عمران خان کو تمام معاملات میں صادق و امین قرار نہیں دیا تھا: سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

  • سوموار 06 / مارچ / 2023

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہےکہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات میں صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔

ڈان نیوز کے اینکرپرسن عادل شاہزیب سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا واٹس ایپ ہیک ہو چکا ہے جس کا مواد استعمال کرکے جعلی آڈیوز بنانے کا خدشہ ہے۔ ثاقب نثار نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید دعا سلام بھجواتے ہیں لیکن ان کا عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

گفتگو کے دوران سابق چیف جسٹس سے سوال کیا گیا کہ پاناما لیکس کیس میں آپ پر سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کو نااہل کروانے کے لیے جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے دباؤ ڈالا؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ فیض حمید کون ہے جو مجھ پر دباؤ ڈالتا؟

انہوں نے کہا کہ میں ابھی سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ ) قمر جاوید باجوہ سے اس دعوے کے بارے میں بات کروں گا۔ یہ کہتے ہیں کہ میں عمران خان کے لیے عدلیہ میں لابنگ کر رہا ہوں، میں کیوں ان کے لیے لابنگ کروں گا، مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔

ثاقب نثار نے کہا کہ عمران خان کو مکمل اور تمام معاملات پر صادق و امین قرار نہیں دیا تھا۔ اس وقت میرے سامنے زیر سماعت جو مقدمہ تھا، میں نے انہیں اس کیس میں صادق و امین قرار دیا تھا۔ عمران خان کے باقی معاملات کا مجھے کچھ نہیں پتا تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ مکمل طور پر صادق و امین ہیں۔

اپنے فیصلے پر کی جانے والی تنقید کے حوالے سے سابق چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی انسان ہوں، مجھ سے بھی کچھ غلط فیصلے ہوئے ہوں گے۔ وہ فیصلے جن پر مجھے ندامت ہے یا جو مجھ سے غلط ہوئے، وہ معاملات جب عدالت میں آئیں گے تب دیکھیں گے۔ لیکن ایک عدالت اللہ کی بھی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2017 میں سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نااہلی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ میں عمران خان کو بری کردیا تھا لیکن جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیا تھا۔

اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلے میں کہا تھا کہ عمران خان پر 2013 کے کاغذاتِ نامزدگی میں نیازی سروسز لمیٹڈ کو ظاہر نہ کرنے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ وہ اس کے اسٹیک ہولڈر نہیں تھے اور انہوں نے تمام متعلقہ دستاویزات پیش کیں۔