مذہبی رہنماؤں کی بالادستی کا تصور

مختلف ادیان و مذہب ومیں مذہبی رہنماؤں کی تقدیس اور تکریم کا فلسفہ موجود ہے ۔ الہامی کتابوں میں ان کی عظمت کو پیش نظر رکھا گیا اور ان کے علمی و فکری خطوط کی پیروی کا حکم بھی دیاگیا۔

لیکن تحریف شدہ الہامی متون میں مذہبی رہنماؤں کو تمام سماجی طبقات پر فوقیت اورحاکمیت دی گئی ہے ۔ کیونکہ یہ تمام متحرف متون مذہبی رہنماؤں کے ذریعہ ہی لکھے گئے لہذا فطری طورپر ان کی بالادستی اور تکریم کا فلسفہ ان متون میں غالب نظر آتاہے ۔ خاص طوپر ہندومت میں تو برہمنوں کو دیوتاؤں کے مساوی اور تمام انسانوں پر انہیں مقدم بلکہ افضل قرار دیاگیاہے ۔ حتیٰ کہ بادشاہ کوبھی برہمن کی پرستش کا حکم دیا گیا تاکہ اس کی سماجی بالادستی قائم رہے ۔ بادشاہ کو حاکمیت کا حق حاصل ہے مگر انہیں برہمنوں سے مشورت کا حکم دیا گیا تاکہ اس میں خودمختاری اور آمریت کا جذبہ پیدانہ ہوسکے ۔

بادشاہ کو حکم دیتے ہوئے منوؔ کہتاہے :’بادشاہ صبح سویرے اٹھ کر برہمنوں کی پوجا کرے ، برہمنوں کو سہ جہتی علوم اور ریاستی و سیاسی امور میں ماہر ہونا چاہیے۔ بادشاہ ان کے مشورے پر عمل کرے۔‘ اگلے اشلوک میں اس کی مزید تشریح کی گئی :’(بادشاہ)روزآنہ ویدوں کے عالم اور عمر رسیدہ برہمنوں کا پوجن کرے ۔عمر رسیدہ (برہمنوں) کی پوجا پر کاربند(بادشاہ)کی راکھشش بھی عزت کرتے ہیں۔‘(منو باب ہفتم ۔۳۷۔۳۸)

برہمنوں کو تخلیقی اور فطری لحاظ سے دیگر انسانوں پر برتری دی گئی ہے ۔ مذہبی رہنمائوں کی فطری عظمت کا یہ تصور دیگر ادیان و مذاہب میںعدم دستیاب ہے ۔ہندومت میں برہمنوں کو خدا کا قائم مقام کہاگیا ہے ، جبکہ الگ الگ گرنتھوں میں اس کی مختلف تشریحات موجود ہیں ۔ منوؔ برہمنوں کی تخلیق کے متعلق کہتاہے:’چونکہ برہمن (برہما) کے دہن سے نکلے ، پہلے پیدا ہوئے اور ویدوں کے عالم ہیں چنانچہ وہ کل تخلیق کے آقا ہیں ۔چ ونکہ اس قائم بالذات نے ، سخت ریاضتوں کے بعد اسے خود اپنے دہن سے پیدا کیا تاکہ چڑھاوے دیوتاؤں اور دوسروں تک پہنچتے رہیں اور کائنات کو باقی رکھا جاسکے ۔ اس لئے کون سی مخلوق ہے جو اس کی ہم سری کرسکے جس کے دہن سے دیوتا مسلسل بھینٹ کے لقمے اور ارواح میتّوں پرکے چڑھاوے کھاتی ہیں ۔ ‘( منو باب اول ۔۹۳۔۹۴)
منوؔ برہمن کو شاستروں کی اصل ، ان کا مبلغ اور خالق کی عظمت کی نشانی تسلیم کرتاہے ، اس بنیاد پر کسی کو اس سے بازپرس کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ مجرم ثابت ہونے پر اس کو دیگر طبقات کے افراد کے برابر سزا دی جاسکتی ہے ۔ منو کے مطابق :’برہمن کی پیدائش گویا شاستر کا جنم لینا ہے کیونکہ وہ شاستر پھیلانے کے لئے آیا ہے اور برہما کی نشانی ہے ۔‘ (منو باب اول ۹۸) منوؔ مزید کہتاہے:’جب کوئی برہمن پیدا ہوتا ہے تو وہ دنیا میں سب سے اعلیٰ مخلوق ہے ، وہ بادشاہ ہے کل مخلوقات کا اور اس کا کام ہے شاستر کی حفاظت ‘ ۔ (منوبا ب اول ۹۹) منوؔ دنیا میں موجود ہرشے کو برہمن کی ملکیت قرار دیتاہے ۔ اس طرح ہر چیز میں اس کو تجاوز کا حق دیاگیا اور اس سے اس سلسلے میں بازپرس کو حرام تصور کیا گیا۔

