جاوید اختر کی شرمساری اور پاک بھارت تعلقات
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 26 / فروری / 2023
بھارتی نغمہ نگار جاوید اختر نے اس بات پر شرمساری کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران لاہور فیض میلہ میں ان کے ایک تبصرے کو بھارت میں ’یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے گویا وہ تیسری جنگ جیت کرآئے ہوں‘۔ جاوید اختر کی گفتگو کے حوالے سے پاکستان میں احتجاج اور مذمت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور شاعر و ادیب یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کسی ادیب کو نفرت و تعصب کو ہوا دینے کی بجائے محبت عام کرنے کا پیغام دینا چاہئے۔ ایک خالص ادبی تقریب میں پاکستان پر الزام تراشی سے اس ملک کی توہین کی گئی ہے۔
فیض میلے میں ایک خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جاوید اختر نے کہا تھا کہ’ بھارت میں پاکستانی فنکاروں کو بلایا جاتا ہے اور انہیں عزت و احترام دیا جاتا ہے لیکن پاکستان نے تو لتا منگیشکر کی میزبانی نہیں کی‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ان کا تعلق ممبئی ہے ۔ وہاں پر دہشت گردی انہوں نے خود دیکھی ہے۔ وہاں حملہ کرنے والے ناروے یا مصر سے تو نہیں آئے تھے بلکہ وہ یہیں سے تھے اور یہ اب بھی یہاں گھوم پھر رہے ہیں۔ اس پر اگر ہندوستان کے لوگوں کو شکوہ ہے تو اسے برداشت کرنا چاہئے‘۔
تاہم اب ممبئی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ’ انہوں نے مذکورہ بات اچھے دل اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ کہی تھی، جسے پاکستانیوں نے بھی حوصلے سے سنا لیکن ان کی اس بات کو بھارت میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ انہیں بھارت میں یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ جیسے وہ تیسری عالمی جنگ جیت کر آئے ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ان کی حد سے زیادہ تعریفیں کیے جانے پر اب انہیں شرمندگی ہونے لگی ہے ۔ اسی وجہ سے اب وہ کسی ٹی وی کو انٹرویو نہیں دے رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی 2018 میں فیض میلے میں جا چکے ہیں اور انہوں نے یہ بات کسی سازش کے تحت نہیں کی۔ جاوید اختر نے کہا کہ ’ بہت سے پاکستانی بھارتیوں کو اچھا سمجھتے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں بھی پاکستان کو چاہنے والے لوگ موجود ہیں اور بہت سے عوام حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے‘۔
جاوید اختر نے فیض میلہ کے دوران پاکستان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے جو باتیں کی تھیں، ان کے خلاف واقعہ یا یک طرفہ ہونے کی بحث سے قطع نظر اب خود انہوں نے ہی یہ اعتراف کیا ہے کہ کسی مقبول شخصیت کی طرف سے جب دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں کوئی بات سوچے سمجھے بغیر کی جائے گی تو اس سے فاصلے کم نہیں ہوسکتے۔ پاکستان میں جاوید اختر کی باتوں پر مختلف حلقوں میں مختلف رد عمل دیکھنے میں آیا تاہم سوشل میڈیا کے ذریعےیا کالموں میں کیے جانے والے تبصروں میں ایک بات واضح تھی کہ دہشت گردی کا الزام صرف پاکستان پر عائد کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ باہمی دشمنی کے اس ماحول میں بھارت بھی پاکستان میں تخریب کاری کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ اس بارے میں اکثر لوگوں نے کلبھوشن یادیو کی مثال دی ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی منظم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور اس نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا تھا۔
جاوید اختر جس شہر لاہور میں بیٹھ کر ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو گھومتا پھرتا بتا رہے تھے، اسی شہر میں بھارت کی مدد د سے دو سال پہلے دہشت گردی کی ایک واردات میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس دہشت گردی کی خاص بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے دسمبر 2022 میں اقوام متحدہ کو اس بات کے دستاویزی ثبوت فرام کئے تھے کہ اس حملہ میں بھارت ملوث تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ ’ہم نے فوری الزام تراشی کی بجائے شواہد اور ثبوت جمع ہونے کا انتظار کیا۔ اب یہ سارے ثبوت ایک ڈوزئیر کی صورت میں اقوام متحدہ کے حوالے کردیے گئے ہیں تاکہ عالمی ادارہ اس بارے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے‘۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک د وسرے پر الزام تراشی روزمرہ کا معمول ہے۔ بھارت میں جب بھی کوئی افسوسناک سانحہ رونما ہو تو فوری طور سے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا جاتا ہے۔ کچھ یہی صورت پاکستان میں بھی موجود رہی ہے۔ پاکستان میں متعدد مسائل باہمی افتراق اور ناکام سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں لیکن حکمرانوں کی طرف سے بھارت کو مورد الزام ٹھہرا کر خود ذمہ داری سے گریز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے ایسے گروہوں کی سرپرستی کی اور انہیں فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیا جو بھارت میں تخریب کاری کے بعض واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ یا کم از کم یہ گروہ دونوں ملکوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور فاصلے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ البتہ اگر یہ سچ ہے تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانیوں کے ہوشمند طبقہ نے ہمیشہ ایسی حکمت عملی کو مسترد کیا اور حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو جنگجو گروہوں کی بالواسطہ مدد کرنے کی بجائے، ان کی حوصلہ شکنی کرنے اور ملک میں شدت پسندوں سے نمٹنے کا مشور دیا۔ تاکہ نہ صرف ہمسایہ ملک غیر انسانی حملوں سے محفوظ رہے بلکہ مذہبی انتہاپسندی کے بطن سے پیدا ہونے والے جنگجو گروہ وں کو پاکستانیوں کے خلاف ہلاکت خیزی سے بھی روکا جاسکے۔
