امجد شعیب کی گرفتاری حکومت کی بدحواسی کا مظاہرہ ہے!

یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کو کس ذی  ہوش نے  ایک  ٹیلی ویژن پروگرام میں   گفتگو کرنے پر    معمر  لیفٹیننٹ جنرل(ر)   امجد شعیب کو گرفتار کرنے اور ان پر افتراق پیدا کرنے کا مقدمہ قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن یہ طے ہے کہ اس قسم کی بدحواسی اور احمقانہ اقدامات سے موجودہ حکومت کی شہرت اور اتھارٹی دونوں متاثر ہوں گے۔

ملک میں کسی بھی شکل میں سہی بہر حال ایک جمہوری حکومت کام کررہی ہے۔   اسے   آزادی رائے کے خلاف ایسا گھناؤنا اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ امجد شعیب کی سیاسی وابستگی کے بارے میں  کوئی شبہ  نہیں ہے لیکن حکومت محض سیاسی پسند یا کسی معاملہ پر کوئی رائے رکھنے کے الزام میں لوگوں کو گرفتار  نہیں کرسکتی۔ حیرت ہے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت نے  ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت اور وہاں کی جانے والی باتوں کی پاداش میں  80 سالہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کو تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا افسوسناک فیصلہ کیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران  انہوں نے پروگرام میں شریک ہونے اور  وہ باتیں کہنے کا اقرار کیا   جن کی بنیاد پر استغاثہ ان کے خلاف مقدمہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس اعتراف کے بعد عدالت کے پاس اس بات کا  کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا تھا کہ وہ محض فوٹو گرامیٹرک   اور وائس میچنگ ٹیسٹ  کے  نام پر انہیں پولیس کی تحویل  میں دیتی۔  اگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے  یہ ٹیسٹ ضروری بھی ہیں تو بھی اس مقصد کے لئے کسی شخص کا پولیس کی تحویل میں رہنا ضروری نہیں ہوسکتا۔

تاہم سیاسی مقاصد سے قائم ہونے والے مقدمات کا المیہ یہی ہوتا ہے کہ  زیریں عدالتیں ’اوپر ‘ سے آنے والے دباؤ کو برداشت نہیں کرسکتیں اور کسی بھی طرح حکام بالا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم اس سارے  قضیہ میں  پولیس ریمانڈ دینے کا معاملہ محض ضمنی حیثیت کا حامل ہے۔  اس معاملہ کا بنیادی ، اصولی، اخلاقی اور جمہوری نکتہ یہ ہے کہ کیا کسی جمہوری نظام میں ایک ٹی وی شو میں خیالات کے اظہار پر  کسی شخص کی گرفتاری جائز ہوسکتی ہے۔  جنرل امجد شعیب کی گرفتاری ملک میں آزادی رائے اور قانون کی حکمرانی منہ پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ درست ہے کہ امجد شعیب  تحریک انصاف کے دور حکومت میں  صحافیوں کو ہراساں کرنے کے ہر اقدام کی حمایت کرتے رہے ہیں اور بول ٹی وی کے پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اشتعال انگیز لب و لہجہ اختیار کیا ۔ لیکن اگر سابق فوجی جنرل کی گرفتاری کا مقصد واقعی ملک میں انتشار اور بداعتمادی کی فضا کو روکنا ہے تو اس گرفتاری سے اس سے برعکس نتائج  سامنے آئیں  گے۔ 

تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری کے اس بیان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ’ اسّی سالہ جنرل امجد شعیب کی گرفتاری سوائے مزید نفرت اور بے چینی کے کچھ نہیں دے گی۔ محض تنقید پر اتنے سینئر فوجی جنرل کی گرفتاری انتہائی غلط روایت ہے۔ امجد شعیب کو فوری رہا کیا جائے۔  جوش سے نہیں ہوش سے کام کرنے کا وقت ہے۔  ملک سنگین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے ، مزید بحران پیدا نہ کیجئے‘۔ فواد چوہدری کے بیان میں البتہ اس قدر اضافہ کیا جاسکتا ہے  کہ   ایک معمر شہری کو محض سیاسی خیالات کے اظہار پر گرفتار  کرکے اور انہیں پولیس ریمانڈ میں بھجوا کر حکومت نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بنیادی حقوق و آزادی کے خلاف   کسی  آمر کےجبر و دباؤ کے ہتھکنڈے  بھی کامیاب نہیں ہوتے، شہباز شریف کی حکومت تو پھر بھی جمہوری عمل کے نتیجہ میں قائم  ہوئی تھی۔ وزیر اعظم اور ان کا ساتھ دینے والی سب پارٹیاں یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ عمران خان کے خلاف آئینی طریقے سے عدم اعتماد لاکر پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ۔ تاہم جس آئین کے تحت شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے کا حق حاصل تھا ، وہی آئین کسی بھی شہری کو کسی بھی طریقے سے اپنے خیالات  کے اظہار  کا  حق بھی دیتا ہے۔ کمزور سیاسی بنیادوں پر استوار حکومت کے پاس اس بنیادی حق پر حملہ سے اس کی پوزیشن کمزور ہوگی۔

