نکو ٹین کیا ہے؟

it is not the NICOTINE that kills half of all long-term smokers, it is the delivery mechanism"(Michael Russell)

 ’یہ نکوٹین نہیں ہے جو طویل مدتی تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے نصف کو مار دیتی ہے، یہ ترسیل کا طریقہ کار ہے‘۔ یہ تاریخی الفاظ برٹش سائیکالوجسٹ مائیکل رسل کے ہیں جنہیں دنیا بابائے ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کے طور پہ جانتی ہے۔

تقریباً چالیس سال قبل مائیکل رسل نے کہا تھا  کہ ’لوگ نکوٹین کے لئے تمباکواستعمال کرتے ہیں مگر مرتے ٹار سے ہیں‘۔ جین نکوٹ جس کے نام سے لفظ نکوٹین نکلا ہے، یہ فرانسیسی تھا۔ 1560 میں اس نے پرتگال سے فرانس میں تمباکو متعارف کروایا تھا جہاں سے یہ انگلستان تک پھیل گیا۔ تمباکو نوشی کرنے والے انگریز کی پہلی رپورٹ 1556 میں بِرسٹل میں ایک ملاح کی ہے جسے ’اپنے نتھنوں سے دھواں نکالتے ہوئے‘  دیکھا گیا۔

جرمن کیمسٹس پوسیلٹ اور ریئمان نے پہلی بار تمباکو کے پودوں سے نکوٹین کو الگ کیا تھا۔ نکوٹین چند مائع انکلائڈز میں سے ایک ہے۔اپنی خالص حالت میں یہ تیل کی مستقل مزاجی کے ساتھ بے رنگ بے بُو مائع ہے لیکن جب روشنی یا ہوا کے سامنے آتا ہے تو بھورا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور تمباکو کی شدید بُو دیتا ہے۔دنیا میں مفروضوں کی بنیاد پر تھیوری بنتی ہے۔ ان مفروضوں کا مختلف ماحول اور مختلف اوقات میں سائنسی بنیادوں پر مطالعہ اور تجزیہ کیا جاتا ہے،پھر نتائج کو پرکھنے کے لئے اور تھیوریز پر کام ہوتا ہے۔ نتائج ایک ہی جیسے حاصل ہوں تب کسی مفروضے کو ’قانون‘ کا درجہ دیاجاتاہے۔ تمباکو کے استعمال کا ایک آسان اور نسبتاً سستا ذریعہ صدیوں سے دنیا میں رائج ہے۔

سگریٹ کے دھؤیں سے انسانی صحت اور معاشی نقصان کے پیشِ نظر برطانیہ، کینیڈا، جاپان، اور یورپ کے بعض ملکوں کے سائنسدانوں نے بالآخر اس نقصان سے بچنے کے سائنسی طریقے دریافت کر لئے ہیں۔ چنانچہ جب سے دنیا میں تمباکو کے مکمل خاتمے کی مہم وجود میں آئی ہے تمباکو انڈسٹری نے ٹوبیکوہارم ریڈکشن مصنوعات کے خلاف غلط معلومات کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کا کام شروع کر رکھا ہے۔ خصوصاً نکوٹین کے بارے میں عجیب پروپیگنڈہ مہم جاری کی ہوئی ہے۔ نکوٹین جس کا کام سگریٹ نوش کو سگریٹ نوشی کی لَت میں مبتلا رکھنا ہے، کبھی بھی ’ بُری‘  چیز نہیں تھی البتہ جب سائنسدانوں نے یہ کہا کہ سگریٹ نوش کو اگر کسی اور محفوظ طریقے سے نکوٹین مہیا کر دی جائے تو وہ سگریٹ نوشی ترک کر دے گا،  تب سے ’ ’نکوٹین دماغ کے لئے زہر کی حیثیت رکھنے لگی ہے‘۔

