جیل بھرو تحریک، ایک جائزہ
- تحریر مزمل سہروردی
- منگل 28 / فروری / 2023
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جیل بھرو تحریک سیاسی میدان میں ایک مذاق بن گئی ہے۔ تحریک انصاف کے اکثر رہنما گرفتاریاں دینے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے۔ جنہوں نے پہلے دن جوش میں گرفتاری دے دی ہے۔ وہ بھی رہائی کے چکر میں ہیں۔
ان کے لواحقین بھی رہائی کے لیے عدالتوں میں پہنچ گئے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جیل بھرو تحریک نہ تو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی سیاسی اہداف حاصل ہو سکے۔ عمران خان نے جیل بھرو تحریک اس اعلان کے ساتھ شروع کی تھی کہ ان کے حامی اتنی بڑی تعداد میں گرفتاریاں دیں گے کہ ملک کی جیلیں بھر جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا اتنی زیادہ گرفتاریاں ہوں گی کہ حکومت بوکھلا جائے گی۔ ان کے اعلان کے بعد یہ امید تھی کہ ہزاروں نہیں تو ہر شہر سے سینکڑوں لوگ گرفتاریاں دینے کے لیے ضرور سامنے آجائیں گے۔
عمران خان نے ملک بھر میں جیل بھرو تحریک کے لیے رجسٹریشن شروع کی۔ شروع میں تو تحریک انصاف کی جانب سے یہی تاثر دیا گیا کہ ہزاروں لوگ گرفتاریاں دینے کے لیے رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔ ایسے اعداد و شمار بھی جاری کیے گئے کہ لوگ جوق در جوق گرفتاری دینے کے لیے نام لکھوا رہے ہیں۔ اس لیے جیلیں بھر جائیں گی بلکہ حکومت کے لیے یہ مسئلہ بھی پیدا ہو جائے گا کہ اتنے قیدیوں کو کہاں رکھا جائے۔ تحریک انصاف نے میڈیا میں ایک ماحول بنا دیا کہ جیلیں بھر جائیں گی۔ دوسری طرف یہ سوال پیدا ہونے لگ گیا کہ جب لوگ گرفتاری دیں گے تو انہیں کس جرم کے تحت گرفتار کیا جائے گا۔ گرفتاری کے لیے قانون توڑنا لازمی ہے۔
کوئی جرم تو لازمی ہے۔ اس لیے یہ تاثر بننے لگا کہ لوگ گرفتاری دیں گے اور حکومت انہیں گرفتار نہیں کرے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ جیل بھرو تحریک ایک ڈراما بن جائے گی کہ لوگ گرفتاری دیں گے اور انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح عمران خان کی جیل بھرو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن پھر حکومت نے حکمت عملی تبدیل کر لی۔ کہیں نہ کہیں حکومت کو اندازہ ہوگیا کہ زیادہ لوگ گرفتاری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے حکومت نے جیل بھرو تحریک کے شروع ہونے سے ایک دن قبل دفعہ 144 لاگو کر دی ۔ جس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ جب لوگ اکٹھے ہوں گے تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کا یہی ٹرننگ پوائنٹ تھا۔
اگر یہی ماحول رہتا کہ گرفتاریاں نہیں ہوں گی تو میری رائے میں لوگ پکنک کے لیے آجاتے۔ لیکن جب یہ واضح ہو گیا کہ گرفتاری تو ہوگی لوگ ڈر گئے وہی لوگ آئے جنہوں نے گرفتاری دینا ہوگی۔ اسی لیے کھیل بدل گیا۔
پہلے دن تو لاہور سے صرف 81 لوگوں نے گرفتاری دی۔ ان میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، عمر سرفراز چیمہ شامل تھے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے اکثر ارکان اسمبلی نے گرفتاری نہیں دی۔ میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، حماد اظہر سمیت کئی سابق وزرا اور دیگر اہم رہنماؤں نے گرفتاری نہیں دی۔ اس لیے پہلے دن ہی اس تحریک کے غبارے میں سے ہوا نکل گئی۔ بعد ازاں حکومت نے جن رہنماؤں کو گرفتار کیا انہیں پنجاب بھر کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا۔ وی آئی پی سہولیات دینے سے انکار کر دیا گیا۔ گھر سے کھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
