چینی بینک کی پاکستان کیلئے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری، 50 کروڑ ڈالر موصول

  • ہفتہ 04 / مارچ / 2023

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ چین کے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک  نے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سہولت کے رول اوور کی منظوری دے دی ہے جبکہ 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہو چکی ہے۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بتایا ہے کہ چین کے بینک آئی سی بی سی نے معمول کی کارروائی مکمل کرلی اور ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سہولت کے رول اوور کی منظوری دے دی ہے جو پاکستان نے کچھ عرصہ قبل چینی بینک کو واپس ادا کی تھی۔

ایک ٹوئٹر بیان میں ان کا  کہنا تھا کہ یہ رقم 3 اقساط میں ملے گی، جس کی 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول ہو چکی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز  وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا لمیٹڈ سے 1.3 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی توقع ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔

اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس 3.2 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.44 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور مجمومی طور پر 9.26 ارب کے ذخائر ہیں لیکن اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ چین نے دوستی کا ثبوت دیا ہے اور ہم نے تقریباً 6.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی ہیں جن میں 2 ارب چینی بینکوں جبکہ ساڑھے تین ارب دیگر عالمی بینکوں کو دیے ہیں۔ واضح رہے کہ فروری میں بھی چین کے ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے 2 مارچ کو کہا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اگلے ہفتے تک اسٹاف لیول معاہدہ ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان کو فنڈز کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اسے معاشی بحران کے چیلنجز درپیش ہیں جبکہ مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہیں، جن سے بمشکل تین ہفتے کی درآمدات کی جاسکتی ہیں۔

حکومت عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بیل آؤٹ کے لیے ورچوئل مذاکرات کر رہی ہے جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملے گی۔ اس کے علاوہ دوست ممالک اور کثیر الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈز ملنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ اسحٰق ڈار نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال جون کے اختتام تک توقع سے بہت بہتر ہوگی۔

چین اور سعودی عرب اپنی حمایت میں اضافہ کریں گے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے کے تخمینے سے تقریباً 3 ارب ڈالر کم ہو جائے گا۔