یہ اور اس طرح کی دیگر بے سرو پا باتوں پر مبنی پروپیگنڈہ مہم سگریٹ انڈسٹری کے ایما پر دنیا بھر میں جاری ہے۔ ایسی باتوں کے لئے اُن کے پاس کوئی سائنسی تحقیق نہیں ہے۔برطانیہ کے سوشل سائنٹسٹ اور ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کے ایڈووکیٹ پر وفیسر جیری سٹمسن  کا کہنا ہے کہ نکوٹین کے حصول کا سگریٹ ایک نقصان دہ میکنزم ہے جبکہ نکو ٹین از خود ان بیماریوں کا سبب ہرگز نہیں ہے جو سگریٹ کے سلگنے کے عمل سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح اوٹاوا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ  ٹی۔ سوینر، جو سنٹر فار ہیلتھ لاء، پالیسی اینڈ ایتھک ایڈوائزری بورڈ کے چیئر پرسن ہیں کا کہنا ہے، یہ سگریٹ کا دھؤاں ہے، نکوٹین نہیں، جو سگریٹ نوش کی موت کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا  کہ’انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سگریٹ کا دھواں ہے، نکوٹین نہیں، جو انہیں مار دے گا‘۔

 انسان کب سے تمباکو استعمال کر رہا ہے، اس بارے میں بعض محقیقن کے مطابق مقامی امریکی باشندے6000 سال قبل مسیح میں تمباکو کاشت کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اکتوبر 1492 میں جب کرسٹوفر کولمبس نے براعظم امریکہ کی سر زمین پر قدم رکھے تو اس نے قدیم مقامی باشندوں کو جو تحائف دیے ان میں تمباکو کے خشک پتّے بھی شامل تھے۔سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں قابلِ علاج ہیں اس کے باوجود سگریٹ نوشوں کی موت کی یہ بڑی وجہ جانی جاتی ہے۔    تمباکو کے استعمال یا سگریٹ نوشی سے دنیا میں ہر سال ستر لاکھ لوگ مرتے ہیں۔ اگر دنیا میں سگریٹ نوشی کا انداز یہی رہا تو 2030 تک اسّی لاکھ لوگ سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جائیں گے۔

سگریٹ کے سلگنے اور دھوئیں سے کئی ہزار کیمیکل اور گیسیں فضا میں تحلیل ہوتی ہیں جن میں کاربن مونو آکسائیڈ اور ٹار بھی شامل ہیں جو کینسر، پھپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ سلگنے والے سگریٹ اور اُس کے دھؤیں سے پیدا ہونے والی بیماریاں اور ان کے نتیجے میں پاکستان میں ہر سال 166000 لوگ مرتے ہیں ان میں 31000 وہ ہیں جو خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن اپنے گھر، دفتر اور ارد گرد میں سگریٹ پینے والوں کے دھویں، جس میں وہ سانس  لیتے ہیں،  مر جاتے ہیں جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہا جاتا ہے۔  پاکستان سالانہ 143 بلین روپے  تمباکو سے پیدا ہوے والی بیماریوں کے علاج معالجہ پر خرچ کرتا ہے۔سلگنے والے سگریٹ سے سموکر کی صحت کو پہنچنے والا نقصان مسلمہ ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ جبکہ سگریٹ نوشی کو ترک کرنے والی متبادل ٹیکنالوجیز کی مصنوعات جیسے ہیٹڈ ٹوبیکو، نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی، ہارم ریڈکشن پراڈکٹس ، نکوٹین  پیچز، نکوٹین چیوگم وغیرہ،  کے بارے میں مختلف ممالک کی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ ان اشیاء کے استعمال سے سگریٹ نوشی ترک کرنے میں مدد ملتی ہے اور ان کے استعمال سے کینسر، پھپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا خدشہ بھی نہیں ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی تحقیق کے مطابق ویپنگ روایتی سگریٹ سے 95 فیصد تک محفوظ ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ نکوٹین کے استعمال سے نہیں مرتے سموکر کے مرنے کا باعث ٹار بنتا  ہے۔فلپائن میں سگریٹ نوشی 29 فیصد سے کم ہو کر 19.5 فیصد پر آ گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشوں کو نکوٹین کے حصول کا آسان متبادل  میسر آ گیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ فلپائن نے کم نقصان دہ تمباکو کی جو پالیسی اپنائی ہے وہ ایشیا کے دیگر ممالک کے لئے رول ماڈل کا کام کرے گی۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ویپنگ وغیرہ کا استعمال اُن بالغ سگریٹ نوشوں کیلئے ہے جو باوجود خواہش کے سگریٹ نوشی ترک نہیں کر پاتے۔ جیسے پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں پر سگریٹ نوشی قانوناً ممنوع ہے اسی طرح ویپنگ کے بارے میں بھی قانون سازی کی ضرورت ہے۔

