پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس کیس: چار ججوں نے خود کو کیس سے الگ کر لیا
سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن پر ازخود نوٹس کیس میں نو رکنی بنچ میں شامل چار ججوں نے مشاورت کے بعد کیس کی سماعت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ اب پانچ رکنی بنچ اس معاملہ کی سماعت کرے گا۔
ان ججوں میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔ پیر کو جب تاخیر کے بعد از خود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ چار ججوں نے بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی بنچ کیس کی سماعت کرتا رہے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کی تشریح کے لیےعدالت سماعت جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منگل کو صبح ساڑھے نو بجے سماعت شروع کرکے معاملہ اسی دن نمٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے التوا پر ازخود نوٹس لیا تھا۔ تاہم مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف نے کیس کی سماعت کرنے والے نو رکنی بنچ میں شامل دو ججوں، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ان ججوں کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔
سوموار کو سماعت سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے ایک مختصر فیصلہ سامنے آیا جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اضافی نوٹ شامل ہیں۔
اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 23 فروری کے فیصلے، چاروں ججوں کے اضافی نوٹ اور مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کی تشکیل نو کے لیے چیف جسٹس سے رجوع کیا جائے۔