عمران خان آرمی چیف سے آخر کس بات کی معافی چاہتے ہیں؟

عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ دلچسپ بات کی ہے کہ   لگتا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو ان سے ملنے کے لئے تیار ہیں۔  اپنی ہی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کوئی ملنا ہی نہ چاہے تو وہ کیا کرسکتے ہیں۔  اسی  گفتگو میں عمران خان نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی کیا کہ’میری اسٹبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن  کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں گھٹنے ٹیک دوں تو یہ نہیں ہوسکتا‘۔

عمران خان کی اس بے چارگی کو’اس سادگی  پہ کون نہ مرجائے اے خدا ‘ کے   علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ ملک کا وزیر اعظم رہنے والا،    اپنے ہی دعوؤں کے مطابق ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا چئیرمین اور ’ امپائرز کے مخالفین کے ساتھ مل جانے کے باوجود‘  تمام اسمبلیوں  میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا دعویدار  لیڈر جب  آرمی چیف سے صحافیوں کے ذریعے مخاطب ہوکر  ناراضی معاف کرنے اور کسی طرح ملاقات کا موقع دینے کی دہائی دے رہا ہو تو  سیاسی زبان میں اسے گھٹنے ٹیکنا ہی کہتے ہیں۔ کسی کو اس سے غرض نہیں ہوگی کہ عمران خان واقعی  گھٹنوں کے بل کھڑے ہوکر دکھائیں۔  تاہم   جیسی  منت سماجت  وہ اب کررہے ہیں، اسے ہی پسپائی اور شکست خوردگی کا نام دیا جاتا ہے۔

 عمران خان کسی بھی  طرح اسٹبلشمنٹ کو رجھانا چاہتے ہیں لیکن  فوجی قیادت نے ’عمران پراجیکٹ‘ کی کامیابی کے لئے  سیاسی شعبدے بازی میں ملوث  رہ کر  شدید نقصان اٹھایا ہے۔ اسی وجہ سے  وہ کم از کم وقتی طور پر  سیاست سے دور  رہنا چاہتی ہے۔ ستم ظریفی  یہ ہے کہ عمران خان سمیت تمام سیاست دان کسی بھی طرح اسٹبلشمنٹ کو اپنا فریق بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ فی الوقت اس موڈ میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی حکومتی حلقوں سے آہ و زاری سنائی دیتی ہے اور اب عمران خان دہائی دیتے پائے گئے ہیں۔    عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو سیاست نہیں آتی لیکن ان کے طرز عمل سے تو یہ لگتا ہے کہ وہ خود سیاست کی ابجد سے  نابلد ہیں۔  اور طاقت ور کی انگلی پکڑ کر ماضی کی طرح ایک بار پھر  اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ملکی سیاست  کے تمام ہرکارے صرف اقتدار کے لئے سرگرم عمل  ہیں اور اس کھیل میں وہ فوج کے علاوہ عدلیہ کو اہم ’فریق‘ کے طور پر اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ اس  کھینچا تانی ہی کا نتیجہ  ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ میں  بھی تقسیم واضح دکھائی دینے لگی ہے۔ ملک مختلف النوع بحرانوں کا سامنا کررہاہے لیکن سیاست دان یہی سمجھ رہے ہیں کہ اداروں کو کمزور کرکے یا وہاں اپنے لئے ہمدرد پیدا کرکے،  وہ کوئی بہت بڑا معرکہ سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ساری کوششیں درحقیقت ملک  کو مزید کمزور اور قوم کو تقسیم کریں گی۔ پھر عمران خان کے اس دعوے کو کیسے درست مان لیا جائے کہ وہ ملکی بھلائی کے لئے آرمی چیف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی  ان سے بات ہی کرنا نہیں چاہتا۔ وہ ایسی کسی خواہش کا اظہار وزیر اعظم سے ملنے یا سیاسی پارٹیوں کے درمیان محاذ آرائی ختم کرنے کے لئے تو نہیں کرتے۔  کیا وجہ ہے کہ ملک کے ایک اہم سیاسی لیڈر کو ملکی بھلائی محض آرمی چیف سے ملاقات ہی میں دکھائی دیتی ہے؟

