انتخابات سے فرار نہ جمہوریت پسندی ہے اور نہ وطن دوستی
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 02 / مارچ / 2023
پاکستان سے روزانہ کی بنیاد پرتشویشناک خبریں موصول ہوتی ہیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ نے بھونچال کھڑا کیا تھا اور آج شرح سود میں ریکارڈ اضافہ، آئی ایم ایف سے معاہدہ میں تاخیر کے سبب ڈالر کی غیر متوقع اڑان اور وزیر خزانہ کی روائیتی یقین دہانی پر مشتمل بیان خبروں میں چھایا رہا۔ پاکستان کو اس وقت سنگین مالی بحران کا سامنا ہے اور ملک میں برپا سیاسی تنازعہ اور عدلیہ کی لاتعلقی نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔
سب یہ جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کو مالی طور سے جس پریشانی کا سامنا ہے ، اس کا حل کسی ایک نابغہ کے پاس موجود نہیں ہے بلکہ اہل پاکستان کو بطور قوم مل جل کر اس مشکل سے نکلنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اسحاق ڈار کو معاشی مسائل کا واحد حل بتانے یا موجودہ مالی مشکلات کا سارا الزام سابق حکومت کے سر تھونپنے سے اس پریشانی سے نہیں نکلا جاسکتا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے علاوہ دوست ممالک اور دیگر مالی اداروں کے ساتھ جس بداعتمادی کا سامنا ہے، اس میں ماضی کی سب حکومتوں نے حصہ ڈالا تھا۔
عمران خان کے ان دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ان کی حکومت مالی مسائل پر قابو پاکر ملکی معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کرچکی تھی لیکن سابق آرمی چیف نے ان کی حکومت کے خلاف ’سازش‘ کے ذریعے ان کوششوں پر پانی پھیر دیا۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کا بھی یہی مؤقف ہے کہ 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک تیزی سے معاشی بحالی کے سفر پر گامزن تھا حالانکہ پہلے دو ’سیاسی کزنز ‘ کے دھرنے اور پھر پاناما کیس کی ’سازش‘ نے اس کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کردیا۔ عمران مخالف سیاست دانوں کا یہ بھی کہناہے کہ فوج نے ایک دہائی تک دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کو سیاست سے باہر نکالنے اور ان کی جگہ عمران خان کو مسلط کرنے کی جو منصوبہ بندی کی تھی، اس وقت ملک انہی سازشوں اور غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
الزام اور جوابی الزامات سے اگر مسائل حل ہوسکتے تو پاکستان کب کا موجودہ مالی مشکلات کو پیچھے چھوڑ چکا ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان ہر نئی مشکل صورت حال میں سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے بیان جاری کرنا اور اس کا سارا الزام شہباز شریف کی بدعنوانی پر عائد کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اور حکومتی ترجمان مدافعتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فوری طور سے جوابی حملہ کرتے ہیں۔ اب چند ماہ کے وقفہ کے بعد مریم نواز ایک نئے جوش و ولولے کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر کے طور پر اب وہ پارٹی میں اختیار کی علامت بھی بنی ہوئی ہیں۔ تاہم وہ عمران خان والی شدت پسندی سے جس طرح سیاسی مخالفین کے علاوہ اداروں پر حملہ آور ہوئی ہیں، اس سے معاملات سلجھنے کا امکان کم ہوتا جارہا ہے۔
