صدارتی حکم نامہ برائے الیکشن
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- جمعرات 23 / فروری / 2023
صدر مملکت عارف علوی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 9اپریل 2023کو اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کا حکم نامہ جاری کرکے معاشی و سیاسی مشکلات میں پہلے سے ہی گِھرے ہوئے ملک پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران کا شکار کر دیا ہے۔
صدر نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57 ون کے تحت حکم جاری کیا ہے جبکہ اسی سیکشن کی کلاز2 کے تحت الیکشن کمیشن کو الیکشن پروگرام جاری کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حکم پر عملدرآمد کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو مشاورت کے لئے خط لکھا تھا لیکن کمیشن نے صدر کے ساتھ اس موضوع پر مشاورتی اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی اور کہا کہ آئین کے مطابق مشاورت کا عمل جاری ہے۔ الیکشن کمیشن 90روز میں انتخابات کرانے کے حوالے سے پہلے ہی بہت سی رکاوٹوں کا ذکر کر چکا ہے۔ انتخابات منعقد کرانے کے لئے درکار مالی وسائل، سیکیورٹی اور عدلیہ کی طرف سے ریٹرننگ آفیسرز کی عدم دستیابی کے باعث انتخابات کیسے ممکن ہوں گے؟ اس پر کسی نے نہیں سوچا۔ خزانہ خالی ہے، پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اپوزیشن والے تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عملاً پاکستان ڈیفالٹ کر چکا ہے صرف اعلان ہونا باقی ہے۔
پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا اعلان سب سے پہلے عمران خان کے نامزد کردہ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کیا تھا وہ کیونکہ اعداد و شمار کے جادوگر سمجھے جاتے ہیں اِس لئے جب وہ عمران خان کے دور حکومت میں ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر حکومت سے باہر نکلے اور میڈیا کی آنکھ کا تارا بنے تو اُنہوں نے قومی معیشت کی زبوں حالی کا برملا اظہار کرنا شروع کیا ۔اور بالآخر پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبر دے ڈالی وہ ابھی تک اپنے اِسی موقف پر قائم ہیں ۔جبکہ پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے والوں میں مفتاح اسماعیل اور خواجہ آصف بھی شامل ہو چکے ہیں۔ چلیں مفتاح اسماعیل تو شاید ذاتی رنجش کی بنیاد پر بھی ایسا کہہ رہے ہوں گے لیکن خواجہ آصف تو حکومت میں اہم وزارت سنبھالے ہوئے ہیں وہ بھی برملا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے۔
دوسری طرف گزرے 10مہینوں سے عمران خان اور ان کے ہمنوا پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی ”خواہش“ کا شکار نظر آ رہے ہیں، ویسے عمران خان و دیگر کی خواہش نہ بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ ہم دیوالیہ پن تک جا پہنچے ہیں۔ عالمی مالیاتی و زرعی ادارے ہمیں دیوالیہ ہی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اگر ہمارے ساتھ معاہدہ کرنے میں تاخیر کی تو بدخواہوں کی خواہشیں، خیر بھی بن سکتی ہیں۔ بہرحال ہمارا سیاسی و معاشی نظام اللہ کے حوالے ہو چکا ہے۔ فریقین ایک دوسرے کو صرف نیچا ہی دکھانے کی کاوشوں میں مصروف نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ عمران خان 10اپریل 2022کو حکومت سے باہر نکالے گئے تھے اُنہوں نے اِس دن سے ہنوز، ایک دن بلکہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا کہ جس میں وہ حکومت کو نیست و نابود کرنے کی حکمت عملی پر گامزن نہ رہے ہوں۔ اُنہوں نے اپنی تمام قوت اِسی سمت میں لگائی ہوئی ہے اور وہ بڑی کامیابی سے اپنی منزل مطلوب کی طرف بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔
آج یہ اِنہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ملک خوفناک قسم کے آئینی بحران کا شکار ہو چکا ہے اُنہوں نے صدر کے آفس کو پارٹی آفس کے طور پر استعمال کرکے ثابت کر دیا ہے کہ عارف علوی اور مملکت نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے ادنیٰ کارکن اور عمران خان کے سہولت کار ہیں۔ اُنہوں نے بطور صدر مملکت جو حکم نامہ جاری کیا ہے، اِس کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے ان کی اپنی ہے جو اُنہوں نے حکم نامے میں دی ہے اِس رائے کو ماننے والے بھی موجود ہیں۔ بلکہ عمران خان اور ہمنواؤں کا ایک جتھہ ہے جو صدارتی حکم نامے کے فیوض و برکات بیان کر رہا ہے اور الیکشنوں کو ہی تمام مسائل کا حل گردان رہا ہے۔ جبکہ معاملات کو سنجیدگی سے جانچنے، پرکھنے اور سمجھنے والوں کی رائے اِس کے برعکس ہے وہ اِسے غیر آئینی حکم نامہ قرار دے رہے ہیں لیکن ایک بات بڑی واضح ہے کہ دو آئینی ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو چکے ہیں۔
عمران خان الیکشن کمیشن پر بداعتمادی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمیشن کو مسلم لیگ کا ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ صدر مملکت کے حکم نامے کے اجراکے ذریعے اُنہوں نے الیکشن کمیشن پر بھرپور وار کر دیا ہے اب الیکشن کمیشن کی باری ہے کہ وہ کس طرح اس حملے کا دفاع کرتا ہے لیکن بادی النظر میں عمران خان کی حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ہر ادارے کی بے توقیری، اِن کی حکمت عملی کا بنیادی پتھر رہی ہے، محور و مرکز رہی ہے، اِس سے پہلے وہ فوج کو اتنا بے توقیر کر چکے ہیں کہ وہ آیا پولیٹیکل ہونے پر مجبور ہو چکی ہے۔ عمران خان فوج کے سیاست میں اِس مبینہ کردار پر شاکی ہیں جس کے ذریعے اُنہیں حکومت سے رخصت ہونا پڑا لیکن اس سے پہلے 2018 میں اُنہیں اقتدار میں لانے کے لئے اور نوازشریف کو سیاست سے خارج کرنے کے لئے فوج نے جو کردار ادا کیا اِس پر وہ تحسین کے ڈونگرے بجاتے پائے جا چکے ہیں ۔لیکن جنرل باجوہ کے بعد وہ ایک بار پھر فوج کے ساتھ محبت کی پینگیں دراز کرنے کی ناکام کاوشیں کر چکے ہیں۔
جاری حالات عمران خان کی حکمت عملی کے موافق نظر آ رہے ہیں کیونکہ معاشی مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں سیاست میں عمران خان غدر مچائے ہوئے ہیں۔ صدارتی حکم نامے کے ذریعے اُنہوں نے ایک بڑا محاذ کھول دیا ہے۔ کمزور حکومت عوام میں پہلے ہی غیر مقبول ہے ،بے یقینی کے بڑھنے سے معاملات اور بھی دگرگوں ہوں گے۔ یہی عمران خان چاہتے ہیں اور یہی اِن کی کامیابی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)