جیسا کہ دنیا نے سلگنے والے سگریٹ کے نقصان کا تسلیم کر لیا ہے اور اس نقصان سے ممکنہ بچاؤ کے طریقے بھی دریافت کر لئے ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ان متبادل مصنوعات کو سمجھداری سے ریگولرائز کرئے۔ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن  کو قومی صحت پالیسی کا حصہ بنائے۔ پالیسی سازی میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول سموکرز کو بھی شامل کرے۔وہ سموکرز جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں اُن کی مدد کیلئے ملک گیر سطح پر ہیلپ لائنز بنائے۔ پہلی کوشش کے طور پر ملک کے بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں سیسیشن کلینکس کا آغاز کیا جائے۔پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے۔ اس کی معیشت پر سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج معالجے پر  کثیر رقم سالانہ کا بوجھ ہے۔

آج جبکہ امیر اور خوشحال ملک بھی اپنے شہریوں کی بہترصحت کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور جدید مصنوعات کو اختیار کر رہے ہیں پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ملک سے سلگنے والے سگریٹ کے مکمل خاتمے کی پالیسی اختیار کرے۔ جس طرح برطانیہ، نیوزی لینڈ، جاپان، فلپائن اور دیگر ممالک نے اپنے اپنے ملکوں کو تمباکو سے پاک بنانے کے لئے وقت کا تعیّن کر لیا ہے، پاکستان کو بھی اس کام میں ان ترقی یافتہ ملکوں کی پیروی کرنی چاہیے۔

یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ویپنگ وغیرہ کا استعمال اُن بالغ سگریٹ  نوشوں کیلئے ہے جو باوجود خواہش کے سگریٹ نوشی ترک نہیں کر پاتے۔ جیسے پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں پر سگریٹ نوشی قانوناً ممنوع ہے اسی طرح ویپنگ کے بارے میں بھی قانون سازی ضرورت ہے۔

جیسا کہ دنیا نے سلگنے والے سگریٹ کے نقصان کا تسلیم کر لیا ہے اور اس نقصان سے ممکنہ بچاؤ کے طریقے بھی دریافت کر لئے ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ان متبادل مصنوعات کو سمجھداری سے ریگولرائز کرئے۔ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کو قومی صحت پالیسی کا حصہ بنائے۔ پالیسی سازی میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول سموکرز کو بھی شامل کرئے۔وہ سموکرز جو سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں اُن کی مدد کیلئے ملک گیر سطح پر ہیلپ لائنز بنائے۔ پہلی کوشش کے طور پر ملک کے بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں سیسیشن کلینکس کا آغاز کیا جائے۔

پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے۔ اس کی معیشت پر سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر سالانہ کثیر وسائل صرف ہوتے ہیں۔ آج جبکہ امیر اور خوشحال ملک بھی اپنے شہریوں کی بہترصحت کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور جدید مصنوعات کو اختیار کر رہے ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ ملک سے سلگنے والے سگریٹ کے مکمل خاتمے کی پالیسی اختیار کرے۔ جس طرح برطانیہ، نیوزی لینڈ، جاپان، فلپائن اور دیگر ممالک نے اپنے اپنے ملکوں کو تمباکو سے پاک بنانے کے لئے وقت کا تعیّن کر لیا ہے، پاکستان کو بھی اس کام میں ان ترقی یافتہ ملکوں کی پیروی کرنی چاہیے۔