پاکستان کا شاید ہی کوئی تجزیہ نگار ہو جس نے یہ ذکر نہ کیا ہو کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لاکر مختصر مدت کے لئے اقتدار سنبھالنا درحقیقت مسلم لیگ (ن) کی سیاسی موت کا پیغام تھا۔ اقتدار میں شہباز شریف کی مدت میں طوالت اور مہنگائی کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ بدقسمتی سے پارٹی کی قیادت ابھی تک اس معاملہ پر سنجیدہ غور کرتے ہوئے، پارٹی کی ساکھ کے علاوہ ملک میں جمہوریت کی بقا میں کردار ادا کرنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ شہباز شریف کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ وزارت عظمی اور پارٹی کی صدارت پر فائز ہیں لیکن ان کے پاس پارٹی کے ہی نہیں حکومتی فیصلے کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ نواز شریف نہ پاکستان واپس آتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اپنی عقل و صوابدید کے مطابق کوئی فیصلہ کرنے دیتے ہیں۔ اب مریم نواز کی سرکردگی میں اعلیٰ عدلیہ کو دباؤ میں لانے اور نواز شریف کے خلاف فیصلوں کو تبدیل کروانے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ اب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ’نواز شریف واپس آکر حالات ٹھیک کردیں گے‘۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب سارے فیصلے ان کے ہاتھ ہی میں ہیں تو حالات بہتر کیوں نہیں ہوتے یا یہ کہ نواز شریف آخر واپس آ کیوں نہیں جاتے؟
نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں۔ یہ سزا بھگتتے ہوئے بیماری کے سبب وہ کوٹ لکھپت جیل سے لندن سدھارے تھے۔ انہیں عدالتی حکم کے تحت مختصر مدت کے لئے بیرون ملک جاکر علاج کروانے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم وہ یہ مدت پوری ہونے اور عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے باوجود پاکستان واپس نہیں آئے ۔ کیوں کہ واپسی پر قانونی طور سے انہیں جیل ہی جانا پڑے گا۔ یہی خوف ان کے قدم روکے ہوئے ہے۔ دوسری طرف ہائی کورٹس میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں نواز شریف کی غیر حاضری کی وجہ سے سماعت کے لئے مقرر نہیں ہوتیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کو عدالت کا مفرور قرار دے چکی ہے۔ اس حیثیت کو تبدیل کروانے اور زیریں عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں میں ریلیف حاصل کرنے کے لئے نواز شریف کا ملک میں ہونا ضروری ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف واپسی سے پہلے کوئی ایسی ضمانت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو عدالتیں فراہم کرنے پر راضی نہیں ہیں ۔ اسی لئے عدلیہ پر دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ اب مریم نواز یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ سیاسی دباؤ اور انتخابی عمل میں مسلسل رکاوٹوں کے ہتھکنڈوں سے مجبور ہو کر سپریم کورٹ کوئی غیر معمولی اقدام کرکے نواز شریف کو ’معصوم ‘ قرار دے۔
یہ خواہش شاید پوری نہ ہوسکے۔ لیکن اگر فرض کرلیا جائے کہ سپریم کورٹ کسی پٹیشن پر کارروائی کرتے ہوئے ماضی قریب میں کئے گئے فیصلوں کو ری وزٹ کرنے پر راضی ہوجائے تو اس سے نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا۔ عمران خان جیسے طاقت ور اپوزیشن لیڈر کی موجودگی میں ایسے کسی طریقے کو ملی بھگت قرار دے کر مسترد کردیا جائے گا۔ اس کے برعکس نواز شریف اگر کوئی شرط عائد کئے بغیر واپس آجاتے اور چند مزید دن جیل میں گزار لیتے تو ہائی کورٹس میں ان کے مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوسکتا تھا اور انہیں میرٹ پر ہی ریلیف بھی مل جاتا۔ یوں قانونی مشکل پر قابو پانے کے علاوہ ، وہ سیاسی فائدہ بھی حاصل کرسکتے تھے کہ بھائی کی وزارت عظمی میں بھی انہوں نے جیل جانے اور عدالتوں کا احترام کرنا مناسب سمجھا۔ دیکھا جائے تو نواز شریف کا ملک واپسی سے خوف بھی درحقیقت مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مسائل میں اسی طرح اضافہ کا سبب بنا ہے جیسا کہ شہباز شریف کا وزیر اعظم بننا۔