منوسمرتی میں کہاگیاہے کہ:’جو کچھ اس دنیا میں ہے برہمن کا مال ہے چونکہ وہ خلقت میں سب سے بڑا ہے ، کل چیزیں اسی کی ہیں‘ (منو باب اول۔ ۱۰۰) برہمن کی عظمت اور تکریم کا فلسفہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ اس سے ٹیکس کی وصولی کو بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے ۔ خواہ ملک شدید قحط سالی اور بھکمری کا ہی شکار کیوں نہ ہو، لیکن برہمن کی ملکیت میں تصرف کا کسی کو حق نہیں ہے۔ اس بارے میں منوؔ کہتاہے:’بادشاہ کو کیسی سخت ضرورت ہو اور وہ مرتا بھی ہو، تو بھی اُسے برہمنوں سے محصول نہیں لینا چاہئے اور نہ اپنے ملک کے کسی برہمن کو بھوک سے مرنے دینا چاہئے ‘ ۔ (منو باب ہفتم ۱۳۳) شودر وں کو برہمن کی ملکیت اور اس کے خدمت گار کے طورپر متعارف کروایا گیا ہے ۔ حد یہ ہے کہ اگر کسی جرم میں برہمن اور شودر کو سزائے موت تجویز کردی جائے تو اس سزا کے طورپر برہمن کا فقط سرمونڈا جائے گا اور شودر ذات کے لوگوں کی سزائے موت برقرار رکھی جائے گی۔ اس بارے میں منوؔ کا قانون ملاحظہ ہو:’سزائے موت کے عوض میں برہمن کا صرف سر مونڈا جائے گا لیکن شودر ذات کے لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی ‘۔ (منوباب ہشتم ۳۷۹) برہمن پر چور ی کی سزا معاف ہے ۔ وہ سفر کے دوران کسی کے بھی کھیت سے کچھ بھی حاصل کرکے کھاسکتا ہے ۔ کیونکہ وہ اس کا پیدائشی حق ہے ۔ لیکن کوئی دوسرا برہمن کے مال میں تصرف کا کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔

کلیسا ئی نظام کی برتری اور پادریوں کی عظمت و تکریم کا فلسفہ بھی کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ کلیسا نے کس قدر گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیاہے ، وہ سب تاریخ میں محفوظ ہیں ۔ کلیسا تحقیق اور نت نئے خیالات کو مذہب کی مخالفت قرار دیتا تھا ۔ن ئی تحقیقات اور سائنسی انکشافات پر اس نے اہل علم و دانش کو سخت سزائیں دیں اور پھر سینکڑوں سال کے بعد اپنی خطاؤں پر اظہارندامت کرتے ہوئے سزاؤں کا حکم واپس لیا گیا ۔ یہ کلیسا کی آمریت اور علمی و سائنسی انکشافات سے عدم ہم آہنگی کا نتیجہ تھا ، جس کی بناپر اس نظام کا زوال ہوگیا۔ حضرت عیسیٰ کی موجودگی میں عیسائیوں کے یہاں رہبانی نظام کا وجود نہیں تھا، لیکن ان کے بعد رہبانی نظام نے پاؤں پسارنے شروع کئے ۔ ترک دنیا اور تجرد کو مذہب عیسوی میں اخلاقی اسوۂ حسنہ قرار دیاگیا۔ کلیسا میں مذہبی خدمات انجام دینے والوں کے فطری جذبات اور تقاضوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ۔ اس طرح رہبانی نظام نے اپنی تخریب کاری شروع کی اور پوری عیسائیت کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

مورخین کے مطابق اس عہد میں جنسی بے اعتدالی اور اخلاقی بے راہ روی عام تھی ۔عیسائی علمانے اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے رہبانی نظام میں پناہ تلاش کی اور عملی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔ اس نظام کا آغاز مصرسے ہوا ۔ سینٹ انتھونی کو اس کا بانی کہاجاتاہے جو ۲۵۰ میں پیداہ وا اور ۳۵۰ میں فوت ہوا۔ امتداد وقت کے ساتھ عیسائی راہبوں میں اقتدار کا جذبہ اور آمریت درآئی ، جس نے انہیں انتہاپسندی کی طرف مائل کیا ۔ حاکمیت اور بالادستی کے جذبے نے انہیں مذہب عیسوی کی تعلیمات سے یکسر دورکردیا اور اس طرح انہوں نے جامد کلیسائی نظام کی بنیاد رکھی جس نے علم و دانش کی صریحی مخالفت کی ۔

