ہمارے آئین میں تضادات وامتیازات کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 04 / مارچ / 2023
ان دنوں ہماری ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے 1973 کے آئین کی نصف صدی یا پچاس سالہ سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ کسی بھی قوم کا آئین جہاں اس قوم کی یکجہتی کا امین ہوتا ہے وہیں اس قوم کے دبے ہوئے کمزور یا پسماندہ طبقات بشمول اقلیتوں کے حقوق کا محافظ اور ان سب کیلئے امید کا ضامن ہوتا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہمارا آئین واقعی ان اعلیٰ آدرشوں پر پورا اترنے کی کوالٹی رکھتا ہے؟ لیکن اس سے پہلے بنیادی انسانی حق آزادی رائے آزادی تقریر و تحریر کا جائزہ کہ اس حوالے سے آئینی تقاضا کیا ہے ؟ اور ہم کس پستی میں گرے پڑے ہیں ؟ ہماری مخصوص سیاسی پارٹی اپنے لیڈر یا بانی کے جو کارنامے خوشنما بنا کر عوام کے سامنے پیش کرتی ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے اس ملک اور یہاں کے عوام پر بہت بڑا احسان فرمایا جو 1973 کا متفقہ آئین دیا دیگر کارناموں میں ایک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھنا تھا، جس کیلئے وہ کہتا تھا کہ قوم گھاس کھا لے گی مگر اپنا پیٹ کاٹ کر ایٹم بم ضرور بنائے گی۔ اور آج الحمدللہ اس کی یہ تمنا پوری ہو چکی ہے۔
انڈیا دشمنی کا بھی وہ معمار ثانی بن کر ابھرا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ ہم ہندوستان سے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔ سو اس کی یہ خواہش و حسرت بھی آج جاری و ساری ہے۔ لیاقت علی کے بعد اسلامائزیشن کا کارنامہ بھی بنیادی طور پر ان کے نامہ اعمال کا سنہری باب ہے ۔ ضیاالحق نے تو محض اس کو بڑھاوا دیا یا اسے ہمہ پہلو بنایا کیونکہ وہ عوامی تقاریر میں فخر سے یہ کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ ختم نبوت کا نوے سالہ پرانا مسئلہ اس گناہ گار نے حل کیا ہے یا اس کی سعادت حاصل کی ہے۔ جوئے اور شراب پر پابندی اس نے لگائی ہے۔ جمعہ کی چھٹی اس نے کروائی ہے، بہت سے نئے اسلامی ادارے اس نے متعارف کروائے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر 73 کے آئین میں اسلامی شقیں ڈالتے ہوئے اسے اسلامی آئین بنانے کا کارنامہ بھی میں نےسرانجام دیا ہے۔ وہ افغانستان کی طرف منہ کرتے ہوئے افغان سرخ حکومت کو طعنے دیا کرتا تھا کہ تمہارے پاس کوئی آئین نہیں ہے، دیکھو میں نے اپنے ملک کو اسلامی آئین دیا ہے۔
پاکستان کی آئینی ہسٹری بڑی دردناک اور افسوسناک رہی ہے۔ اگر درویش اس کی تفصیل میں جائے گا تو دوسری کوئی بات نہیں کہی جاسکے گی۔ لیکن اس قدر ضرور عرض ہے کہ یہ ملک جب معرض وجود میں آیا، اس کی سمت کا تعین تب تھا نہ اب ہے۔ جناح صاحب سے بارہا اس سلسلے میں استفسار کیا جاتا رہا اور جواب بالعموم مبہم رہا۔ اس کے باوجود یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مذہبی جذبات کی تسکین یا ایسے طبقات کی حمایت کے حصول کی خاطر کانگریس کے خلاف اپنی جدوجہد میں بالالتزام یہ ضرور کہا اور پیہم کہا کہ ہم نئے ملک کو اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے۔ اور قرآن ہی ہمارا آئین یا دستور ہوگا۔ لیکن یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ قیام پاکستان کے فوری بعد بلکہ تین روز قبل ہی دستور ساز اسمبلی کے اولین اجلاس میں اپنی صدارتی تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان ضروری سمجھا کہ آپ کے مذہب یا عقیدے کا اس نئی ریاست کےساتھ کوئی واسطہ یا سروکار نہیں ہوگا، آپ کا جو بھی مذہب یا عقیدہ ہے وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہو گا۔
اب اگر آج کے حالات میں اس امر کا جائزہ لیا جائے تو اس کا واضح مطلب ریاست کے سیکولر ہونے کا اعلان ہے۔ نہ جانے ہمارے لوگ سیکولر کے لفظ سے کیوں الرجی محسوس کرتے ہیں۔ ہماری موجودہ مسلم ورلڈ کی تین اقوام چھوڑ کر بقیہ قریباً تمام ترپن چون سیکولر نظریہ کو ہی اپنائے یا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں ۔ بات آئین اور اس میں درج بنیادی انسانی حقوق کی ہو رہی تھی جن کے متعلق پوری مہذب دنیا یو این ہیومن رائٹس چارٹر کے تحت ایکا کر چکی ہے۔ کہ اس چارٹر پر دستخط کرنے والی کسی بھی ریاست میں اگر بالفرض آئین معطل یا منسوخ بھی ہو جائے، تب بھی بنیادی انسانی حقوق معطل یا منسوخ نہیں ہوں گے، کیونکہ اس کا عہد ممبر ریاست یو این میں کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری سپریم جوڈیشری کے متعدد فیصلے بھی قابل ملاحظہ ہیں۔ اگرچہ بالفعل اس اصول پر عملدرآمد کم از کم اس مملکت بدنصیب میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ ظلم و زیادتی سہواً یا کسی غلط فہمی و کمزوری سے روا نہیں رکھی گئی ہے بلکہ ہمارے آئین سازوں نے قصداً مذہبی و دیگر قوتوں کے دباؤ پر بخوشی قبول فرما رکھی ہے۔
عوام یا عوامی نمائندوں میں اتنی تاب نہیں ہے کہ وہ ان کے خلاف آواز اٹھا سکیں چہ جائیکہ کھڑے ہونے کا یارا کریں۔ آئین میں دی گئی عالمگیر آزادی تقریر و تحریر یا آزادی اظہار رائے کو ہی لے لیں۔ درویش ایک مہذب انسان یا لکھاری کی حیثیت سے پورے وقار و احترام کے ساتھ کسی بھی قومی ایشو پر استدلال کرتے ہوئے بہت دب کر پوری کمزوری کے ساتھ کچھ تحریر کرتا ہے تو بھی اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ ہمارے پیپر میں چھپ سکے گا۔ آئین و قانون سے ماورا و بلند تر طبقات کا اس قدر دباؤ ہے، مجال ہے جو عقل کی بات ہمارے قومی میڈیا میں کہیں جگہ پائے۔ حلفاً عرض گزار ہے کہ وہ یہاں اس مملکت اللہ داد میں ساری زندگی سے اس محاورے کے مصداق جل بھن رہا ہے کہ قہر درویش برجان درویش۔ انشا اللہ ہم ہی نہیں ہماری انگلی نسلیں بھی ان جبری آہنی دیواروں سے سر ٹکراتی مر جائیں گی۔ لیکن اپنے بانی کی شان میں قصیدے پڑھتی رہیں گی اور بچے کھچے قصیدے یہ 73 کا اسلامی آئین مرحمت فرمانے والی عظیم ہستی کی نذر کریں گی۔ یہود و ہنود مردہ باد، ہمالہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی زندہ باد۔
