پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 03 / مارچ / 2023
پاکستان کا داخلی اور علاقائی استحکام بنیادی طور پر افغانستان کے ساتھ تعلقات، دو طرفہ تعاون، سکیورٹی معاملات اور باہمی اعتماد کے ماحول سے جڑا ہوا ہے۔
ایک تجزیہ یہ تھا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاک افغان تعلقات میں اعتماد سازی کے تناظر میں کافی بہتری نظر آئے گی۔لیکن پاکستان کی داخلی سکیورٹی اور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے مسلسل حملوں کو دیکھا جائے تو اعتماد سازی کے مقابلے میں بداعتمادی کا ماحول غالب نظر آتا ہے۔پاک افغان تعلقات کی بہتری اس وقت بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کیونکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے بغیر نہ تو خطے میں ہم کوئی بڑا استحکام دیکھ سکتے ہیں او رنہ ہی یہ استحکام پاک افغان تعلقات میں دیکھا جاسکے گا۔کیونکہ بھارت بھی براہ راست افغانستان میں مسائل ہیں ان سے جڑا ہوا ہے او ر چاہتا ہے کہ پاک افغا ن معاملات میں بہتری کی بجائے اور زیادہ بداعتمادی پیدا ہو۔ تاکہ وہ یہ تاثر افغا ن طالبان اور افغان قوم میں پیدا کرسکے کہ پاکستان ان کے حالات میں خرابی کا ذمہ دار ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغان طالبان کی قیادت یا حکومت کے درمیان محاز آرائی یا الزام تراشی کی سیاست دیکھنے کو ملی ہے، وہ بھی حالات کی اچھی نشاندہی نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ اس موقف کو دہرایا جارہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان حکومت کے درمیان الزام تراشی کے مقابلے میں ڈائیلاگ او رمفاہمت یا دو طرفہ تعاون کے راستے کو مضبوط بنایا جائے۔ مسئلہ الزامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ کر او راس پر موثر حکمت عملی اختیار کرکے محفوظ راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک بڑی مثبت پیش رفت پاکستانی حکومت او رسکیورٹی اداروں کے وفد کا دورہ کابل ہے۔اس وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی۔ جبکہ ا ن کے ہمرا ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم، سیکرٹری خارجہ اسد مجید خان، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق اور کابل میں پاکستان کے ناظم الامورعبدالرحمن نظامانی بھی شامل تھے۔اس وفد نے کابل میں افغان حکومت اور طالبان کی سیاسی اور سکیورٹی قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ ان میں افغان ڈپٹی وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر،قائم مقام وزیر خارجہ عامر خان متقی،وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی شامل تھے۔
پاکستان کی جانب سے یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہؤا جب نہ صرف پاکستان افغانستان تعلقات میں کافی مسائل موجود ہیں یا اس کے نتیجہ میں ہماری داخلی سیاست میں دہشت گردی یا سکیورٹی کے تناظر میں سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پشاور او رکراچی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات نے سکیورٹی صورتحال پر ہمیں گہری تشویش میں مبتلا کیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ حالیہ پاک افغانستان دورہ میں خطہ میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات،ٹی ٹی پی اور داعش کی سرگرمیوں جن میں خراسانی گروپ بھی شامل ہیں پر بات چیت، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی، جوابدہی اور دوطرفہ تعاون برائے انسداد دہشت گردی جیسے امور شامل ہیں۔
مسئلہ محض سیاسی اور دہشت گردی کی حکمت عملی ہی نہیں بلکہ دو طرفہ سیاسی، انتظامی اور معاشی یا تجارت سے جڑے امکانات کو فوقیت دینی ہوگی۔جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاک افغان تعلقات میں سکیورٹی یا دہشت گردی کو پس پشت ڈال کر محض تجارت تک محدود رکھا جائے، یہ ممکن نہیں اور نہ ہی اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد ہوسکیں گے۔حالیہ دو طرف بات چیت میں پاکستان نے سکیورٹی یا دہشت گردی کو تجارت کے ساتھ جوڑ کر ایجنڈے پر لانے کی کوشش کی۔ جبکہ افغانستان تجارت کو سکیورٹی سے الگ رکھ کر بات چیت کرتے رہے جو ڈیڈ لاک پیدا کرتا ہے۔بنیادی طور پر مسئلہ حالیہ دہشت گردی کی صورت میں آیا ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے او را س پر افغان حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ ٹی ٹی پی یا داعش میں سے کون دہشت گردی میں ملوث ہے اور کون خراسانی گروپ سے منسلک ہیں۔ افغا ن طالبان حکومت نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سرزمین کسی بھی صورت میں پاکستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی۔لیکن بدستور افغان حکومت اپنے اس وعدہ میں ناکامی سے دوچار ہے۔افغان طالبان حکومت کا یہ موقف بھی درست نہیں کہ ٹی ٹی پی یا داعش کے جنگجو افغانستان میں نہیں ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو یہ کہاں ہیں اور کون پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے اس کا تعین کیسے ہوگا او رکیسے دونوں ممالک مستقبل کے تناظر میں بہتری کے امکانات پیدا کرسکتے ہیں۔افغان حکومت کو پاکستان کے اس نقطہ نظر کو سمجھنا ہوگا اور اس پر سنجیدگی سے کچھ کرکے دکھانا ہوگا کہ ٹی ٹی پی یا داعش کے جنگجو افغان سرزمین کو بطور پناہ گاہیں استعمال کررہی ہیں۔
اسی پس منطر میں پاکستانی وفد نے کابل کا دورہ کیا اور اس امکان کو ممکن بنانے کی کوشش کی کہ اس کو ہر صورت میں نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔مگر پاکستان کی خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں نکلا۔ حالانکہ پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت افغا ن حکومت کو دیے کے کیسے ٹی ٹی پی کی موجودگی اور افغانستان میں ان کے مقام کی نشاندہی کی گئی۔لیکن اس کے باوجود افغان حکومت نے اس پر کوئی بڑی بات نہیں کی اور نہ ہی اس کا اعتراف کیا جو مسائل کی موجودگی کا احساس اب بھی دلاتا ہے البتہ ٹی ٹی پی عناصر کو کنٹرول کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ پاکستان نے دو ٹوک انداز میں افغان قیادت کو پیغام دیا کہ وہ پاکستا ن کی خیر سگالی یا دو طرفہ تعاون کے پہلوؤں کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ پاکستان کے بقول ٹی ٹی پی یا دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس کاروائیاں کی جائیں۔اسی طرح پاکستان نے افغان سرحد پر افغان فورسز کی اشتعال انگیز ی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہا رکیا۔
سی طرح پاکستان نے مختلف سرحدی کراسنگ پر افغان شہریوں کی بدانتظامی کے آئی ای اے کے موقف کو بھی مسترد کیا۔ پاکستانی وفد نے افغان حکومت کو بتایا کہ افغانستان کی جانب سے بار بار نامکمل او رجعلی دستاویزات کے ساتھ سفرکرنے والے افغان شہریوں کے لیے بارڈر کراسنگ پروٹوکول کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ قانونی نقل وحرکت کے طریقہ کار پر عمل کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی ان افغان شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہورہے ہیں۔پاکستانی وفد کے بقول ٹی ٹی پی کی کسی بھی قسم کی حمایت پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے او رافغانستان کے اندر ٹی ٹی پی سے اسی طرح نمٹا جائے گا۔ یہ ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں کے تمام سہولت کاروں او ران کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بھی یکساں نتائج کا سامنا ہوگا خواہ وہ پاکستان کے اندر ہوں یا پاک افغان سرحد کے ساتھ خفیہ پناہ گاہوں میں رہائش پزیر ہیں۔
افغان حکومت کی جانب سے ان ملاقاتوں کا جو بیان جاری کیا گیا وہ بھی نامکمل ہے۔ مثلاً افغان سرحدوں پر دونوں اطراف سے تاجروں کے آنے جانے میں حائل رکاوٹیں دور کرنا، اقتصادی شعبوں میں فروغ اور دہشت گردی کو روکنے میں غیر معمولی اقدامات کا کوئی خاص زکر دیکھنے کو نہیں مل سکا۔اسی طرح یہ نقطہ بھی زیر بحث رہا کہ ٹی ٹی پی کس کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ افغان حکومت اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ ہی سمجھتا ہے جبکہ اصولی طور پر یہ مسئلہ محض پاکستا ن کا نہیں بلکہ خود افغانستان کی حمایت او رموثر اقدامات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔افغانستان کی حکومت کا اس مسئلہ کی ذمہ داری محض پاکستان پر ڈالنا اور خود کو بری الزمہ قرار دینا درست نہیں۔لیکن اس کے باوجود ان تمام مسائل پر کسی بھی قسم کی شدت پسندی کی نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات کے عمل کو باقاعدگی سے جاری رکھنا اور دو طرفہ اقدامات اہم ہیں۔
اس مسئلہ پر ہمیں خود بھی ایک بڑی سفارت کاری کی ضرورت ہے اور اس مسئلہ کو دنیا سمیت علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنا ہوگا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم نے اگر دہشت گردی یا سکیورٹی کے حالات کو بہتر بنانا ہے تو پھر ہمیں داخلی سیاسی استحکام کو بھی قومی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