پوچھا جاسکتا ہے آخر عمران خان جنرل عاصم  منیر سے کیوں  ملنا چاہتے  ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ ملکی فوج کا سربراہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر سے ملاقات کرے؟ کیا  فوج کے سربراہ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں سے ملاقات کرے اور انہیں موقع دے کہ وہ اپنی دیانت داری کا ثبوت فراہم کرسکیں۔ جیسے کہ عمران خان نے آج ہی  کے بیان  میں جنرل عاصم منیر سے کہا کہ کہ وہی ان کے  یا ان کی اہلیہ کے خلاف  کرپشن کا  ایک کیس بھی  ثابت کرکے دکھادیں۔   جنرل عاصم منیر  سے مخاطب ہوکر یہ درخواست کرنا یوں بھی دلچسپ ہے کہ میڈیا میں ایسی کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں کہ  عمران خان نے وزیر اعظم کے طور پر جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے علیحدہ کروایا تھا کیوں کہ انہوں نے  عمران خان کو ان کی اہلیہ اور ساتھیوں کی کرپشن کے بارے میں شواہد  پر  مبنی  ایک فائل دکھائی تھی۔ دروغ برگردن راوی  ، اگر ان معلومات میں ذرہ بھر بھی سچائی ہے تو جنرل عاصم منیر سے اپنے خلاف  کرپشن ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے درحقیقت عمران خان  اس حرکت پر معافی مانگتے دکھائی دیتے ہیں، جو جنرل عاصم منیر کو  چند ماہ بعد ہی آئی ایس آئی کی سربراہی سے علیحدہ کروانے کی صورت میں  دیکھنے میں آئی تھی۔ بصورت دیگر عمران خان سمیت کسی بھی پاکستانی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے آرمی چیف کو گواہ بنانے یا  ان سے ثبوت مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لئے ملک میں عدالتی نظام موجود ہے جہاں الزامات عائد ہونے کے بعد  متعلقہ شخص اپنی بے گناہی کے ثبوت دے کر   الزامات سے گلوخلاصی کروا سکتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر متعدد الزامات عائد ہوچکے ہیں اور  پارٹی کے  نمایاں لوگوں اور  عمران فیملی کی قریبی دوست فرح خان   بھی ان الزامات کی زد میں ہیں۔ یہ سب لوگ الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ خود عمران خان  پارٹی فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ کیس میں عدالتوں   سے ضمانتیں ہی حاصل کررہے ہیں اور استغاثہ کے الزامات  کا سامنا  نہیں کرتے ۔  ان حالات میں عمران خان  کو جنرل عاصم منیر کی بجائے، نیب یا وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو چیلنج کرنا چاہئے تھا کہ ان کے خلاف بے بنیاد پروپگنڈا نہ کیا جائے اور اگر کسی مقدمہ میں کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ ان کا سامنا کرکے انہیں جھوٹ ثابت کرنے پر آمادہ  ہیں۔ عمران خان کی طرف سے ابھی تک  خود احتسابی کا ایسا  طرز عمل دیکھنے میں نہیں آیا ۔بلکہ وہ مسلسل حکومت میں شامل لوگوں کو چور لٹیرے  حتی کہ  وطن دشمن تک قرار دے کراپنے لئے سیاسی سپیس حاصل کرنے کی  کوشش کرتے رہے ہیں۔

یہ اس ملک کی جمہوری تاریخ کا المیہ ہے کہ عسکری اداروں نے ہر دور میں سیاسی فیصلوں میں کردار ادا کیا اور من پسند لوگوں کو اقتدار تک پہنچایا۔ لیکن  اداروں  پر الزام عائد کرتے ہوئے سیاسی لیڈروں کو بھی آئینہ دکھانا ضروری ہے کہ جب  انہیں  پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے اور غیر منتخب اداروں  کے کردار کو مسترد کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ ہمیشہ پسپا ہو جاتے ہیں۔ عمران خان اگر واقعی اب یہ ادراک کرچکے ہیں کہ  فوج کی سیاست میں مداخلت نامناسب اور غیر آئینی طریقہ ہے اور ہر سیاسی پارٹی کو اپنے پروگرام و منشور کی بنیاد پر عوام سے ووٹ حاصل کرکے ملکی معاملات طے کرنے میں حصہ ادا کرنا چاہئے تو ان کا فطری الحاق و اتحاد فوج کی بجائے ملک  کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بنتا ہے۔ یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ ان سیاسی لیڈروں میں کچھ  نے ماضی میں غلطیاں کی ہوں گی اور کچھ بدعنوانی  یا اقربا پروری جیسے گھناؤنے جرائم میں بھی ملوث رہے ہوں گے ۔لیکن اس کا فیصلہ بہر حال  نہ  تو فوج کا سربراہ کر سکتا ہے  اور نہ ہی سیاسی پلیٹ فارم سے الزامات کی بوچھاڑ  سے یہ معاملات طے ہوسکتے ہیں۔    سیاست دانوں کی کرپشن کا فیصلہ بہر حال ملکی نظام انصاف میں ہی ہوسکتا ہے۔

