کیا ہندوستان اس لئے تقسیم کروایا تھا؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 01 / مارچ / 2023
کہا جاتا ہے کہ کبھی کوئی بلا یا تباہی تنہا نہیں آتی، وہ دیگر کئی چھوٹی بڑی بلاؤں کو اپنی ہمراہی میں لے کر آتی ہے۔ آج پاکستانی معیشت اگر ڈوبی پڑی ہے تو دیگر شعبہ جات و معاملات کون سے ہواؤں میں اڑ رہے ہیں۔
یہاں مالی کرپشن پر ٹسوے بہائے جاتے ہیں جبکہ اخلاقی بربادی اس سے بھی بدتر ہے۔ تحمل و شائستگی، رواداری و برداشت نام کی کوئی چیز ،مذہب تو رہا ایک طرف ، کیا سیاست میں بھی کہیں نظر آتی ہے ؟ سات دہائیوں سے یہاں عسکریت کی بے لگامی کا رونا رویا جا رہاہے، سیاست دانوں کی نااہلی کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ آج اپنی سپریم جوڈیشری کے متعلق کیا کہیں؟ چھوٹے میاں چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ…
صدر سمیت جو غیر سیاسی اور خالصتاً آئینی ذمہ داریاں ہیں، آخر ان کے پیٹ میں سیاسی وٹ کیوں پڑ رہے ہیں؟ بلند بانگ دعوے سے کہا جاتا ہے کہ انصاف ہونا ہی نہیں چاہئے ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔ یہاں انصاف نامی کسی فاختہ کی جگہ اس کا خون ہوتا ہر ڈوبتے دن کے ساتھ دکھتا ہے۔ گویا ہمارے منصفی ایوانوں میں انصاف کی تحریک براجمان ہے۔ ججز کی آنکھوں کےسامنے عدالتی ایوانوں میں انصافی بلوے ہوتے ہیں۔ گیٹ پھلانگےہی نہیں توڑے جاتے ہیں۔ مگر بسم اللہ ہمارا شہزادہ آیا ہے، ماں صدقے کہیں کوئی خراش تو نہیں آئی۔
سوال پوچھا جاتا ہے کہ جب انٹرا کورٹ چل رہی تھی تو پھر سوموٹو کی کیا مجبوری تھی؟ کیا صوبائی اسمبلیوں کا صوبائی معاملہ ہائی کورٹس سے متعلقہ نہیں ہوتا ہے ؟ اوپر تو کوئی اپیل کی صورت جاتا ہے مگر کیا کہیں قومی درد ہی بہت زیادہ نہیں ہے جو سہا نہیں جا رہا۔ ملک بھر کی وکلا برادری کے نمائندہ اداروں کی طرف سے استفسار کیا جاتا ہے کہ کیا سینئر موسٹ ججز کا بھی کوئی میرٹ ہوتا ہے یا آئندہ سے آؤٹ آف ٹرن بٹھائے جانے والے جونیئرز سب کچھ بلڈوز کر سکیں گے؟ کیونکہ وہ ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ کیا اس وقت اس ملک بدنصیب کا فوری مسئلہ انتخابی دنگل بپا کرنا ہے ؟ کیا شتابی میں ایسا کوئی ٹورنامنٹ منعقد کروانے سے جاری و ساری سیاسی عدم استحکام ملک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا دے گا؟
اگر ایسے ہے تو پھرسیٹی بجائیے اور معرکہ برپا کر دیجئے لیکن مزید بڑے بحرانوں کا سامنا کرنے کی کچھ تیاری بھی فرمالیجئے۔ پنجابی میں کہتے ہیں گھر دانے نہیں ماں پیسنے کیلئے گئی ہوئی ہے۔ ایک بچہ بول رہا ہے کہ انصاف کا دوہرا معیار قبول نہیں، کسی کیلئے پھانسی و جلاوطنی، کسی کیلئے نوازشات، کیا اس کو کہتے ہیں انصاف؟ دوسری طرف ایک بی بی بول رہی ہے کہ دنگل کروانے کا شوق ہے تو پہلے ترازو کے پلڑے برابر کرو۔ سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے الزامات واپس لو۔ بابے رحمتے والی ڈنڈی آج بھی ماری جا رہی ہے۔
بلاشبہ انتخاب آئینی تقاضا ہے جس پر عملدرآمد ہونا چاہئے مگر یہ یاد رہے کہ آئینی تقاضے اور بھی ہیں۔ انتخابات سے پہلے نئی مردم شماری کروانا اور ان کی مطابقت میں نئی حلقہ بندی کرنا بھی آئینی تقاضا ہے۔ صادق و امین کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں کے سامنے یہ بھی آئینی تقاضا ہے کہ اپنے ایسے تمامتر جعلی سرٹیفکیٹ منسوخ کریں۔ اگر آئین و قانون کی عملداری ہونی ہے تو لاڈلے اور سوتیلے کا فرق مٹانا ہوگا ۔ جناح ثالث کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کوئی مہاتما گاندھی نہیں ہے، جنتا جس کے اشاروں پر اٹھے اور بیٹھے گی۔ اگر کوئی غلط فہمی تھی تو وہ جیل بھرو تحریک کی شرمناک ناکامی سے واضح ہو جانی چاہئے۔ اب تو محترمہ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے کو گرفتاری دینے سے منع کیا تھا۔