شہباز شریف اور ان کے سیاسی حلیفوں نے عمران خان کو نیچا دکھانے کے لئے درحقیقت اسی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہتھ جوڑی کی جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر مقدمے قائم ہوئے اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں تاکہ عمران پروجیکٹ کامیاب ہوسکے ۔ اور ملک پر طویل مدت کے لئے ایک ایسی پارٹی کی حکومت قائم ہوجائے جو فوجی اقتدار کا سیاسی چہرہ بن کر کام کرتی رہے۔ تاہم یہ منصوبہ تین ساڑھے تین سال میں ہی ناکام ہوگیا۔ اس ناکامی کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے اسٹبلشمنٹ نے آصف زرداری کے ذریعے مسلم لیگ (ن) اور دیگر پارٹیوں کو ’ایک پیج‘ پر اکٹھا کرکے یہ سارا بوجھ ان کے سر پر لاد دیا۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ یہ قدم اٹھاتے ہوئے اتحادی حکومت میں شامل سیاست دانوں کو ان مشکلات کا اندازہ ہی نہ ہو جو اس راستے میں درپیش تھیں ۔لیکن اقتدار کی خواہش اور عمران خان کو نیچا دکھانے کی امنگ میں وہ اس عاقبت نااندیشی پر آمادہ ہوگئے۔ عمران خان نے اس صورت حال سے خوب فائدہ اٹھایا اور حکومت و اسٹبلشمنٹ کے خلاف ایک مضبوط سیاسی مہم کے ذریعے بدستور اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ اسی مقبولیت کے خوف سے اب حکومت انتخابات سے بھاگ رہی ہے اور اس کے لئے مختلف حیلے تلاش کئے جارہے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ میں خواہ جتنے بھی سقم تلاش کرلیے جائیں اور اسے سپریم کورٹ کے ججوں میں گروہ بندی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جائے لیکن دیکھا جائے تو اس فیصلہ نے سیاسی بحران کم کرنے کا ایک راستہ بہر حال دکھایا ہے۔ اگرچہ یہ راستہ ویسا نہیں ہے جو اتحادی حکومت چاہتی تھی لیکن یہ بہر حال آئینی طریقہ ہے۔ کسی کو اس بات سے تو اختلاف نہیں ہے کہ اسمبلیاں تحیل ہونے کی صورت میں آئین 90 دن کے اندر انتخابات کا حکم صادر کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے منقسم بنچ نے اسی اصول کی بنیاد پر انتخابات کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ بنچ میں شامل ججوں یا اس سے علیحدہ ہونے والے ججوں میں سے کسی نے بھی اس اصول کو مسترد نہیں کیا کہ آئین 90 روز میں انتخابات کا تقاضہ کرتا ہے۔ فاضل ججوں کے اختلافی نوٹ سوموٹو کارروائی کرنے یا ہائی کورٹ کے اختیار کر نظر انداز کرنے کے حوالے سے لکھے گئے ہیں۔
قانونی طور سے حکومتی پارٹیاں خواہ کوئی بھی مؤقف اختیار کریں لیکن سیاسی طور سے انہیں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کا راستہ روکنے کی حکمت عملی سے گریز کرنا چاہئے۔ عمران خان کو گرفتار کرنا یا انہیں نااہل قرار دے کر انتخاب جیتنے کا خواب دیکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہوگا۔ عمران خان اسٹبلشمنٹ کے تعاون و سرپرستی سے اسی طرح برسراقتدار آئے تھے جیسے نواز شریف نے سابق فوجی آمر جنرل ضیا کا ہاتھ تھام کر یہ سفر طے کیا تھا۔ انہوں نے بھی نواز شریف کی طرح مزاحمت ہی کے ذریعے مقبولیت حاصل کی ہے۔ یاد رہے ایک سال پہلے تک مسلم لیگ (ن) ’ ووٹ کو عزت دو ‘ کا نعرہ اسی مزاحمت کی علامت کے طور پر بلند کرتی تھی۔ اب انتخابات سے فرار، درحقیقت عوام کے ووٹ کی توہین کے مترادف ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) سیاسی و جمہوری عمل سے جتنا بچنے کی کوشش کرے گی، اس کی مشکلات میں اسی قدر اضافہ ہوگا۔ اب بھی مریم نواز اور پارٹی کی دوسری قیادت کو اینٹی عمران مہم جوئی کی بجائے پارٹی کو منظم کرنے اور اپنے منشور کی بنیاد پر عوامی شعور پر بھروسہ کرنے کی ہمت کرنی چاہئے۔