کون سی جمہوریت!
- تحریر ارشد رضوی
- سوموار 27 / فروری / 2023
جمہوریت، حکمرانی کا جدید ترین طریقہ ہے یا سمجھا جاتا ہے گو دنیا میں آج جمہوریت کی ناکامی پر بھی بحث و مباحثہ جاری ہے۔تا ہم انسانی سماج نے بلا شبہ ارتقائی مدارج یوں طے کئے کہ قبائلی طرزِ زندگی سے شہنشاہیت/ بادشاہت اور آمریت سے گزرتے ہوئے آج دنیا جمہوریت کو بہترین طرزِ حکمرانی قرار دے رہی ہے۔
جمہوریت ہے کیا اور یہ کس طور کام کرتی ہے، اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ ’حکومت کی ایک ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے۔ جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیار ات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں‘۔سیاسی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوریت میں یا تو تمام عوام کی حکومت ہوتی ہے یا عوام کی بڑی آبادی کی جانب سے اکثریت والی سیاسی جماعت یا افراد حکومت چلانے کے اہل ہوتے ہیں۔دونوں صورتوں میں حکومت عوام یا جمہور کی رہتی ہے اس لئے دونوں طرزِ حکومتوں کو جمہوریہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ کئی سیاسی ماہرین نے فلاح کو کسی بھی ریاست میں بنیادی جمہوری نکتہ گردانا ہے یعنی کہ سب سے قابلِ قبول اور قابلِ عمل جمہوریہ وہ گردانی جائے گی جس کی بنیاد عوامی فلاح و بہبود پر رکھی گئی ہو۔
جمہوریت کے لغوی معنی ’لوگوں کی حکمرانی‘ کے ہیں۔یہ اصطلاح یونانی الفاظ ’ڈیموس اور کریشیا‘سے مل کر بنی ہے۔ڈیموس کا مطلب عوام اور کریشیا کا مطلب حکومت ہے۔اس طرح جمہوریت ایسی طرزِ حکومت کو کہتے ہیں جس میں لوگ(عوام) اپنے حکمران چُنتے ہیں۔ جمہوریت کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں مگر امریکہ کے صدر ابراہیم لنکن کی تعریف کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔ ابراہیم لنکن کے الفاظ میں ’جمہوریت۔۔۔عوام کی، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعہ حکومت ہوتی ہے‘۔ گویا جمہوریت میں عوام کی حکومت، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعہ ہوتی ہے۔
بہت سے سیاسی مفکرین نے اپنے اپنے طور پر جمہوریت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ہر تعریف میں عوام، حکومت، اور اختیار کے الفاظ مشترکہ طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ گویا یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں بالغ لوگ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے لئے حکمران چُنتے ہیں۔ ان حکمرانوں کوتین یازیادہ سے زیادہ پانچ سال کیلئے حقِ حکمرانی تفویض کیا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق جمہوریت کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ووٹ دہندہ تعلیم یافتہ ہو۔ وہ اچھے بُرے کی تمیز رکھتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ووٹر کو اپنے نمائندے کو چُننے کا شعور ہو نا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پڑھا لکھا، تعلیم یافتہ شخص ہی اپنے لئے بہتر نمائندے کو چُننے کا شعور رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی بڑی جمہوریتیں کون سی ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ بڑی آبادی والے ممالک جن میں انڈیا، امریکہ، انڈونیشیا ء، برازیل شامل ہیں یہ سب جمہوری ممالک ہیں۔
