ٹیکنالوجی کا طلسم

آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے منگل کے روز ہم نے بات کا بتنگڑ بنانے کی سعی کی تھی۔ مگر ہم بات کا بتنگڑ بنانے میں سر خرو نہ ہوسکے۔ بات کا بتنگڑ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ بات مکمل کرنے کیلئے ہمیں جو جگہ ملی ہوئی تھی، وہ وسعت میں کم پڑگئی۔

یادرکھیں کہ زندگی میں کچھ بھی لامحدود نہیں ہوتا۔ زندگی کی طرح آپ کو ہرکام اپنی حدود میں رہ کرکرنا پڑتا ہے۔ زندگی میں اوڑھنے کیلئے مجھے جو چادر ملی ہوئی ہے، وہ وسعت میں کم ہے۔ اکثر میرے پاؤں چادر سے باہر نکل جاتے ہیں۔ اس پاداش میں چادر سے باہر نکلے ہوئے میرے پائوں کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ایسا میرے ساتھ کئی بار ہوچکا ہے۔ پاؤں کٹوانے اور سبق سیکھنے کے بعد اسی جنم میں، مجھے دوبارہ جنم لینا پڑتا ہے۔ اپنے آپ سے وعدہ کرنا پڑتا ہے کہ پھر کبھی چادر سے پاؤں باہر نکالنے کی حماقت نہیں کرون گا۔ مگر وعدہ وفا کرنے میں اکثر بھول چوک ہوجاتی ہے۔ آپ کی طرح آدمی ہوں۔ خطاؤں کا پتلا ہوں۔ نئے جنم میں پھر چادر سے پیر باہر نکالتا ہوں۔ پاداش میں اپنے پیر گنوا بیٹھتا ہوں۔

فقیر کی ایک بات پر اگر آپ مناسب سمجھیں، سوچیں، غور کریں۔ انسان ہونے کے ناطے، انسان میں خوبیاں ہوتی ہیں، خامیاں ہوتی ہیں۔ انسان کے رویے مثبت ہوتے ہیں، منفی ہوتے ہیں۔ اس کے سبھاؤ میں اتار آتے ہیں، تو چڑھاؤ بھی آتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی انسان میں صرف اچھائیاں ہوں اور اس میں برائی کا شائبہ تک نہ ہو۔ یہ امکان سے ماورا دعویٰ ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کسی ایسے شخص کے بارے میں جانتے ہیں جو ہر لحاظ سے نیکیوں اور خوبیوں کا پیکر تھا، اور یہ کہ اس میں برائی کا نام ونشان نہ تھا، تو پھر یاد رکھئے کہ آپ نے کسی آدمی کو نہیں، بلکہ دیوتا کو دیکھا یا سنا ہے۔ اور دیوتا بھی ایسے جو ہر لحاظ سے فوق الفطرت ہوتے ہیں۔ ان کے ہونے پر ہمیشہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ بہرحال ، یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی ختم نہ ہونے والی باتیں ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا ہم خود کو پچھلے موضوع تک محدود رکھتے ہیں۔

ٹیلیفون کی ایجاد نے لوگوں کو، خاص طور پر برصغیر کےلوگوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ حیرت میں پڑے ہوئے لوگوں کو حیرت سے باہر نکلنے کا وقت تب ملا جب معاشرے میں ریڈیو کی آمد ہوئی۔ لوگ دنگ رہ گئے ۔ ایک چھوٹے سے ڈبے سے آپ استاد بڑے غلام علی خاں کو سن سکتے تھے، پنڈت اوم کرناتھ کو سن سکتے تھے۔ آپ روشن آرا کو سن سکتے تھے۔ چھوٹے سے ڈبے سے آپ دنیا بھر کی خبریں سن سکتے تھے۔ آپ حالات حاضرہ پر بحث مباحثے سن سکتے تھے۔ من پسند ڈرامے سن سکتے تھے۔ ریڈیو کی وسعت میں حیرت انگیز اضافہ تب ہوا جب جیان نے سیل پر چلنے والے ننھے منے ٹرانسسٹر ریڈیو سیٹ بنائے اور مارکیٹ کئے۔ ایسے ریڈیو سیٹ اتنے چھوٹے ہوتے تھے کہ آپ آج کل کے موبائل فون کی طرح جیب میں ٹھونس کرگھوم سکتے تھے۔ پچھلی صدی ایجادات کی صدی تھی ۔ ریڈیو کا بول بالا تھا۔ تب ایجاد ہوا تھا ٹیلی ویژن، آواز کے ساتھ ساتھ آپ بولنے والوں کو دیکھ سکتے تھے۔

