باجوہ کے غیر جانبداری کے اعلان پر اعتبار نہیں: سابق جنرل

  • اتوار 05 / مارچ / 2023

ایک ریٹائرڈ جنرل نے سابق آرمی چیف کے فوج کے سیاست سے باہر رہنے کے عہد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سبکدوش ہونے والے سربراہ کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

جنرل ریٹائرڈ ہارون اسلم نے کہا کہ عمران خان نے جنرل (ر) باجوہ کو توسیع کیوں دی؟ آصف علی زرداری نے جنرل (ر) کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں کی؟ میں سمجھتا ہوں کہ فوج کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن یاد رکھیں کہ آپ اسے بٹن دبا کر بند نہیں کر سکتے۔

لندن اسکول آف اکنامکس کی طلبہ یونین کی جانب سے منعقد کئی گئی فیوچر آف پاکستان کانفرنس 2023 میں سیشن ’سول ملٹری تعلقات: بقائے باہمی یا محاذ آرائی‘ سے خطاب کرتے ہوئے سابق جنرل نے فوج کو سیاست میں مداخلت کرنے کی اجازت دینے کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جب فوج فعال طور پر مداخلت کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی لیکن یہ ’سویلین عناصر‘ تھے، جنہوں نے فوج کو اہمیت دی۔

جب ان سے باجوہ  کے الوادعی خطاب میں فوج کی غیر جانبداری کے عہد کے بارے میں پوچھا گیا تو جنرل (ر) ہارون اسلم نے بڑے واضح انداز میں کہا کہ مجھے اس پر کوئی یقین نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی اننگز کھیل لی، اور آخر میں یہ کہا۔ سبکدوش ہونے والے سربراہ نے جو کہا اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

جنرل (ر) ہارون اسلم سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے وقت سینئر ترین تھ۔، اس سے قبل وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اور بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اچھی سویلین قیادت کی حوصلہ افزائی کریں گے تو فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔ ہمیں عوام کی خواہشات کے مطابق جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویلین عنصر فوج کو اہمیت دیتا ہے اور دونوں کے درمیان تعلق محبت، نفرت اور مصلحت کا مثلث ہے۔ اگر ہم بھارت کے خلاف اسکور کرتے ہیں تو ہر کوئی فوج سے پیار کرتا ہے۔ لیکن جب ہم مداخلت کرتے ہیں تو ہر کوئی فوج سے نفرت کرتا ہے۔ یہ فوج نہیں ہے جو مداخلت کرنے کی کوشش میں سرگرم ہے، یہ ایک اجتماعی چیز ہے