بھارت میں خواندگی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 73 فیصدتھی، حالیہ جائزوں کے مطابق 80 فیصد ہو چکی ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ سال 2021-2022 کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 62.8 فیصد ہے۔ خواندگی کا مطلب پڑھنے یا پڑھے جانے کا عمل یا کیفیت، پڑھائی، تعلیم، پڑھا ہوا سبق، لکھنے پڑھنے کی قابلیت ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس و تہذیب یا یونیسکو کے مطابق خواندگی سے مراد کسی بھی تحریری یا زبانی مواد کو پہچاننے، سمجھنے، تشریح کرنے، تخلیق، رابطہ کاری اور شمار کرنے کی صلاحیت ہے۔ خواندگی کا تعلق کسی بھی فرد کا مسلسل سیکھنے کے عمل سے بھی ہے، جس کی مدد سے نہ صرف وہ انفرادی اہداف کا حصول ممکن بناتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ علم اور استعداد میں اضافے اور وسیع تر سماج کی تشکیل میں بہتر و مثبت عمل دخل کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان میں وہ فرد خواندہ جو کسی بھی زبان میں دستخط کر سکتا ہو۔
یہ خیال کہ جمہوریت کی کامیابی کا انحصار سوسائٹی کے تعلیم یافتہ ہونے سے ہے، اتنا بھی درست نہیں ہے۔ تعلیم یافتہ سے مراد کسی تعلیمی درسگاہ کا فارغ التحصیل ہونا ہے۔ تاہم یہ لازم ہے کہ لوگ خواندہ ہوں، اچھے بُرے کی تمیز رکھتے ہوں، سیاسی جماعتوں کے ماضی سے واقف ہوں اور ان کی کارکردگی کو ملحوظِ خاطر رکھ کے ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہوں۔جمہوریت کی کامیابی کا دوسرا معیار شفاف اور آزادانہ انتخابات کا بر وقت انعقاد ہے۔
کیا پاکستان میں جمہوریت ہے؟ میرا یہ سوال یا استدلال بعض پڑھنے والوں کو کچھ عجیب لگے گا۔ جب پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے تو پاکستان میں جمہوریت کا ہونا لازمی امر ہے۔ پاکستان میں باقاعدہ یا بے قاعدہ انتخابات کا عمل جاری رہتا ہے تو پاکستان میں جمہوریت ہے۔پاکستان میں پارلیمانی (اور کبھی کبھار صدارتی) نظامِ حکومت رائج ہوتا ہے تو پاکستان میں جمہوریت ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ہے تو یہ استدلال منطقی ہو گا کہ: کیا پاکستان میں انتخابات شفاف اور آزادانہ ہوتے ہیں؟کیا پارلیمان داخلی و خارجی فیصلے کرنے اور پالیسیاں بنانے میں آزاد ہے؟ کیا پاکستان اقتصادی و معاشی پالیسیاں اپنانے میں آزاد ہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر: پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں انحطاط کا شکار کیوں ہے۔پاکستان کی سیاست میں عدم برداشت کا عنصر اس قدر کیوں بڑھ گیا ہے۔ پاکستان کا معاشرہ سماجی و معاشرتی سطح پر اس قدر پُر تشدد کیوں ہے؟