73 کے آئین میں قرارداد مقاصد کی خوشنودی کے لئے ہم نے جو عمرانی معاہدہ کیا اسے ہم دھڑلے سے پارلیمانی جمہوریت کا نام دیتے ہیں اور دینا بھی چاہئے اس لئے کہ فی زمانہ اسی نیلم پری کا چلن ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کی تضحیک کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ بقول اقبالؒ جس کا محض چہرہ روشن ہے اندرون چنگیز سے تاریک تر، ہمارے راسخ العقیدہ ذہن کے مطابق جمہوریت عصر حاضر کا ابلیسی نظام ہے جس پر ہم نے بظاہر خوش عقیدگی کا پاکیزہ خول چڑھا رکھا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس ابلیسی نظام میں اقتدار کا منبع یا سرچشمہ عوام کالانعام قرار پاتے ہیں جبکہ ہمارا گیا گزرا مسلمان بھی اقتدار کا منبع پروردگار عالم کو مانتا ہے جس کی تشریح علما کا حق ہے۔ آج اگر ہمارے وجود کے گوشے گوشے میں ہی نہیں خصوصی طور پر ہمارے شمال مغرب میں اس منافقانہ اپروچ کے خلاف ننگی منافرت پائی جاتی ہے تو ہمیں اس کے حقائق کو سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ ان راسخ العقیدہ معزز حضرات کے نزدیک شرع خلافت کو مانتی ہے یا پھر اس سے نیچے امارت اور ولایت کو دیگر سب شیطانی وسوسے ہیں۔ یہ ہم نے جو اس نیلم پری کے ساتھ اسلامی لاحقے سابقے لگا رکھے ہیں، یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے والے ایسے ہی جھانسے ہیں جیسے ایک مداری نے ایک وقت میں اسلامی سوشلزم وغیرہ کے لگائے تھے۔
عرض مدعا یہ ہے کہ اگر ہم واقعی جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر کیا اس کے بدیہی تقاضوں پر عملداری کے لئے پارلیمان، جوڈیشری اور میڈیا کا یہ بنیادی حق تسلیم کرسکتے ہیں کہ ہمارے آئین میں اس کے متوازی و متصادم جو بھی ایسی جنونی ذہنیت کی نسلی، مذہبی اور جنسی امتیازات پر مبنی شقیں ہیں انہیں چیلنج کیا جاسکے؟ منافقت پر مبنی سوچ کے زیر اثر ہمارے نوسربازوں نے آدھا تیتر آدھا بٹیر کے جو تڑکے و جھانسے دے رکھے ہیں ان کی قلعی کھولی جاسکے؟ کیا صوفی محمد ان کے پیرکاران یا دیگر علمائے عظام کا یہ مطالبہ قطعی درست نہیں ہے کہ اگر شرع لاگو کرنی ہے تو پوری کریں۔ اور اس درویش کا مطالبہ ہے کہ اگر جمہوریت اپنانی ہے تو پوری اپنائیں یہ منافقت و دو رخی چھوڑ دیں۔
دنیا کے ہر آئین کی طرح ہمارا آئین بھی انسانی حقوق کے تناظر میں یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں میں مذہبی ، نسلی یا جنسی طور پر کسی نوع کا امتیاز روا نہیں رکھے گا لیکن ساتھ ہی یہ لکھا بھی مل جائے گا کہ اس ملک کا صدر اور وزیر اعظم کوئی غیر مسلم نہیں بن سکتا۔ اگر بنیادی انسانی حق کے تحت شہریوں کے درمیان مذہبی بنیادوں پر امتیازی رویہ نہیں اپنایا جا سکتا تو پھر سرکاری حلف نامے سے لے کر قومی سلیبس تک مذہبی امتیاز کی یلغار کیوں ہے؟ کیا ہمارے ملک میں ایسے قوانین موجود نہیں ہیں کہ عورت کی گواہی آدھی اور وراثتی حق بھی لڑکے کے مقابلے میں آدھا ہو گا۔ کیا یہ نسلی و جنسی امتیاز نہیں ہے؟ کیا ہماری ریاست کے کچھ طبقات لاڈلے اور کچھ سوتیلے نہیں ہیں؟ کیا ہمارا آئین سوسائٹی کے کمزور طبقات کو تحفظ دیتا ہے؟ آئین کا کیا کام ہے اپنے شہریوں کے عقائد کو ٹٹولنے کا؟ اج اکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول، اج کتھوں لبھ کے لیاواں اتاترکؒ اک ہور۔