یہ پٹیشین چار تین سے مسترد ہوئی ہے: وفاقی وزیر قانون

  • بدھ 01 / مارچ / 2023

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے مطابق یہ پٹیشین 3 کے مقابلے میں 4 کی اکثریت سے مسترد ہوگئی۔

اسلام آباد میں اٹارنی جنرل آف پاکستان شہزاد الہیٰ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں، نہ ہی یہ تشریح طلب معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ بہت واضح ہے اور کوئی ابہام بھی نہیں ہے۔ یہ کوئی ہار جیت یا اہلیت اور نااہلی کا کیس نہیں تھا۔

ایک آئینی نکتے پر بحث ہوئی جس میں 2 جج صاحبان نے خود کو رضاکارانہ طور پر بینچ سے علیحدہ کرلیا، 7 جج صاحبان میں سے 2 جج صاحبان 23 تاریخ کو اپنا فیصلہ دے چکے تھے کہ ہم ان پٹیشنز کو خارج کرتے ہیں۔ یہ قابل سماعت نہیں ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ 2 جج صاحبان اس معاملے پر پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں، اس لیے اب ان کا اس معاملے پر بیٹھنا مناسب نہیں ہے، اس لیے دیگر 5 ججز نے اس کیس کی سماعت کی۔

انہوں نے کہا کہ آج 5 رکنی بینچ کا فیصلہ آیا، 3 جج صاحبان نے کہا کہ یہ پٹیشنز قابل سماعت ہیں۔ گورنر اور الیکشن کمیشن مشاورت سے تاریخ دیں۔ 90 روز تو گزر جائیں گے لیکن مشاورت کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو سکے انتخابات کروائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ حالات سازگار ہوں تو بھی آئین انتخابات کے انعقاد کا حق الیکشن کمیشن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو دیتا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ آج کے فیصلے میں 2 جج صاحبان نے 23 فروری کے اختلافی نوٹس سے اتفاق کیا۔ اس فیصلے کو پڑھنے کے بعد ہمارا یہ مؤقف ہے کہ یہ پٹیشنز 3-4 سے مسترد ہوگئی ہیں۔ اب یہ فیصلہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت کارروائی میں ہوجانا چاہیے۔ اس فیصلے میں نظر ثانی والی بات نہیں، فیصلہ واضح ہو تو نظرثانی والی بات نہیں ہوتی۔ اگر کسی کو اختلاف ہوا تو جاکر تشریح کرالیں گے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تیز رفتاری سے عدالتی کارروائی ہوئی۔ پرسوں صبح سے شام 6 تک سماعت چلی، کل بھی 9 سے 6 عدالت چلی۔ ہم نے اس کارروائی میں مکمل تعاون کیا، کوئی تاریخیں نہیں مانگیں۔ حقائق سب کے سامنے ہیں، معاملہ 9 رکنی بینچ سے شروع ہوا اور 5 رکنی بینچ تک آگیا۔ جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے 23 فروری کو ہی اپنے نوٹ میں ان دونوں پٹیشنز کو مسترد کردیا تھا۔

اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ کا کہنا تھا کہ 5 رکنی بینچ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ اس کیس کے ریکارڈ میں 5 نہیں 7 ججز صاحبان کے فیصلے موجود ہیں۔ جسٹس منصور کے نوٹ کا دوسرا پیراگراف اہمیت کا حامل ہے۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ 2 ججز کے نوٹ سے اتفاق کرتے ہیں، اختلافی نوٹ کے فٹ نوٹس میں کہا گیا ہےکہ جسٹس یحییٰ اور جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ بھی کیس کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس طرح 4 ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے، یہ 7 میں سے 3 ججز کا فیصلہ ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات دونوں صوبوں میں 90 روز میں ہونا ہیں، پارلیمانی جمہوریت میں انتخابات اہم عنصر ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب، خیبر پختونخوا میں اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے فیصلے پر ماہرین قانون نے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے قانونی ماہر معیز بیگ کا کہنا تھا کہ اس کے 2 پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ عدالت عظمیٰ نے قرار دے دیا ہے کہ انتخابات 90 روز کے اندر ہوں گے اور اس آئینی اصول سے انحراف ممکن نہیں اور اگر کسی بھی وجہ سے اس میں تاخیر ہو تو یہ خطرناک مثال ہوگی۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے تھا بالخصوص اس وقت کہ جب یہی معاملات ہائی کورٹس میں زیر التوا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ایک اور مسئلہ انتہائی اہم ہے جو عدلیہ کی آزادی اور عوام کے عدلیہ پر اعتماد سے متعلق ہے اور وہ بینچ کی تشکیل کا ہے۔ معیز بیگ نے کہا کہ جس طرح سپریم کورٹ کے 2 سینیئر ججز کو ہٹا کر 9 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا اور اس کے بعد چیف جسٹس کے حکم پر مزید ججز کو نکال کر دوبارہ بینچ تشکیل دینا، اس سے عدالت کی جانبداری کے حوالے سے تحفظات پیدا ہوتے ہیں۔ اس اقدام سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد اور عدالت کی غیر جانبداری بھی متاثر ہوتی ہے۔