جس سے بعد میں گرفتاری دینے والوں کو پتہ لگ گیا کہ سچی مچی کی اصلی جیل ہوگی۔ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ جس نے بعد میں گرفتاری دینے والوں کو مزید بریک لگا دی۔ اسی لیے ہم نے دیکھا کہ لاہور کے بعد باقی شہروں میں گرفتاریوں کی تعداد کم ہو گئی اور مرکزی رہنماؤں نے گرفتاریاں دینے سے اجتناب کرنا شروع کر دیا۔ پنڈی میں شیخ رشید نے گرفتاری نہیں دی۔ ملتان میں عامر ڈوگر اور دیگر نے گرفتاری نہیں دی۔ عمران خان نے بھی صورتحال کا اندازہ لگا لیا۔ اس لیے انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ ٹکٹوں کا اعلان کرنے لگے ہیں۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ جس نے گرفتاری نہ دی وہ ٹکٹ نہ مانگے۔ اگر تحریک انصاف کا ٹکٹ لینا ہے تو ساتھیوں سمیت جیل بھرو تحریک میں گرفتاری دینا ہوگی۔
ایم پی اے کے ٹکٹ کے امیدوار کے لیے لازمی کیا گیا ہے کہ و ہ خود اور پچیس لوگوں کے ساتھ گرفتاری دے۔ عمران خان کا موقف ہے کہ جس کے پاس ساتھ گرفتاری دینے کے لیے پچیس لوگ نہیں ہیں وہ ٹکٹ کا کیسے حقدار ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ ہتھکنڈا بھی کوئی خاص کامیاب نہیں ہوا۔ دیکھا جائے تو ٹکٹ لینے کے جتنے خواہش مند ہیں اتنے لوگوں نے گرفتاری نہیں دی۔
پنجاب کی صورتحال تو سامنے ہے لیکن کے پی کی صورتحال پنجاب سے بری نکلی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے گھر کے باہر اعلان کروائے جاتے رہے کہ گرفتاری دیں گے۔ لیکن انہوں نے گرفتاری نہیں دی۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں خود ہی گرفتاری دے دینی چاہیے تھی، وہ کے پی میں کپتان تھے۔ اسی طرح باقی وزرا بھی گرفتاری دینے کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔
سندھ میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔ وہاں بھی کوئی خاص گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے دیکھا جائے تو ملک بھر میں کہیں بھی اس جیل بھرو تحریک نے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی بھی شہر میں گرفتاریوں میں کوئی جوش و خروش نظر نہیں آیا۔ ایسے میں یہ سوال تو ہو گا کہ اگر لیڈر شپ تیار نہیں تھی تو عام ورکر کیوں گرفتاریاں دیتا پھرے؟ اسی لیے 42 گھنٹوں میں ہی یہ تحریک بری طرح فیل ہوگئی۔
اب صورتحال یہ بن گئی ہے کہ عمران خان کی جیل بھرو تحریک ’ جیل سے نکلو‘ تحریک میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جنہوں نے گرفتاری دے بھی دی تھی، وہ بھی عدالت سے رہائی مانگ رہے ہیں۔ حالانکہ حکومت انہیں جیل میں رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگرعمران خان خود گرفتاری نہیں دے رہے تو باقی لوگ کیوں گرفتاری دیں۔ آپ خود ضمانت لیں اور باقی سب کو جیل جانے کا کہیں یہ کیسے ممکن ہے۔
اگر عمران خان خود گرفتاری دینے کے لیے تیار ہو جاتے تو شاید نتائج اس سے بہتر ہوتے۔ جیل بھرو تحریک نے ثابت کیا ہے کہ لوگوں میں شعور آگیا ہے کہ اگر لیڈر گرفتاری دینے کے لیے تیار نہیں تو عام کارکن یا بی کلا س لیڈر شپ کیوں دے۔
عمران خان آہستہ آہستہ سارے کارڈ کھیل چکے ہیں۔ مارچ کر چکے ہیں۔ اسلام آباد پر چڑھائی کر چکے ہیں۔ استعفٰی دے کر دیکھ چکے ہیں۔ اسمبلیاں توڑ چکے ہیں۔ جیل بھرو تحریک بھی دیکھ لی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اب کیا کریں گے۔ ان کے پاس سیاسی کارڈ ختم ہو گئے ہیں۔ وہ آہستہ آہستہ بند گلی میں پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا کریں۔ کیونکہ اگر یہ سب کچھ عام انتخابات کے حصول کے لیے کیا گیا تھا تو ان کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ اس لیے وزارت عظمیٰ سے اترنے کے بعد سے عمران خان نے اب تک جتنے بھی سیاسی کارڈ کھیلے ہیں سب ناکام ہو گئے ہیں۔
جیل بھرو تحریک نے ناکامی کے سب ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس لیے کہیں نہ کہیں عمران خان کو اب سوچنا ہوگا کہ انہیں اپنا انداز سیاست بدلنا چاہیے۔ یہ انداز اب نہیں چلے گا۔ کیونکہ اس انداز کے لیے ایک آشیر باد کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو نہیں ہے، یہی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)