یہ کیسا لیڈر ہے جو خود تو گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانتوں پر ضمانتیں کروا رہا ہے اور قوم کے بچوں کو جیلیں بھرنے کیلئے اکسا رہا ہے ۔ میڈم ناصرہ کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ ایک اناڑی کے پیچھے لگنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ عوام کے نونہال کنفیوژن کے گرداب میں پھنس کر رہ جائیں۔ یہ کبھی اپنی بہادری کی داستانیں سناتا ہے اور کبھی مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ دن کو جنہیں جانور بولتا نہیں تھکتا ہے، رات کو انہیں کے پاؤں پڑا منتیں ترلے کرتا پایا جاتا ہے ۔ بڑے دھڑلے سے اپنے ممبران قومی اسمبلی کے استعفے دلاتا ہے اور پھر انہیں ممبران کو قومی اسمبلی واپس بھجوانے کیلئے ان کی تذلیل کروا رہا ہوتا ہے۔ وہ سپیکر کے چیمبر میں منتیں کرتے پائے جاتے ہیں کہ حضور ہم نے تو اوپر اوپر سے استعفے دیے تھے سچ مچ تھوڑے دیے تھے جو آپ نے قبول کروا دیے۔ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں بھی ضد میں آکر تڑوا تو بیٹھا ہے مگر اب اس کا بس نہیں چل رہا کہ کس طرح ان کی بھی واپسی ہو جائے۔ اپنے مہربانوں کے ذریعے عدالتی ایوانوں میں بھی اس نوع کی راگنی گائی گئی ہے جو ظاہر ہے ناممکن قرار پائی ہے۔ کیونکہ خود کردہ لا علاج نیست، رہ گیا نیا مینڈیٹ تو کر لیں یہ شوق بھی پورا۔
افسوس ایک سیاسی اناڑی نے اپنی انا کو تسکین دینے کیلئے ضد اور ہٹ دھرمی میں پوری قوم کو ہی نہیں اس کے اداروں کو بھی تقسیم و انتشار کی بیماری میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ قبل ازیں سستی سیاسی شہرت کیلئے مذہبی جنونیت کو پروموٹ کیا، مذہبی ٹچ اور تڑکوں کے ذریعے مختلف النوع مذہبی منافرتوں کو بھڑکایا اور خود کو طالبان خاں منوایا۔ اچھی بھلی چلتی نموپاتی معیشت کا بھٹہ بٹھایا اور ملک کو ایسا کنگال بنایا کہ اس کی عالمی پہچان ایک بھکاری ملک کی بن کر رہ گئی ۔ یہ تو احمق ہیں جنہوں نے محض کرسی پر بیٹھنے کے شوق میں اس کا سارا گند اٹھا رکھا ہے اور اپنے چہروں پر کالک ملی ہے۔ ورنہ اس نئی بربادی کا نیا معمار پاکستان تو یہ شخص ہے جو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر خودکشی کو ترجیح دیتا تھا۔ خودکشی تو اس نے نہیں کی البتہ جاتے جاتے اس نئے پاکستان پر ایسا خوفناک خودکش حملہ ضرور کر گیا جس سے پوری قوم بالخصوص قوم کا نوجوان طبقہ ذہنی کنفیوژن سے گزرتے ہوئے ملک کے مستقبل سے ہی مایوس ہو چکا ہے ۔
پہلے تو یہاں اچھی و معیاری تعلیم کے مواقع مفقود ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی پڑھ لکھ جاتا ہے تو اپنے سامنے غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کے عفریت منہ کھولے دیکھتا ہے۔ اس پریشانی میں وہ اس مملکت بدنصیب کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر کسی کافر مغربی ملک کا رخ کرنے کیلئے بے چین ہے۔ درویش کو حالیہ دنوں اپنے پاسپورٹ کی تجدید کیلئے پاسپورٹ آفس جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں لگی نوجوانوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ جس سے بات کی اس کی درد بھری کہانی تھی اور امید کی بس یہ کرن کہ وہ کسی بھی طرح یورپ جابسے۔ اس پریشانی میں ہمارے نوجوان یورپ پہنچنے کیلئے قانونی وغیر قانونی راہوں کا فرق کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں جس کا تازہ ثبوت اٹلی کے نزدیک چٹان سے ٹکرا کر ا لٹنے والی کشتی میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ مرنے والے ساٹھ افغانی، ایرانی اور پاکستانی نوجوانوں میں سے تیس بدنصیب لاشیں ہماری تھیں اور کئی لاپتہ ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا یا آخری سانحہ نہیں ہے ایسی اندوہناک اموات دیکھ کر بھی ہمارے پریشان حال بدقسمت نوجوان جائے امان مغرب کو ہی کیوں سمجھتے ہیں ؟ آخر وہ اپنے قریبی اسلامی ممالک میں کیوں نہیں بسنا چاہتے ہیں؟ اب ایرانی و افغانی بھائی بھی ہماری اس سوچ کی مطابقت میں اپنے ممالک کو کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں؟ کیا دانشوران قوم ان تلخ سوالات پر غور کرنا پسند فرمائیں گے؟ کیا ہمارے جناح اول نے اتنے عظیم اور بڑے ملک کا بٹوارہ کرواتے ہوئے یہ ملک پاکستان اس لئے بنوایا تھا جہاں ہماری نئی نسلیں بھوکوں مریں یا پھر باہر نکل جانے کی کوشش میں ماری جائیں؟۔