2002 سے توشہ خانہ تحائف خریدنے والوں کا ریکارڈ ویب سائٹ پر فراہم کرنے کا فیصلہ

  • جمعرات 23 / فروری / 2023

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ 2002 سے توشہ خانہ تحائف خریدنے والوں کا ریکارڈ ویب سائٹ پر فراہم کردیا جائے گا۔

حکومت کی طرف سے یہ بات لاہور ہائی کورٹ میں 1947 سے اب تک توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے دائر درخواست کے دوران کہی گئی۔  گزشتہ سماعت پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے سیل شدہ ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ توشہ خانہ کے ریکارڈ کو پبلک کر نے کے بارے میں آئندہ وفاقی کابینہ اجلاس میں فیصلہ ہونا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کابینہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا فیصلہ اس کو پبلک کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران سنگل رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ درخواست شہری منیر احمد نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے دسمبر 2022 میں دائر کی تھی۔ جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے دیے گئے تحائف اور جن اشخاص کو تحفے دیے گئے ان کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ دوران سماعت وفاقی کابینہ کے سیکریٹری اعزاز ڈار توشہ خانہ ریکارڈ سمیت لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ نے 2002 سے اب تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کر دیا ہے۔ یہ سارا ریکارڈ ہم ویب سائٹ پر ڈال دیں گے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ 2002 سے پہلے کا ریکارڈ آپ کے پاس نہیں ہے جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ 2002 سے پہلے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ہم یہ ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کر رہے ہیں کہ یہ تحائف کس نے خریدے، ہم وہ ریکارڈ نہیں دے رہے کہ بیرون ملک سے یہ تحائف دیے کس نے تھے۔

عدالت نے حکم دیا کہ کابینہ سیکریٹری 2002 سے پہلے کا توشہ خانہ کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں۔ یہ ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں کہ یہ تحائف آئے کہاں سے ہیں، آپ یہ ریکارڈ بھی ہمیں چیمبر میں جمع کرائیں گے۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اپنایا کہ حکومت کو سارا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھنا چاہیے۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ایک دم سے چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ 2023 میں حکومت نے ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ گزشتہ سماعت پر وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا سیل شدہ ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا تھا۔ کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے توشہ خانہ سربراہ کو بیان حلفی کے ساتھ طلب کیا تھا۔