ریٹائیرڈ جنرل کے خلاف ایک مجسٹریٹ کی شکایت پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ امر بجائے خود حیرت کا  سبب ہونا چاہئے کہ    کوئی  مجسٹریٹ کیوں کر ٹیلی ویژن نشریات کا جائزہ لینے اور ان میں سے ناپسندیدہ گفتگو کی نشاندہی کرکے مقدمہ درج کروانے کا اہل قرار دیا جاسکتا۔ یہ شکایت نہ تو کسی  شہری کی طرف سے آئی ہے اور نہ ہی کسی متلعقہ ادارے نے اس ’قانون شکنی‘ کا نوٹس لے کر  کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا اس طریقہ سے یہ مثال قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اب   حکومت  کی نگرانی میں کام کرنے والے سارے مجسٹریٹ حکومت وقت کے سیاسی  مفادات کی نگرانی کریں گے اور یہ دیکھا کریں گے کہ کب کس نے، کہاں پر کسی حکمران کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے ہیں تاکہ اس کی گرفت ہوسکے۔ شہباز حکومت کو جاننا چاہئے کہ وہ  جمہوری عمل کے ذریعے سیاست کرتے رہے ہیں۔ اگر وہ  اپنی حکومت کے دور میں بنیادی جمہوری طریقوں کو مسترد کریں گے تو مستقبل میں آنے والی حکومت بھی ایسے ہی طریقوں سے  ان کے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ضد، حجت اور عناد  کی سیاست کی بجائے حقیقی جمہوری روایت کو آگے بڑھایا جائے۔

حکومت نے لیفٹیننٹ  (ر) امجد شعیب کے اس بیان کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کیا ہے  جس میں انہوں نے تحریک انصاف کی  ’جیل بھرو تحریک‘ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا  تھا کہ  عمران خان کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے۔ ’انہیں اسلام آباد میں لوگوں کو سرکاری دفاتر جانے سے روکنا چاہیے۔ جب ان کی کال پر عمل ہوگا تو اگلے دن ہی حکومت کچھ سوچنے پر مجبور ہوجائے گی‘۔  ملک میں سیاسی بیانات اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے جو شدید لب و لہجہ اختیار کیا جاتا ہے ،  اس کی روشنی میں یہ  بیان بے ضرر  ہے جس میں اپنے ایک پسندیدہ لیڈر کو نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ البتہ اس بیان سے شدید خوف محسوس کرنے والی حکومت  امجد شعیب کی گرفتاری  سے   یہ تاثر ضرور دیتی دکھائی دے رہی  ہے کہ  واقعی اس تجویز پر عمل ہوگیاتو کاروبار حکومت بند ہوجائے گا۔ کیا شہباز حکومت   کو واقعی لگتا ہے کہ   امجد شعیب کی  تجویز پر عمران خان عمل کرلیں تو  سرکاری ملازمین کی اکثریت دفاتر آنا بند کردے گی؟   پاکستان کے موجودہ حالات میں کسی سیاسی لیڈر کے کہنے پر ایسا کوئی وقوعہ  رونما ہونا ممکن نہیں ہے۔ 

ایک طرف  حکومتی ترجمانوں کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ  عمران خان  استعفوں، لانگ مارچ ، صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے بعد  ’جیل بھرو تحریک‘ میں بری طرح ناکام  رہے ہیں۔  اور دوسری طرف ایک معولی بیان پر امجد شعیب کی گرفتاری سے یہ تاثر مستحکم کیا جارہا ہے کہ موجودہ حکومت عمران خان کی ’طاقت‘ سے لرزہ براندام ہے اور  مخالفین کو ہراساں کرکے کسی بھی قیمت پر اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔  امجد شعیب جیسی حیثیت کے شخص کو گرفتار   کرنے  سے یہ اشارہ دینا بھی مقصود ہوسکتا ہے کہ اب حکومت  کسی بھی بڑی شخصیت  پر ہاتھ ڈالنے  کی تیار کررہی ہے۔ اور اس معاملہ میں اسے اسٹبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

فوج کی طرف سے  ’غیر سیاسی‘ ہونے کے اعلان کے بعد  ایک متوازن سیاسی فضا پیدا ہوئی تھی۔  حکومتی اقدام  فوج کی نیت و ارادوں کے بارے میں شبہات کو تقویت دے گا۔  یہ صورت حال کسی صورت نہ تو حکومت کے لئے خوشگوار ہونی چاہئے  اور نہ ہی اس سے  فوج کی شہرت  بہتر ہوگی۔   اس پہلو سے دیکھا  جائے تو جنرل امجد شعیب کی گرفتاری سے بظاہر جو مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، عملی نتائج اس کے برعکس ہوسکتے ہیں۔کسی سیاسی تحریک   یا  اپوزیشن کو دھمکیوں اور پابندیوں سے خوف زدہ کرنے کے طریقے ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔ ایسے ہتھکنڈے اگر ماضی میں  مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے تو اب بھی ان سے کسی مختلف نتیجے کی توقع نہیں کی  جا سکتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو اس گرفتاری کا  نوٹس لے کر  جنرل امجد شعیب کی فوری رہائی اور ان کے خلاف  بے بنیاد الزام واپس لینے کا  حکم دینا چاہئے۔ اسی طرح حکومت یہ ثابت کرسکتی ہے کہ وہ نہ تو خوفزدہ ہے اور نہ ہی آمرانہ ہتھکنڈوں سے ملک میں خوف و ہراس پیدا کرکے  سیاسی کامیابی کی خواہش رکھتی ہے۔