متزلزل معیشت، امریکی دباؤ اور ناکام وزیر خزانہ
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 04 / مارچ / 2023
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک چینی بنک کی طرف سے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری اور پہلی قسط کے طور پر پچاس کروڑ ڈالر کی وصولی کی ’خوش خبری‘ سنائی ہے لیکن یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ اس رول اوور قرض کی شرائط کیا ہیں اور اس پر پاکستان کو کس شرح سے سود ادا کرنا پڑے گا۔ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اگلے ہفتے کے دوران اسٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا تاکہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد رقم وصول ہوسکے۔
اوّل تو ملکی معاشی ابتری کا اندازہ اسی بات سے کیا جاسکتا ہے کہ وزیر خزانہ کو چین سے پچاس کروڑ ڈالر ملنے کے وقوعہ کو اہم ’خوش خبری‘ کے طور پر بیان کرنا پڑتا ہے تاکہ مارکیٹ میں بے چینی کم ہوسکے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے روپے کی قدر کو سہارا مل سکے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ میں تاخیر کے سبب ملک کو جس معاشی بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس کی بنیادی ذمہ داری اسحاق ڈار پر ہی عائد ہوتی ہے جنہوں نے وزارت خزانہ کا عہدہ سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کو راہ راست پر لانے اور ڈالر کی شرح کو دو سو روپے تک محدود کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے تھے۔ یہ سب دعوے ہوا ہوئے۔ اور اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو بہتری کی بجائے اس کی مزید تباہی کا سامان بہم پہنچایا تاکہ کسی طرح مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ساکھ کو بچایا جاسکے۔ وہ دونوں مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اب ملک کے ممتاز انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں اسحاق ڈار کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔
روزنامہ ڈان نے لکھا ہے کہ ’اسحاق ڈار نے ایک ہفتے کے اندر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کی خبر دی ہے لیکن ایسے اعلانات وہ متعدد بارکرچکے ہیں۔ اب وہ اسی اعلان کو دہرا رہے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ وقت پاکستان کے ہاتھ سے پھسلا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ اگرچہ ڈیفالٹ کی سختی سے تردید کرتے ہیں لیکن دریں حالات پاکستانی معیشت تیزی سے ڈیفالٹ کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ البتہ اسحاق ڈار یا مسلم لیگ (ن) کسی قسم کی عاجزی اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وہ یہ ماننے پر تیار نہیں کہ یہ صورت حال اسحاق ڈار کی جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے دیکھنے میں آرہی ہے۔۔۔۔ آئی ایم ایف اسحاق ڈار پر اعتبار نہیں کرتا۔ اسحاق ڈار کے طرز عمل نے معیشت کو اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ بھی شاید ملکی معیشت کی بحالی کے لئے کافی نہ ہوسکے۔ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کے علاوہ عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ غریب تین وقت کھانا فراہم کرنے سے عاجز ہے۔ خوشحال طبقہ بھی پریشانی کا شکار ہے اور روشن دماغ نوجوان بہتر مستقبل کے لئے بیرون ملک جانے پر مجبور ہورہے ہیں۔۔۔۔ اسحاق ڈار کے خلاف پارٹی کے حلقوں کے احتجاج اور ماہرین کی طرف سے ماضی میں ان کی ناکام پالیسیوں کی نشاندہی کے باوجود شریف خاندان نے ڈار کو ملک پر مسلط کیا۔ اب انہیں اس شخص سے جان چھڑانی چاہئے جو تن تنہا کروڑوں پاکستانیوں کا مستقبل تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اب ملک کو اس شخص سے نجات دلائی جائے‘۔
البتہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ہر طرف سے شدید دباؤ کا شکار شہباز شریف کی حکومت اسحاق ڈار کی ناکامیوں اور ان کی وجہ سے ملکی معیشت اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ کرنے اور اس کا ازالہ کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ متعدد حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر جو انتظامی کامیابیاں حاصل کی تھیں، وزیر اعظم کے طور پر وہ ویسی ہی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ تبدیل شدہ حالات اور موجودہ اتحادی حکومت کی مجبوریاں ہیں۔ شہباز شریف ایک طرف اپنی کمزور حکومت کو سہارا دینے والی اتحادی پارٹیوں کے نخرے برداشت کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف لندن سے نواز شریف کے احکامات تمام اہم معاملات میں حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ نواز شریف نہ تو ملکی سیاست سے ’ریٹائرمنٹ‘ کا اعلان کرتے ہیں اور نہ ملک واپس آکر حالات کا سامنا کرنے اور پارٹی کو ایک سمت دینے پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے مریم نواز کو اپنی نمائیندہ کے طور پرمیدان میں اتارا ہے لیکن مریم نے تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرکے اداروں کو چیلنج کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن یہ اندازہ کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ اس وقت ملک کو انتشار یا تصادم کی بجائے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور اپوزیشن یعنی تحریک انصاف کے درمیان ہمہ قسم مواصلت بند ہے اور دونوں ایک دوسرے کو بہرصورت نیچا دکھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔ عمران خان نے پنجاب میں انتخابی مہم شروع کرنے سے پہلے ایک طرف فوج سے مواصلت و مصالحت کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’ملکی مفاد کے لئے وہ سب سے بات اور سمجھوتہ کرنے پر تیار ہیں‘۔ لیکن یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ پیغام بھی اسٹبلشمنٹ کے لئے ہی ہے ۔ اور مسائل حل کرنے کے لئے وہ ملک کی سیاسی قوتوں کے ساتھ مل بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف شہباز شریف بھی عمران خان کو مکمل طور سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی پر ہی کاربند ہیں۔ آج لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کو قومی احتساب بیورو کا چئیر مین نامزد کرکے ایسا ہی پیغام دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف گزشتہ کچھ عرصہ سے قومی سطح پر پارلیمانی فیصلہ سازی کا حصہ بننا چاہ رہی تھی لیکن اسپیکر پرویز اشرف نے تیزی سے پارٹی ارکان کے استعفے قبول کرکے ان کوششوں کو ناکام بنایا ۔ عدلیہ سے ریلیف ملنے کے بعد تحریک انصاف کے ارکان اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن کے لئے اسپیکر سے رابطہ کرچکے تھے تاکہ چئیرمین نیب کی تقرری کے لئے مشاورت میں حصے دار بن سکیں۔ تاہم نہ تو اسپیکر نے ابھی اس درخواست کو قابل غور سمجھا ہے اور نہ ہی وزیر اعظم نے تبدیل شدہ سیاسی حالات میں تحریک انصاف کے ساتھ تعاون کا کوئی اشارہ دیا ہے۔ تحریک انصاف کے باغی رکن راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا تھا اور اب انہی کی ’مشاورت‘ سے چئیر مین نیب کا تقررکرکے سیاسی درجہ حرارت تیز رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ پارٹی سیاست کے لئے شاید یہ حکمت عملی ضروری ہو لیکن اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ سیاسی تناؤ کی موجودہ صورت حال ملکی معیشت کے لئے شدید نقصان کا سبب بنی ہے۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے میں دو ماہ کے اندر انتخابات کا اعلان کیا جاچکا ہے اور خیبر پختون خوا میں بھی گورنر کو سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ایسا ہی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ملک کے نصف سے زیادہ حصے میں انتخابی مہم جوئی کے دوران شہباز شریف کی قوت فیصلہ سازی متاثر ہوگی۔ اور اگر تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختون خوا میں حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو مرکز میں شہباز کی حیثیت کٹھ پتلی وزیر اعظم سے زیادہ نہیں رہے گی۔ عالمی ادارے، دوست ممالک اور تجزیہ نگار یکساں طور سے اس صورت حال کو محسوس کررہے ہیں لیکن اتحادی حکومت قومی اسمبلی کا انتخاب کروانے پر آمادہ نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ شاید اس حوالے سے بھی سپریم کورٹ ہی کسی ’سو موٹو‘ کے تحت احکامات جاری کرے گی۔ لیکن ایسے فیصلے نہ تو ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرسکیں گے اور نہ ہی سیاسی قیادت کی ساکھ بحال ہوگی۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مسائل میں اضافہ ہوگا اور قومی معیشت مسلسل زوال اور پسپائی کی طرف گامزن رہے گی۔
اس دوران واشنگٹن سے سامنے آنے والی ایک خبر کو اگرچہ قومی میڈیا میں نمایاں جگہ نہیں مل سکی لیکن یہ خبر ان عوامل کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہے جو عالمی منظر نامہ میں پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ خبر کے مطابق امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی نے میزائل اور جوہری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں متعدد پاکستانی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بلیک لسٹ ہونے والی کمپنیوں میں چین کی کئی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ روس کی فوجی و دفاعی صلاحیت میں اضافے اور چین کی فوج کو جدید بنانے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ امریکہ ایک طرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اشارے دے رہا ہے لیکن دوسری طرف دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے والی بعض کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرکے پاکستان کی خارجہ و دفاعی پالیسی پر سوال اٹھا رہاہے۔
امریکی حکام بہت عرصے سے پاکستان کو چین کے ساتھ تعلقات محدود کرنے اور خاص طور سے سی پیک کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں کو پاکستان کے لئے ناقابل برداشت بوجھ قرار دیتے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کے دوران یہ پہلو بھی تنازعہ اور عدم اتفاق کا سبب بنا ہے۔ امریکہ اور اس کے زیر نگیں اداروں کا کہنا ہے کہ چینی قرضے پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ ان میں شفافیت کی کمی ہے اور چین مشکل میں گھرے پاکستان کو کوئی خاص رعایت دینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔ اب یہ واضح ہورہا ہے کہ امریکہ اس حوالے سے پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف معاہدہ کی بحالی کے لئے نت نئی شرائط عائد کررہا ہے تو دوسری طرف اب امریکہ نے بعض پاکستانی کمپنیوں کو چین کے ساتھ ’ناجائز‘ تعاون کے الزام میں سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ شہباز شریف کی حکومت یا انتخابات کو تمام مسائل کی کنجی بتانے والے عمران خان، ان مشکلات سے آگاہ ہیں اور پاکستان کے لئے ہر حد سے گزرنے کے دعوؤں میں کہیں کسی قومی اشتراک عمل کی گنجائش بھی پیدا کی جارہی ہے یا نہیں۔ سیاسی تصادم کی کیفیت میں البتہ کوئی خوشگوار علامات دکھائی نہیں دیتیں۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ ملک پر آنے والی مشکلات سے شہباز شریف یا عمران خان کو توکوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کا مستقبل ضرور بے یقینی کا شکار ہوگا اور عوام کے لئے حالات کار مزید مشکل ہوجائیں گے۔