مسلمانوں میں بھی مذہبی رہنماؤں کی تکریم اور تقدیس کا برہمنی فلسفہ موجود ہے ۔ یہ فلسفہ سراسر اسلامی تعلیمات اور احکامات کے منافی ہے لیکن چونکہ مسلمانوں کے یہاں مروجہ نظام میں مذہبی رہنماؤں کی بالادستی اور تقدیس کا عنصر موجود ہے ، اس لئے اس پر بھی تفصیلی بات کی جاسکتی ہے ۔ مثال کے طورپر ایک فرقہ کے علماء دوسرے فرقہ کے امام کے احکامات اور تعلیمات کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ائمہ کے نظریات اور ان کے علمی ، فکری اور فقہی فلسفے پر انتقاد گویا ناقابل معافی جرم ہے ۔ا سی طرح اصحاب کرامؓ کی سنت کو بغیر چوں و چرا ماننے کا حکم دیا گیاہے ۔ ان کے عمل کے بارے میں قرآنی تطبیق کی گنجائش بھی موجود نہیں ہے ۔ تمام صحابہ کے عادل ہونے کا تصور غیر اسلامی ہے کیونکہ بالآخر وہ درجۂ عصمت پر فائز نہیں ہیں ، اس لئے ہم تنہا برہمنوں اور کلیسائی نظام کو مورد طنز و تشنیع قرار نہیں دے سکتے ، بلکہ مسلمانوں کے یہاں بھی وہی نظام رائج ہے جو دیگر ادیان و مذاہب میں موجود ہے ۔

اسلام میں علما کی عظمت پر کثیر مواد موجود ہے لیکن نیم ملّائی نظام نے اس مواد کو اپنی مرضی اور مفاد کے تحت استعمال کیا ۔ مختلف مکاتیب فکر میں اصحاب، ائمہ اور علما کے لئے جو تقدیسی فلسفے تراشتے گئے ،ا ٓیا ان کی قرآن اور سنت سے تطبیق کی جاسکتی ہے ؟ اگر کہیں ان کی مرضی اور مفاد کے مطابق کچھ ملتاہے بھی ہے تو اس کے اعتبار پر بحث کی گنجائش موجود ہے ۔ اسلام نےعلما کی عظمت کا بالکل مختلف تصور دیاہے اور انہیں درجۂ عصمت پر فائز نہیں کیا ۔ گناہ کے ارتکاب کی صورت میں ان کی سرزنش اور سزا بھی زیادہ رکھی گئی کیونکہ انہوں نے علم کے بعد اس گناہ کا ارتکاب کیا ہوتاہے ۔ علما کے قلم کی روشنائی کو شہیدوں کے خون سے افضل اور انہیں بنی اسرائیل کے ابنیاء سے نسبت دی گئی ۔ اس کے باوجود انہیں معصوم عن الخطا قرار نہیں دیا ۔ توپھر مسلمان ان سے غلطی اور گناہ کے ارتکاب کے قائل کیوں نہیں ہیں؟ 

ان کے علمی و فکری اشتباہات اور انسانی وفطری کمزوریوں کی پردہ پوشی کے لئے مختلف جواز پیش کئے جاتے ہیں ۔ ان کے علمی و فکری خطوط کا تتبع کرنے کے بجائے ان کی پرستش کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہا جاتاہے کہ ان سے چوک اور غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ جو انہوں نے کہہ دیا وہ حجت ہے ۔ آخر یہ نظریہ کہاں سے جنما اور کیسے ہماری تعلیمات میں درآیا؟ اس پر تحقیق کی ضرورت ہے ۔ہ میں چاہیے کہ اس برہمنیت زدہ نظام کی حمایت نہ کریں جس کی مخالفت کو آج ہم اپنے لئے فرض اولیں سمجھ رہےہیں ۔ا س کورانہ تقلید اور پرستش کا عالم اسلام نےبہت خمیازہ بھگتاہے ، جس پر اب بھی بات ہوسکتی ہے ۔ آیا یہ ممکن ہے ؟