اس خطے میں انتہا پسندی اور جنگجوئی کا خاتمہ محض کسی ایک ملک کے امن و حفاظت کے لئے اہم نہیں ہے بلکہ خیر سگالی کے ماحول میں سب ممالک پھل پھول سکتے ہیں، باہمی تعلقات بحال کیے جاسکتے ہیں اور جنگی تیاریوں کی بجائے مالی وسائل عوام کی خوشحالی پر صرف کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی حد تک اس سوال پر اسٹبلشمنٹ اور سول حکومتوں کے درمیان تنازعہ رہا ہے۔ نواز شریف کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی مہم جوئی کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ تجارتی مراسم بحال کرکے خطے میں تنازعہ ختم کرنے کی کوششیں کررہے تھے ۔ فروری 1999 میں سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی کا دورہ لاہور اس سلسلہ میں اہم پیش رفت کہی جاتی ہے لیکن اس کے فوری بعد سانحہ کارگل اور پھر اسی سال اکتوبر میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا گیا۔ فوجی حکمران پرویز مشرف نے اپنے دور میں آگرہ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن دونوں طرف بداعتمادی کی فضا کی وجہ سے یہ کوششیں بارآور نہیں ہوسکیں۔
اس دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ بھارت جس مذہبی انتہا پسندی کا الزام پاکستان پر عائد کرکے اسے دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیتا رہا ہے، نریندر مودی کے دور حکومت میں اسی نوعیت کی ہندو انتہاپسندی کو بھارت میں فروغ دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ جن سنگھی سیاست کے خلاف بھارت میں کچھ سیکولر آوازیں اب بھی تسلسل سے ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیتی ہیں لیکن ایسی متوازن اور حقیقت پسند قوتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ لاہور میں پاکستان پر ممبئی حملوں کا الزام لگانے والے جاوید اختر بہر حال ان عناصر میں شامل نہیں ہیں جنہوں نے اپنے ملک میں ہندو انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائی ہو یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہو۔ جاوید اختر کا شمار ان عناصر میں کیا جاسکتا ہے جو خود اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گو کہ وہ خود کو روشن خیال اور سیکولر کہتے ہیں لیکن لاہور کی گفتگو درحقیقت ان کے اس خوف کا لاشعوری اظہار تھا جو بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ہر اہم مسلمان محسوس کررہا ہے۔ اپنی نام نہاد روشن خیالی کی حفاظت کرتے ہوئے جن سنگھی عناصر سے بالواسطہ یک جہتی کا بہترین طریقہ یہی ہوسکتا تھا کہ دورہ لاہور کے دوران پاکستان پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے سرکاری مؤقف کے مطابق کوئی بات کی جائے۔ بلاشبہ جاوید اختر نے یہ بات ایک سوال کے جواب میں کی لیکن اگر یہ سوال سامنے نہ بھی آتا تو بھی وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے یہ خیالات ضرور سامنے لاتے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ان کے اس بیان کو کسی نے بہادری کہا اور کسی نے سرجیکل اسٹرئیک قرار دیا ۔اور خود جاوید اختر کے بقول انہیں اپنے وطن میں پاکستان میں کہی گئی ایک بات پر ’تیسری جنگ ‘ جیتنے جیسا اعزاز دیاجارہا ہے، جس پر وہ شرمسار ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور ناقابل قبول نفرت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت کی بجائے بھائی چارے کی بات کرنا بے حد ضروری ہے۔ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کی مجبوریا ں اور پالیسیاں اپنی جگہ لیکن کسی ادیب اور دانشور کو ایسے کسی رویے کا ترجمان بننے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے جو فاصلوں میں اضافہ کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مواصلت محدود ہے۔ بھارتی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے ثقافتی میل جول نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستانی فنکار بھارت نہیں جاسکتے حتی کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ جیسے مقبول کھیل کے مقابلوں پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ برصغیر کے عوام کے درمیان دیواریں اٹھانے والے ان رویوں کو مسترد کرنے اور عوامی رابطوں میں اضافہ کے لئے کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ کہ جن لوگوں کو ایک د وسرے کے ملک میں جاکر بات کرنے کا موقع ملتا ہے ، انہیں مجبوری میں کسی نئے تنازعہ کو جنم دینے کی بجائے، ماضی کوبھول کر روشن مستقبل کی تعمیر کے لئے محبت و خیر سگالی کا پیغام عام کرنا چاہئے۔
پاکستان اور بھارت ایٹمی اسلحہ سے لیس ہیں۔ انہیں ذمہ دار ریاستوں کا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ تب ہی اس خطے سے غربت اور کسمپرسی کا خاتمہ ہوسکے گا۔ کچھ عرصہ سے پاکستانی قیادت کی طرف سے مسلسل یہ پیغام دیا جارہا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا ہر دروازہ بند ہے۔ یہ دروازے کھولنے کی ضرورت ہے۔ یک طرفہ گلوں شکووں اور الزام تراشی سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