 ٹیلیویژن کی آمد نے ملک اور معاشرے کو نئی جہتوں سے آشنا کردیا۔ پہلے جو ریڈیو پر آنے کیلئے یعنی پرفارم کرنے کے لئے آواز اور تلفظ لازمی شرط ہوتی تھی، وہ شرط دوسرے نمبر پر بلکہ نظر انداز کردی گئی۔ اگر آپ خوب روہیں، جاذب نظر ہیں، آپ کی شخصیت نظر کو بھاتی ہے، توپھر آپ کے لہجہ اور تلفظ کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ ایس ایم سلیم جن کو عرف عام میں ریڈیو کا دلیپ کمار مانا جاتا تھا، ٹیلیویژن ڈراموں میں جگہ نہ بنا سکے۔ ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کی کسی بھی نسل کو ایس ایم سلیم کی بے پناہ مقبولیت کے بارے میں شاید ہی مستند علم ہو، آگاہی ہو ۔ ٹیلی ویژن کی چکاچوند میں ایس ایم سلیم معدوم ہوگئے، اوجھل ہوگئے۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر پرکشش نظر آنے کیلئےد یکھے بھالے لوگوں نے اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کیلئے، جوان سے بن پڑتا تھا، وہ انہوں نے کیا۔ ماننا پڑتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر ریڈیو کا سحر طاری رہا تھا۔

زیڈ اے بخاری ریڈیو پاکستان کے بہت لمبے عرصہ تک ڈائریکٹر جنرل رہے تھے۔ میں یہ کہنے کی ہمت کرسکتا ہوں کہ زیڈ اے بخاری پاکستان میں فنون لطیفہ کے مرشد تھے۔ ٹیلی ویژن کے پہلے چیئرمین اسلم اظہر ، اداکار محمد علی، مصطفیٰ قریشی، محمود علی، طلعت حسین وغیرہ پر زیڈ اے بخاری کی چھاپ لگی ہوئی تھی۔ آواز میں شائستگی ، نکھار اور الفاظ کی ادائیگی میں تلفظ کو نمایاں اہمیت دی جاتی تھی۔ ٹیلی ویژن کی آمد سے پہلے گانے والے اور گانے والیاں یعنی گلوکار اور گلوکارائیں تمام ترتوجہ گائیکی پر دیتے تھے۔ اسٹیج پر آکر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے گانے کے لئے خاص طور پر گلوکارائیں سولہ سنگھار کرکے آتی تھیں۔ مگر ریڈیو پر جب گانے آتی تھیں تو سادہ سے گھریلو لباس میں آتی تھیں۔

ٹیلی ویژن نے گائیکی کی چند ہزار لوگوں تک محدود تھیٹر کی دنیا کو بے انتہا وسیع کردیا۔ اسٹیج پر ان کو چند ہزار لوگ دیکھ سکتے تھے۔ مگر ٹیلی ویژن کی اسکرین پرآنے سےان کو دیکھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد ہزار ڈیڑھ ہزار سے بڑھ کر لاکھوں کروڑوں ناظرین تک پھیل گئی۔ ایسے میں سولہ سنگھار تو بنتا ہے۔ گلی کوچوں، چوراہوں، پارکوں اور میدانوں تک محدود سیاستدانوں کو جب ٹیلی وژن کے طلسم کا پتہ چلا، تب سے اللہ سائیں کے بخشے ہوئے سیاستدان بھی ہمیں ٹیلی وژن اسکرین پر دکھائی دینے لگے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)