پاکستان کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات مزید مضبوط کرنے کیلئے پُرعزم ہیں: امریکہ

  • جمعہ 24 / فروری / 2023

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے مضبوط تجارتی تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں یہ ریمارکس دیے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ  امریکہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات ماضی کی نسبت زیادہ اہم ہیں کیونکہ وہ تباہ کن سیلاب کے اثرات سے نکل رہا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو مزید وسعت دینے کی گنجائش موجود ہے جن میں توانائی، زرعی آلات و مصنوعات، فرنچائزنگ، ریٹیل تجارت اور اطلاعات و رابطہ کاری کی ٹیکنالوجی کے لیے استعمال ہونے والے آلات خصوصی طور پر شامل ہیں۔ پاکستان میں امریکا کے کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے سرمایہ کاری کا موقع فراہم کر رہا ہے اور ہماری پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری میں ایک سال میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ ہے اور امریکی کارپوریشنز نے 2019 سے پاکستان میں ایک ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اور ان سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں پاکستان میں زیادہ ملازمتیں دینے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ امریکا کی تقریباً 80 کمپنیاں براہ راست ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ملازمت فراہم کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ وزیر تجارت سید نوید قمر پاک امریکا ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگری منٹ کے تحت سات برسوں میں بین الحکومتی تجارت اور سرمایہ کاری حکام کے پہلے وزارتی سطح پر ہونے والے اجلاس میں پیش رفت کے خواہاں ہیں۔

دونوں ممالک نے گزشتہ روز پہلا وزارتی سطح کا اجلاس منعقد کیا تھا جس میں نوید قمر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں وسیع تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔

خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے حوالے سے سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا اور پاکستان نے تبادلۂ خیال کیا ہے کہ افغان طالبان کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کو یقینی بنائیں۔ دہشت گرد گروپس افغانستان میں فعال ہو سکتے ہیں لیکن اب وہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