یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف قرارداد، پاکستان کا ووٹنگ سے گریز

  • ہفتہ 25 / فروری / 2023

پاکستان ان 32 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین کے علاقوں پر زبردستی قبضے اور وہاں منصفانہ اور دیرپا امن کے مطالبہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

یوکرین پر روسی حملے کی پہلی برسی سے ایک روز قبل جنرل اسمبلی کے 11ویں ہنگامی اجلاس میں امریکا اور بڑی یورپی طاقتوں سمیت 60 سے زائد ممالک نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ روس کا یوکرین پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس قرارداد کے حق میں 141 اور مخالفت میں 7 ووٹ دیے گئے یوں جنرل اسمبلی نے اسے منظور کرلیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے پاکستان کے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے قرارداد کے مسودے کی حمایت نہیں کی ہے لیکن پاکستان اس قرارداد میں ریاستوں کی خودمختاری، مساوات، علاقائی سالمیت کے اصول کے احترام اور دھمکی یا طاقت کے استعمال سے علاقوں پر قبضہ نہ کرنے جیسے مطالبات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستانی سفیر نے قرارداد میں شامل اس عزم کی توثیق کی کہ طاقت کے استعمال سے ریاستوں کو توڑا نہیں جا سکتا تاہم انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کا عالمی سطح پر اطلاق اور احترام نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر ملکی قبضے اور غیر قانونی اور زبردستی الحاق کی کوشش کے ردعمل میں ان اصولوں کا اطلاق نہیں کیا جارہا۔ ’میرا وفد اس قرارداد کے مسودے میں شامل اصولوں اور عمومی شقوں سے اتفاق کرتا ہے اور اس کی توثیق کرتا ہے لیکن کچھ شقیں ایسی ہیں جو چند امور پر پاکستان کے اصولی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتیں‘۔

منیر اکرم نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جو اپنے پڑوس میں طویل تنازعات کا شکار رہا، پاکستان دشمنی کے فوری خاتمے اور ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے حصول کے لیے مذاکرات کی بحالی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ پاکستانی سفیر نے سیکرٹری جنرل سے یوکرین کے مسئلے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب 6 اور 8 کے تحت کشیدگی میں کمی، نئے سرے سے مذاکرات اور پرامن سفارتی حل کے لیے پائیدار مذاکرات میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور ماضی کے معاہدوں کے اصولوں کی بنیاد پر تمام ریاستوں کے جائز سیکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنازعات کے پائیدار حل کے لیے بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی بھی امید کرتا ہے۔