 بیرسٹر اسد رحیم نے کہا کہ ابھی تک سامنے آنے والی تفصیلات کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ یہ ایک مثبت اور تعمیری فیصلہ ہے۔ ہم آئینی بحران میں پھنس چکے تھے جس میں سے عدالت عظمیٰ نے ایک راستہ نکالا ہے اور یہ تفریق بھی درست کی ہے کیوں کہ گورنر پنجاب ایک تکنیکی چیز کا سہارا لے رہے تھے کہ چونکہ میں نے اسمبلی توڑنے کی منظوری نہیں دی، اس لیے انتخابات کے معاملے میں پہل نہیں کرسکتا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ آئینی لحاظ سے صورتحال ایسی بن جائے کہ متعلقہ ادارے یا افراد خاموش رہیں تو صدر اپنا اختیار استعمال کرسکتا ہے۔ چونکہ گورنر خیبرپختونخوا کے کردار کو اب بھی ترجیح دی گئی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ جس پہلے عہدیدار کو الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے تھا، وہ گورنر ہی تھا۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کا حوالہ دیتے ہوئے ماہر قانون سالار خان نے کہا کہ اس میں 2 نکات دیکھنے والے ہیں (1) عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے 90 روز کی مدت آگے بڑھانے کی اجازت دی ہے (2) اختلافی نوٹس کی بنیاد پر اکثریتی فیصلہ مبہم ہے۔ سالار خان کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ آئین کی واضح ہدایت کی توثیق کرتا ہے کہ انتخابات 90 روز کے اندر ہوں گے جیسا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا لیکن اب جیسا کہ اس وقت چیلنج یہ یقینی بنا رہا ہے کہ عدالتی حکم کو نافذ بھی کیا جائے۔

سالار خان نے کہا کہ اس بات کا اندازہ لگانا کہ جو ججز بینچ سے علیحدہ ہوگئے ان کے نوٹس کے کیا معنی ہیں جنہیں آسانی سے غیر متعلقہ قرار دے کر مسترد کردیا گیا لیکن اب اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سے سوال کا سامنا کرنا ہوگا کہ واقعی اکثریت کا فیصلہ کیا ہے، یہ ایسا سوال ہے جس کا ہمیں سامنا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے لیے الیکشن کمیشن کی گورنر سے مشاورت کی حد تک یہ واضح ہے لیکن صدر سے مشاورت کی وجوہات دلچسپ ہونی چاہئیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ماہر قانون عبدالمعیز جعفری نے کہا کہ اصل میں 9 رکنی بینچ یا فل کورٹ تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور طارق مسعود بھی شامل ہونے چاہیے تھے۔ اگر ایسا ہوجاتا تو ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہوجاتا۔

 انہوں نے کہا کہ لیکن پھر شاید جس طرح کا فیصلہ ابھی آیا ہے وہ تعداد سے ظاہر نہیں ہوسکتا تھا۔ تنقید ہے ہی یہ کہ بینچز یہ نظر میں رکھتے ہوئے تشکیل دیے جاتے ہیں کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوگا اور یہ تنقید بجا ہے۔