پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات کل سے دوبارہ شروع ہوں گے

  • اتوار 05 / مارچ / 2023

حکومت آئندہ 4 ماہ کے لیے آمدنی اور اخراجات کے تخمینوں کو حتمی طور پر طے کرنے کے لیے کل عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ورچوئل مذاکرات دوبارہ شروع کرے گی۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف نیتھن پورٹر کی زیرسربراہی آئی ایم ایف کی ٹیم نے وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ چند روز تک مذاکرات کیے، جس کے بعد 3 مارچ 2023 ٹیکس حکام کے ساتھ آخری اجلاس ہوا جس میں مالیاتی فرق کو پورا کرنے پر ریونیو جنریشن کے حوالے سے پیشگی اقدامات اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اضافی 170 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کا کام سونپا گیا ہے جبکہ باقی رقم دیگر اقدامات، مثلاً سبسڈی ختم کرکے اور گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ فریق اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے مسودہ یادداشت (ایم ای ایف پی) کا متن بھی بہتر بنائیں گے، جسے عام طور پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) کہا جاتا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ معاہدے کے متن پر تفصیل سے بحث کی جائے گی۔

21 فروری کو سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ نے پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا تھا کہ ایم ای ایف پی کو ایک ہفتے میں حتمی شکل دے دی جائے گی، تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف نے 4 مزید پیشگی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ چین سے مالی مدد کی ضمانت حاصل کرنا آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل تھا۔ لہٰذا گزشتہ روز وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا سے 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