عمران خان کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس کی کوشش

  • اتوار 05 / مارچ / 2023

اسلام آباد پولیس پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان  کی گرفتاری کے لئے لاہور میں زمان پارک ان کی رہائش گاہ پہنچی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

ان کی گرفتاری کے لئے  اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی توشہ خانہ کیس میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور میں ان کی زمان پارک میں قائم رہائش گاہ پہنچی تاہم  دستاویزات پر دستخط لینے کے بعد ٹیم واپس لوٹ گئی۔

اتوار کو اسلام آباد کی پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کےلیے عدالت کے احکامات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پہنچی ہے۔ لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد پولیس کی ٹیم عمران خان کی گرفتاری کےلیے پہنچی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان گرفتاری دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق اسلام آباد کے سپرنٹنڈنٹ پولیس  کمرے میں گئے مگر وہاں عمران خان موجود نہیں تھے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسلام آباد کی پولیس ٹیم ایس پی کی قیادت میں لاہور پہنچی، جس کے بعد وہ لاہور پولیس کی معاونت میں زمان پارک گئی۔ رہائش گاہ کے باہر تحریک انصاف کے کارکن جمع ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس کو روکنے کی کوشش بھی کی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کی رہائش گاہ کے باہر موجود مقامی رہنماؤں نے کارکنان کو ہٹایا اور پولیس کے افسران کو آگے جانے دیا۔ اسلام آباد کی پولیس کے انسپکٹر جنرل اکبر ناصر کا کہنا ہے کہ قانون کی منشا یہی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ پولیس کو عمران خان کو لے کر آنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ساتھ لے جانے کے لیے پولیس افسران موجود ہیں اور قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنا جرم ہے۔ اکبر ناصر کے بقول پولیس زمان پارک میں موجود ہے جب کہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پولیس عدالت کا حکم لے کر لاہور میں زمان پارک پہنچی ہے۔ عمران خان عدالت میں نہ جانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف عدالت نے توشہ خانہ کیس میں فردِ جرم عائد کرنی ہے۔ اسی عدالت کے حکم پر گرفتاری کے لیے پولیس زمان پارک گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن حکومت نے فیصلہ کیا گرفتاری مشکل نہیں ہے۔

تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ذمہ داران نے عدالت کا نوٹس دیکھ لیا ہے۔ اس میں عمران خان کی گرفتاری کا حکم شامل نہیں ہے۔ زمان پارک کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وکلا سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا زمان پارک کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ حکومت عمران خان کو گرفتار کر کے امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کی حرکتوں سے پاکستان کو فسادات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

اس دوران زمان پارک میں موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں زندگی میں کسی انسان کے سامنے جھکا نہ آپ کو جھکنے دوں گا۔ جس طرح سے کارکنوں اور رہنماؤں نے ’جیل بھرو تحریک‘ کے دوران شرکت کی، جو جوش و جذبہ دیکھا، وہ میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