ناکام ریاست سے کیسے بچا جائے
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 24 / فروری / 2023
پاکستان میں کئی علمی افراد، اہل دانش، سوشل میڈیا اور عام طبقے کا ایک حصہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کررہا ہے۔ ان کے بقول قومی مسائل کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست ناکامی سے دوچار ہے۔
پاکستان کوئی پہلی ریاست نہیں ہے جسے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، بنیادی بات ان مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے ۔ مسائل کو بنیاد بنا کر اگر یہ کہا جائے کہ ہماری ریاست ہی ناکام ہے تو یہ درست سوچ نہیں ہے۔ اگر ہماری توجہ کا مرکز مسائل سے نمٹنے پر ہو، تمام فریق کوئی بہتر راستہ نکالیں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔ ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے کہ ہم اپنی رائے بناتے یا اظہار کرتے ہوئے انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
اس سخت گیر موقف میں بلاوجہ مایوسی کی جو جھلک نظر آتی ہے وہ ہمیں کچھ نہ کرنے کی طرف مائل کرتی ہے ۔ ہمیں تنقید کرنی چاہیے اور ہونی بھی چاہیے مگر ہماری اس تنقید کا مقصد مسئلہ کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے نہ کہ ہم اس انداز سے اپنا بیانیہ پیش کریں کہ اب اس ملک کو مسائل سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں بچا اور ہم ناکام ریاست میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
ہمیں چند محاذوں پر قومی سطح پر مسائل کا سامنا ہے ۔ اول شفافیت پر مبنی نظام یا آئین اورقانون کی حکمرانی ، دوئم معاشی مضبوط و مربوط نظام جو عام آدمی کے بنیادی معاشی مفادات کو تحفظ دے سکے اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کرسکے، سوئم مضبوط و شفافیت پر مبنی حکمرانی، چہارم ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل اور اداروں کی شفافیت سے فعالیت کو یقینی بنانا ، پنجم ملک میں نگرانی ، جوابدہی اور احتساب کا شفاف نظام جس میں تفریق کا پہلو نہ ہو۔
یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ریاستی نظام کی کامیابی اورساکھ کی کنجی درست راستے کا انتخاب ہے۔ سیاسیات میں اسے عمرانی معاہدہ جوعوام اور ریاست کے مفادات کا تحفظ فراہم کرتا ہو۔ اس لیے جب ہم ریاست کی کامیابی یا اس کو ایک مستحکم ریاست کے طو رپر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاست میں موجود عام لوگوں او ربالخصوص کمزور طبقات کے مقدمہ کو نئی جہت اور طاقت دینا ہوگی۔ لوگوں کو نظرانداز کرکے یا ان کے ساتھ کسی بھی سطح پرتفریق کرکے یا عوامی ترقی کو پس پشت ڈالنے سے ریاستی امور کو مضبوط اور مستحکم نہیں بنایا جا سکتا۔
اس وقت جو ہمیں جو سب سے بڑا چیلنج یہ ہی ہے کہ ہم بطور ریاست لوگوں میں جو مختلف سیاسی ، مذہبی ، لسانی ، علاقائی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہے اس سے کیسے بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ کیونکہ اس تقسیم نے ہمیں ریاستی سطح پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ کمزور بھی کیا ہے۔ اور ان کمزوریوں کو بنیاد بنا کر ہمیں بلاوجہ سیاسی ٹکراؤ، تناؤ، الجھاؤ اور دشمنی جیسے امور میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ہمارا انتظامی ڈھانچہ کئی حوالوں سے بہتر ہے، ہم یہاں ایسے مثبت پہلوؤں کی بھی عکاسی کریں جو بہتری کے تناظر میں یہاں ہورہا ہے ۔
صرف منفی تصویر پیش کرکے ہم کوئی بڑی قومی خدمت نہیں کرسکیں گے اور یہ جو ہمیں ہر معاملے میں سیاسی تصویر دیکھنے کی عادت پڑگئی ہے اس کا نتیجہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ہمیں مشکلات میں ڈال رہا ہے۔ اور ایسے لگتا ہے کہ ہم خود ہی اپنے آپ کو قومی سطح پر ایک بڑے مسئلہ کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔ ہم تنقید ضرور کریں لیکن پاکستان کی مثبت تصویر اور ترقی کے عمل یا امکانات کو بھی مثبت انداز میں پیش کیا جائے۔
پاکستان نے اگر واقعی ایک ناکام ریاست کی بحث سے باہر نکلنا ہے تو ہمیں ریاستی ، حکومتی ، ادارہ جاتی اورمعاشرتی سطح پر ایک ذمے دارانہ سطح کے کردار کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسا کردار جو معاشروں کی منصفانہ بنیادوں پر تشکیل نو کو یقینی بناتا ہے اور لوگوں بالخصوص کمزور لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتا ہے ، ہماری قومی ضرورت بنتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب اپنی اپنی سطح پر آنکھیں کھلی رکھیں اور تمام سطحوں پر نگرانی ، جوابدہی اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنائیں۔
ہمیں آواز اٹھانی ہے کہ ہم ریاستی نظام کی شفافیت چاہتے ہیں اور ذمے داران کو اس عمل میں پابند کرنا چاہتے ہیں کہ وہ مضبوط ریاستی نظام جو لوگوں کے مفادات سے جڑا ہو، کو اپنی ریاستی و سیاسی ترجیحات کا حصہ بنائیں۔ یہ عمل اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی ذاتی ترقی کے ساتھ اجتماعی ترقی یا معاشرے کی ترقی کوبھی اپنے ایجنڈے کا حصہ بنائیں ۔ ہمیں ہر وقت ماتم کرنے یا خود کو ناکام ملک کے طور پر پیش کرنا یا کچھ نہ ہونے کی بحث سے باہر نکل کر وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو معاشرے کی ترقی میں مثبت پہلوؤں کو نمایاں کرسکے ۔
پاکستان کے لوگ میں بحرانوں سے نمٹنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کئی بار کئی بڑے چیلنجز سے ہم نے خوب نمٹا ہے اور بڑی جرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ بھی کیا ہے ۔ اصل مسئلہ اپنے ہی لوگوں پر اعتماد کرنے کا ہے یا ان پر سرمایہ کاری کرنے یا ان کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کی پزیر ائی کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم نے واقعی ان تمام لوگوں کو اپنی طاقت کا محور بنالیا جو ملک میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور جن کے سامنے انفرادی مفاد کے مقابلے میں ریاستی یا معاشرتی مفادات کی اہمیت ہو، وہ ہی اس ریاست کے مجموعی نظام کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
ہمیں مصنوعی لوگوں کے مقابلے میں ایسے لوگوں کی پزیرائی کرنا ہوگی۔ اور ان کو فیصلہ سازی کے عمل میں سامنے لانا ہوگا جو واقعی معاشرے کی ترقی چاہتے ہیں اورعملاً کچھ کرسکتے ہیں ۔