سپریم کورٹ نے پنجاب، خیبرپختونخوا میں 90 روز میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا

  • بدھ 01 / مارچ / 2023

سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کی جانب سے سامنے آنے والا یہ فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس منصور علی شاہ جو ان چار ججوں میں شامل تھے جنہوں نے 23 فروری کے حکم میں اضافی نوٹ تحریر کیے تھے، نے اس فیصلے سے اختلاف کیا اور از خود نوٹس کو غلط قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں صوبوں میں 90 روز میں انتخابات ہونے ہیں، پارلیمانی جمہوریت میں انتخابات اہم عنصر ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خیبرپختونخوا کی حد تک گورنر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے۔ اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہ کرے تو صدر مملکت تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت سے مشاورت کرے۔ 9 اپریل کو انتخابات ممکن نہیں تو مشاورت سے پنجاب میں تاریخ بدلی جاسکتی ہے۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جہاں گورنر نے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کیا، وہاں انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی آئینی ذمہ داری گورنر کی جانب سے ادا کی جانی چاہیے۔ جہاں گورنر کے حکم سے اسمبلی تحلیل نہیں کی گئی، وہاں عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی آئینی ذمہ داری صدر کو ادا کرنی ہوگی۔ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے بعد انتخابات مقررہ مدت کے اندر ہونے ہیں۔ اس لیے صدر یا گورنر کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی آئینی ذمہ داری کم سے کم وقت کے اندر ادا کرنی چاہیے۔

فیصلے میں پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے کہا گیا کہ عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی آئینی ذمہ داری صدر مملکت کو ادا کرنی تھی کیونکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی آئینی ذمہ داری گورنر کی تھی۔

عام حالات میں پنجاب میں جنرل الیکشن 9 اپریل کو ہونے چاہئیں جیسا کہ صدر کی جانب سے تاریخ دی گئی لیکن انتخابات کی تاریخ کا اعلان تاخیر سے کیا گیا، اس لیے 90 روز کے اندر صوبے میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر آئین کے مطابق تاریخ تجویز کرنے کے لیے اپنی پوری کوششیں بروئے کار لائے۔ الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدر مملکت پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے گورنر خیبر پختونخوا کو الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صوبے میں انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر صوبے کی حکومت آئین کے مطابق چلائی جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوری میں صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد سے پنجاب اور خیبر پختونخوا دونوں نگراں حکومتوں کے ماتحت ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آج مختصر فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ فیصلے کے مطابق آئین میں انتخابات کے لیے 60 اور 90 دن کا وقت دیا گیا ہے، جنرل انتخاب کا طریقہ کار مختلف ہے۔

فیصلے کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملے پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتی۔ جسٹس منصورعلی شاہ اورجسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ منظور الہیٰ اور بے نظیر کیس کے مطابق ازخود نوٹس لینا نہیں بنتا۔ ہائی کورٹس میں اسی طرح کا کیس زیر سماعت ہے۔ 90 روز میں انتخابات کرانے کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ازخودنوٹس لینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ازخود نوٹس جلد بازی میں لیا گیا، ازخود نوٹس کا اختیار سپریم کورٹ کو استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ معاملہ ہائی کورٹس میں تھا تو سپریم کورٹ نوٹس نہیں لے سکتی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی مقدمے کا فیصلہ کرچکی ہے، آرٹیکل 184/3 کے تحت یہ کیس قابل سماعت نہیں۔ ہائی کورٹ میں معاملہ ازخود نوٹس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، ہائی کورٹس زیر التوا مقدمات کا جلد فیصلہ کریں۔

از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے قبل کمرہ عدالت میں وکلا اور سیاسی رہنما موجود تھے، اس موقع پر میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد بھی فیصلہ سننے کے لیے کورٹ میں موجود تھی جب کہ اس دوران بیرسٹر علی ظفر، فیصل چوہدری، شعیب شاہین، سابق وفاقی وزرا شیریں مزاری ،شیخ رشید، فواد چوہدری سمیت کئی سیاسی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔ ابتدائی طور پر 22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔ تاہم 24 فروری کو 9 رکنی لارجربینچ سے 4 اراکین کے خود الگ ہونے کے بعد 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی۔

بعد میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرلی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ کے آج سامنے آنے والے فیصلے سے طے ہوگیا کہ صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں صدر مملکت، گورنر، یا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سے کس آئینی ادارے کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔ گزشتہ روز پورے دن جاری رہنے والی سماعت کے بعد بینچ نے تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر مختصر حکم سنانے کا اعلان کیا۔ تاہم بعد ازاں فیصلہ آج بروز بدھ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