پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات: سپریم کورٹ بدھ کی صبح فیصلہ سنائے گی
سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے لیے ازخود نوٹس کیس میں سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بدھ کو فیصلہ سنایا جائے گا۔
اس سے قبل عدالت نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کا حکم دیتے ہوئے فریقین کے وکلا کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے موکل سے رائے لے کر آج ہی عدالت کو آگاہ کریں۔ چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
چیف جسٹس نے فریق سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ اپنے بڑوں سے پوچھیں کہ وہ مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ مل بیٹھ کر انتخابات کی تاریخ طے کی جائے، جمہوریت کی یہی منشا ہے کہ فریقین لچک دکھائیں۔ قانونی باتوں کو ایک طرف رکھ کر ملک کا سوچیں ، ملک کو آگے رکھ کر سوچیں گے تو حل نکل ہی آئےگا۔
پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیرِ اعظم، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں۔ عدالت کا سارا کام اس مقدمے کی وجہ سے رکا ہوا ہے ۔
اٹارنی جنرل شہزاد الہیٰ نے سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے جس کی ذمے داری انتخابات کرانا ہے جب کہ گورنر پنجاب کا مؤقف ہے الیکشن کمیشن خود انتخابات کی تاریخ دے لیکن الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔
اٹارنی جنرل نے کہا میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے۔ جس پر جسٹ منیب اختر نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہو تو صدر اور گورنر کا کردار کہاں جائے گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن پروگرام پر عمل کریں تو انتخابات 90 روز کی مدت میں ممکن نہیں۔ پنجاب میں نوے روز کی مدت 14 اپریل کو مکمل ہورہی ہے۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ نیت ہو تو راستہ نکل ہی جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام چاہتے تو حل نکال سکتے تھے۔ انتخابی مہم کے لیے قانون کے مطابق 28 دن درکار ہوتے ہیں اور نوے روز کے اندر انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا وقت کم کیا جاسکتا ہے۔ اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو یا چار دن اوپر ہونے پر آرٹیکل 254 لگ سکتا ہے۔
سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے آغاز پر اپنے دلائل شروع کیے تو اٹارنی جنرل نے اس پر اعتراض اٹھایا۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عابد زبیری درخواست گزار کے وکیل ہیں، اس لیے وہ بار کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ وہ اس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے وکیل ہیں، کسی سیاسی جماعت کے نہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے عابد زبیری کو دلائل دینے کی اجازت دی۔
عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے کہ انتخابات 90 دنوں میں ہی ہونے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے تحت صدر اور گورنر فیصلے میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنر اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیاکہ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے، جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے، وزیرِ اعلیٰ کا نہیں ۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نو اپریل کو انتخابات کی تاریخ دینے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا صدر کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتا ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے آبزرویشن دی کہ صدر کے اختیارات آئین میں واضح ہیں اور وہ ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند ہیں۔ جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند نہیں۔ صدر ہر وہ اختیار استعمال کرسکتے ہیں جو قانون میں دیا ہوا ہے۔ انتخابات کی تاریخ پر صدر اور گورنر صرف الیکشن کمیشن سے مشاورت کے پابند ہیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر بطور سربراہِ مملکت ایڈوائس پر ہی فیصلے کرسکتے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیارات براہِ راست آئین نے نہیں بتائے۔ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ صدر مملکت نے مشاورت کے لیے خطوط لکھے ہیں۔ جسٹس منصور نے کہا آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ اس طرح نگران حکومت بھی انتخابات کی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