں کے ساتھ انہوں نے اہل لاہور سے ایک شکوہ بھی کیا تعصب کی عینک اتار کر سچائی کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ البتہ اگر کٹ حجتی کرنی ہو تو حیلے جو مرضی گھڑ لیں۔ یہ کہ ہم ہندوستانیوں نے مہدی حسن اور نصرت فتح علی خان کیلئے اتنے بڑے بڑے فنکشن کئے ہیں لیکن آپ لوگوں نے لتا منگیشکر کا یہاں کبھی کوئی فنکشن نہیں کیا۔ ہم ممبئی کے لوگ ہیں 26نومبر کو وہاں جو کچھ ہوا اس کے مرتکب ناروے یا مصر سے نہیں آئے تھے، یہیں کہیں گھوم پھر رہے ہون گے۔ اس پر اگر کسی انڈین کو شکایت ہو تو آپ لوگوں کو برا نہیں ماننا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ اس مہان انڈین دانشور کی یہ سچائی و تلخ نوائی ہمارے کچھ نظریاتی افسانوں میں رہنے والوں کو ناپسند ہوئی ہو مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہال میں موجود اہل لاہور نے اس سچائی تلخ نوائی یا حقیقت بیانی پر انہیں کھل کر داد دی، جس پر وہ یہ اظہار خیال فرماسکتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ جو بھی سکیمیں بناتی ہے، دونوں خطوں کے عوام پلانٹڈ منافرت کوبڑی حد تک پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ وہ شدت پسندی والے سیم پیج پر نہیں ہیں۔ وہ امن بھائی چارہ اور دوستی چاہتے ہیں جس کا ذکر کرتے ہوئے جاوید اختر صاحب بول رہے تھے کہ عصر حاضر میں ممالک نہیں خطے مل جل کرترقی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے متحدہ یورپ، سنٹرل ایشیا اور امریکہ کی مثالیں بھی پیش فرمائیں۔ یہ بھی کہا کہ عوام باہم جتنی مرضی محبت رکھتے ہوں لیکن اصل طاقتوروں کو اگر یہ گوارا یا منظور نہ ہو تو کوئی ایک ایسا واقعہ کر دیا جاتا ہے جو سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دے۔
کمیونیکیشن گیپ کی وجہ سے ہر دو اطراف بڑی غلط فہمیاں ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے رہن سہن یا کلچر کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ آپ کے ٹی وی سیریل جب بھارت میں بہت پاپولر ہوئے تب کی بات ہے ایک فلم ڈائریکٹر میرے پاس آئے، کوئی پاکستانی ڈرامہ سیریل دیکھی تو پوچھنے لگے کیا پاکستان میں بھی سڑکیں ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی ہماری ہیں تو میں نے کہا ہاں مگر وہ سیدھی جنت کو جاتی ہیں۔ ہماری ممبئی فلم انڈسٹری کا ماحول پہلے دن سے لبرل سیکولر رہا ہے جسے آپ بنیاد پرستی کا مخالف کہہ سکتے ہیں۔ اگر یہ اتھیسٹ نہیں تو بھی اگناسٹک ضرور ہے۔ یہاں لاہور میں جو کچھ میں نے دیکھا یا جن لوگوں سے ملا ان میں ایسی کوئی شدت پسندی نہیں۔ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ شاید وہاں سبھی خواتین برقعوں میں لپٹی ہوئی ہون گی۔ یہاں پورے ہال میں کوئی ایک خاتون بھی برقعے میں نظر نہیں آئی۔ وہ ایسے ہی تھیں جیسے دہلی ممبئی اور بنگلور میں ہیں۔ عوام ایک دوسرے سے منافرت نہیں رکھتے ہیں۔ ادھر اگر ایسی منافرت سکھائی یا پڑھائی جاتی ہے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کا کیا دھرا ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ اس سلسلے میں اپنی اسٹیبلشمنٹ پر پریشر ڈالے رکھیں۔
اردو زبان کے حوالے سے بھی انہوں نے لاہور کے الحمرا ہال میں کھل کر اظہار خیال کیا اور کہا کہ میری مادری زبان اردو ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ لیکن اگر کوئی آپ کو یہ کہتا ہے کہ انگریزی نہ پڑھو تو وہ آپ کا دوست نہیں دشمن ہے۔ ماں بولی جڑ ہے تو دیگر زبانیں پھل پھول ہیں۔ زبانیں بالعموم مذہبی استھانوں سے نمو پا کر باہر نکلتی رہی ہیں جبکہ اردو کا معاملہ مختلف رہا ہے۔ اردو کوپہلے دن سے سیکولر زبان قرار دیتے ہوئے انہوں نے ٹو نیشن تھیوری کی بڑی خوبصورتی سے خبر گیری کی۔ ایک طرف مہا رانا پرتاب اور شیوا جی کے گن تھے تو دوسری طرف محمود غزنوی ایاز کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ یہ دہلی ویسٹرن، یوپی اورہریانہ کی کھڑی بولی تھی۔ جناب جاوید اختر نے ساڑھے سات سو برس قبل اردو کی اٹھان امیر خسرو کو قرار دیا جنہوں نے ہندی کو فارسی رسم والخط میں لکھنا شروع کیا تو اردو کا جنم ہو گیا جس کی اوریجن ہندی ہی تھی۔
1798 میں شاہ عبدالقادر نے جب پہلی مرتبہ اس زبان میں کلام مقدس کا ترجمہ کیا تو اس پر جو ردعمل ہوا اور اس زبان کو جو منفی القابات دیے گئے مہان انڈین دانشور نے اس کی افسوسناک تفصیلات بھی بیان کیں۔ تب یہ تک کہہ دیا گیا کہ آپ نے کتاب مقدس کا ترجمہ ایک جاہلانہ ، کافرانہ اور جہنمی زبان میں کیوں کر دیا ہے۔ اردو کے بڑے رائٹر کا خوبصورت استدلال تھا کہ آج سے دو تین سو برس قبل اس زبان میں جو اشعار کہے گئے تھے اس قدر لبرل سیکولر شاعری اگر کوئی آج یہاں کرے تو شاید سڑک پر ہی دھرلیا جائے۔ یا چاقو مار دیا جائے۔ بہرحال باتیں تو بہت ساری ہیں جو من کرتا ہے بیان کرتے جائیں اور سر دھنتے جائیں۔ تمنا تھی ان سے تفصیلی انٹرویو کرنے کی، افسوس جوپوری نہ ہوسکی۔