عمران خان اور دیگر سیاسی لیڈر اگر اس بنیادی اصول کو تسلیم کرلیں تو انہیں ایک دوسرے پر ذاتی تنقید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی بلکہ  وہ سیاسی پالیسیوں یا فیصلوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مہذب انداز میں اختلاف کریں گے۔  ملکی سیاسی قیادت یہ رویہ اختیار کرنے  پر تیار نہیں ہے کیوں کہ ان میں سے  کسی  کے پاس بھی عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی ٹھوس اور واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔ یہی دیکھ لیا جائے کہ اس وقت  ملک میں اتحادی پارٹیوں کی حکومت  قائم ہے لیکن وہ  انہی معاشی پالیسیوں   پر عمل کررہی ہے  جو تحریک انصاف کے دور میں اختیار کی گئی تھیں۔  تب بھی  آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے آگے بڑھنے کا مرحلہ درپیش  تھا اور اب بھی  حکومت اسی عالمی مالیاتی ادارے کو رجھانے کے  لیے ہر مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور ہے۔ عمران خان خود تسلیم کرچکے ہیں کہ اگر انہیں اقتدار مل گیا تو  ان کی حکومت کو بھی آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔  یعنی کسی پارٹی کے پاس متبادل سیاسی و معاشی پروگرام نہیں ہے لیکن شخصیت پرستی کے جنون میں ایک دوسرے  کو نیچا  دکھانے کے لئے  ہر سیاسی لیڈر ملک و قوم کی مشکلات میں اضافہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔

عمران خان اگر واقعی اسٹبلشمنٹ کے سہاروں کو مسترد کرتے ہیں تو  وہ   سابق آرمی چیف پر الزامات عائد کرتے ہوئے،  موجودہ آرمی چیف سے ’ مصالحت‘ کی  کوشش کرکے  یہ مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ وہ  اس لئے جنرل باجوہ کے خلاف  ہیں کیوں کہ انہوں نے  ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ یادش بخیر گزشتہ سال اپریل میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد انہوں نے ’یہ چھرا‘ ایک امریکی اعلیٰ  عہدیدار کے ہاتھ میں پکڑایا ہؤا تھا۔ اسی سے ان   کے بیانات کا تضاد نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان ضرور اپنی حکومت کے خلاف سابق آرمی چیف کی ’سازش‘ کا پردہ فاش کریں لیکن وہ  اپنے حامیوں کو اس  تصویر کی جھلک  بھی  دکھادیں جب جنرل باجوہ کی  سربراہی  میں فوجی قیادت  نے عمران خان کو ’گود لیا ہؤا‘ تھا اور  انہیں کسی بھی قیمت پر ملک کا وزیر اعظم بنانے کے منصوبے پر عمل کروایا گیا تھا۔ عمران خان ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرسکیں تو  جان لیں گے کہ موجودہ بحران درحقیقت اسی حکمت عملی سے جڑا ہے جسے اب عرف عام میں ’عمران پروجیکٹ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس  منصوبہ کے تحت  ہی   نواز شریف کو  سیاست سے باہر کرکے عمران خان کو تخت نشین کروایا گیا تھا۔

عمران خان   نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ  روس کے خلاف بیان دینے پر سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا کورٹ مارشل کیا جائے۔ اسلام آباد کے ایک سیمینار میں جنرل باجوہ نے جب  یہ تقریر کی  تھی ، اس  وقت عمران خان  وزیر اعظم تھے۔  بلکہ اس دوران وہ سابق آرمی چیف کو طویل المدت توسیع دے کر اپنے سیاسی  مسائل حل کروانے میں معاونت پر آمادہ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔    اس پس منظر میں عمران خان یہ بھی بتا دیں کہ اگر جنرل باجوہ ملکی مفاد کو نقصان پہنچا رہے تھے تو بطور وزیر اعظم وہ ان کی گوشمالی  کرنے کی بجائے، انہیں  بدستور آرمی چیف  رکھنے  کی پیش کش کیوں کررہے تھے؟  ایسی ہی صورت  حال میں کہا جاتا ہے کہ  دوسروں  پر پتھر پھینکتے ہوئے، جان لینا چاہئے کہ خود اپنا گھر بھی شیشے کا بنا ہے۔