معاملہ کیا ہے کہ جمہوریت ہے اور ترقی ئ معکوس بھی جاری ہے۔ جمہوریت ہے اور غربت کا گراف بھی بڑھ رہاہے۔ جمہوریت ہے اور عدم برداشت، ناقابلِ برداشت حدوں کو چھو رہی ہے۔ایسا تو نہیں ہے کہ ہم جسے جمہوریت سمجھ رہے ہیں وہ اپنے خمیر میں جمہوریت ہی نہ ہو! ہمارا ووٹ آزاد نہیں ہے۔بیوی کا ووٹ شوہر کے اثر میں، گھر کا ووٹ خاندان کے اثر میں، خاندان کا ووٹ برادری کے اثر میں، اس کے علاوہ مذہب، عقیدہ، فرقہ بھی ووٹ پر اثر رکھتا ہے۔ووٹ کو ان اثرات اور پابندیوں سے آزاد کرانے کی ذمہ داری سیاسی، مذہبی، اور سماجی دانشوروں پر عائد ہوتی ہے کیا ان دانشوروں نے اپنا یہ کردار دیانتداری سے ادا کیا ہے۔سیاست کو غیر سیاسی عناصر کے جائز و ناجائز دباؤ سے آزاد رکھنے کی ذمہ داری سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے کیاسیاسی جماعتیں اور سیاستدان اس ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہوئے ہیں۔ ریاستی اداروں نے وطن سے وفاداری اور محبت کے اس معیار کو قائم رکھا ہے جس کا حلف انہوں نے اُٹھایا تھا۔
آج ملکی سیاست میں دشنام طرازی اور الزام تراشی کا بازار گرم ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ سیاست سے عوام اور نظریات جب خارج ہو جائیں توحصولِ اقتدار و اختیارکی کھینچا تانی باقی رہ جاتی ہے سو وہ اپنے زوروں پر ہے۔ بیچارہ ووٹر کبھی آٹے کا تھیلا لینے کی لائن میں رسوا ہو رہا ہے تو کبھی ’دسترخوان‘ کی لائن میں روٹی کے انتظار میں۔ ملکی اثاثے بِک رہے ہیں۔ ڈیفالٹ ہونے کی باتیں زبان زدِ عام ہیں۔ قرض کی بھیک مل جائے تو رہنمائے قوم خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں۔ ’کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں‘۔قوم کو بھارت دشمنی کا سبق ازبر کروا دیا گیا ہے۔ وہ بھارت جو علاقائی سُپر پاور بننے کی منزل کو چھو رہا ہے اور ہم کشکول لئے دردر بھیک مانگنے پہ مجبور ہیں۔ یہ تلخ حقائق ہیں اور باعثِ شرم بھی۔ ایک طرف بھارت کاہوّااوردوسری طرف سٹریٹجک ڈیپتھ والا اپنا افغانستان جہاں سے سرکاری سطح پردہشت گردی جاری ہے اور ہم ہر بار یہ کہنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے کہ ’ اِب کے مار‘۔
کیا جمہوریت میں نقص ہے یا ہمارامزاج ’صدارتی‘ ہے۔صدر ایوب اور صدر ضیاء کو لوگ اس لئے بھی یاد کرتے ہیں کہ اُن کے دورِ حکومت میں نسبتاً سکون ہوتا تھا۔ مہنگائی کا یہ عالم نہیں تھا۔ اگر ایوب خان کو بنگلہ دیش کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور ضیاء کو افغانستان کی جنگ میں دھکیلنے کا، جودر اصل امریکہ اور روس کی جنگ تھی۔ جوسرمایہ دارانہ نظامِ معیشت اور سوشلزم کی جنگ تھی تو عوام الناس کو اس سے کم ہی فرق پڑتا ہے۔ یہ سیاست کے موضوعات ہیں اور وطنِ عزیز میں سیاست ’بڑے لوگوں‘ کا کھیل ہے جو الیکشن میں حصہ یوں لیتے ہیں کہ تجوریوں کا منہ کُھلتا ہے تو تین سے پانچ کروڑ سے کم میں بند نہیں ہوتا۔
پارلیمانی جمہوریت یا صدارتی نظام کی ناکامی کے ذمہ دار سیاستدان ہیں یا وہ جو سیاستدان نہ ہوتے ہوئے بھی، سیاست کی شطرنج کے مہروں کو کبھی پسِ پردہ اور کبھی پیش پردہ کھلاتے ہیں اور اِس طرح یا اُس طرح فیضیاب ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کی اقتصادی و معاشی حالت اور سماجی ناہمواری کا جو عالم ہے اُس کے ذمہ داردارالاشرافیہ والے ہیں۔ یہ کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی بھی لباس میں ہوں ملائی پہ ان ہی کا حق رہا ہے عوام کو تو چھاچھ بھی میسر نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جمہوریت کو ایسے ہی چلانا ہے جس میں ووٹ تو عوام کا ہو گا مگر ملائی اُن کی جنہیں ووٹ دیا گیا یا اُن کی،جو ووٹ سے بھی بالا تر ہیں۔