انجمن کرپشن باہمی

جب مولانا، شہباز اور زرداری صاحبان نے حکومت پانے کے بعد ملک بہتر طور پر چلانے کی بجائے ملک بچانے کا بیانیہ اپنایا تو اس وقت بھی میں نے اپنے کالموں میں یہی لکھا تھا کہ سیاستدانوں کا کام ملک چلانا ہوتا ہے ملک بچانے کے لئے سیکورٹی فورسز ہوتی ہیں۔ جو پاکستان میں ماشا اللہ وافر تعداد میں موجود ہیں۔

ملک بچانا، ملک کے لئے قربانیاں مانگنا، ملک نازک موڑ اور حالات سے گزرنا یہ اور اس جیسے دوسرے نعرے بہت تاریخی اور فرسودہ ہیں۔ ملک زمین کے ٹکڑے یا جغرافیائی حدود کو نہیں کہتے۔ ملک آبادی رقبہ حکومت اور اقتدار اعلیٰ کے عناصر پر مشتمل عوامی ملکیتی احساس کا نام ہے۔ اس ملک کی آبادی اور اقتدار اعلیٰ کی فکر کس کو ہے، پولٹیکل سائنس کے طالب علم ہونے کے باوجود مجھ پر آج تک یہ معاملہ آشکار نہیں ہوا۔ پاکستان میں حکومت کس کی ہوتی ہے وہ بھی آج تک تشریح طلب ہے۔ ماضی قریب میں عمران خان شراکت اقتدار کے فارمولے پر مشتمل اپنی حکومت کے لئے ایک صفحے کی حکومت کا راگ درباری گاتے گاتے، ’میں بے اختیار تھا‘ پر شامِ موسیقی تمام کر کے آج اپنی اکلوتی سیاسی ٹانگ پر کھڑا ہونے کی مشق کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

رہ گیا اس ملک کا رقبہ تو اس پر ہمارا مغربی ہمسایہ اپنی مشترکہ حد بندی پر جتنا جزبز ہے اتنا مشرقی ہمسائے کے ساتھ ہم مستقل مشت و گریباں ہیں۔ ایک طرف بارڈر لائن آف کنٹرول کہلاتا ہے تو دوسری طرف سرحدی حد بندی کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ کچھ بھی ہو لیکن دونوں کے تحفظ دفاع اور جوابدہی کے لئے ہمارے پاس ہر قسم کی تیاریاں سامان اور جوان موجود ہیں۔ مسئلہ ملک چلانے کا تھا اور ملک چلانے کا ہے۔ گھوڑوں کی نعل بندی دیکھ کر مینڈکوں کی طبیعت مچلنا فطری مسئلہ ہے لیکن سوچنا چاہیے کہ سیاستدان اور فوجی جوان کے فرائض آئینی قانونی اور تیاری کے لحاظ سے الگ الگ منفرد اور مخصوص ہوتے ہیں۔

عوام کو قربانی کے جانور سمجھ کر زمین کے دیوتا کے پیروں میں ذبح کرنے والی طرزِ حکمرانی کو فاشزم کہتے ہیں جبکہ ریاست کے وجود کا مقصد اپنے شہریوں کو بڑے پیمانے پر انصاف، ضروریات، سہولیات، مراعات، تحفظ اور آزادانہ فضا میں اچھی طرزِ حیات کی فراہمی ہے۔ عمران خان کے تجربے سے پہلے ملک نسبتاً اچھی حالت میں تھا۔ اسے موجودہ حالت تک کس نے پہنچایا یہ معلوم کرنا اور متعینہ مجرموں کو سزا دلانا، آئین اور قانون کی بالادستی اور برابری کی جوابدہی کا نظام قائم کرنا اور مہنگائی کا توڑ کرنا موجود حکومت کی ذمہ داریاں تھیں اور ہیں۔ کیونکہ یہی اس حکومت کے نعرے تھے جو یہ لانگ، شاٹ اور مہنگائی مارچ کرتے ہوئے لگاتی۔

 مولانا، شہباز، زرداری کی حکومت نے ایک نا اہل حکومت کو ری پلیس کرکے وہ نہیں کرنا تھا جو پچھلی حکومت کیا کرتی تھی۔ بھاری بھرکم کابینہ، شاہانہ حکومتی اخراجات، اسٹیبلشمنٹ کی فرمائشوں پر مبنی فیصلے اور ان کی خوشنودی کے لئے قانون سازی اور تقرریاں، اپنی عیاشیوں اور مفادات کے لئے عوام پر نت نئے ٹیکسز، یہ سب تو ایک صفحے کی شراکت اقتدار پر یقین رکھنے والی عمران کی حکومت بھی کر رہی تھی۔ ملک کو اس حالت تک پہنچانے والوں کے جرائم کی پردہ پوشی اور کرپشن پر خاموشی تو عمران حکومت آپ سے بہتر کر رہی تھی۔ آپ تو عوام کو ان سے نجات دلانے کے دعوے لے کر آئے تھے۔

ادویات سکینڈل ہو یا گندم سکینڈل، کورونا میں فی مریض 26 لاکھ خرچ کرنے والے والے جنرل افضل کا سکینڈل ہو یا ملک ریاض کے منی لانڈرنگ پر برطانیہ سے وصول ہونے والی رقم دوبارہ اسے لوٹانے کا سکینڈل، راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل ہو یا بی آر ٹی سکینڈل، پاپا جونز سکینڈل ہو یا باجوہ فیض حمید اور دوسروں کی سیاسی انجینئرنگ کمپنی کے اعترافات کا سکینڈل یا ثاقب نثار ڈوگر اور ہمنواؤں کا آئینی کھلواڑ جیسے جرائم۔ آپ نے تو ان سب سکینڈلز کے لئے ایک خودمختار کمیشن بنا کر جسٹس صدیقی کے بیان کی روشنی میں اپنا سیاسی اور تاریخی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن آپ صرف سیاسی مائلج حاصل کرنے کے لئے گزشتہ حکومت کو ہر قسم کی اقتصادی اور مالی تباہی کا ذمہ دار قرار دینے کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ اس کے کیے گئے معاہدے کو پارلیمنٹ میں لانے کے لئے تیار نہیں تاکہ عوام کو قائل کر سکیں کہ ان پر مزید ٹیکسز لگانا عالمی سود خوروں کا مطالبہ ہے جبکہ اصل میں آپ اپنے سمیت دوسرے مراعات یافتہ اور سہولیات سے فیضیاب ہونے والے اختیار مند اور طاقتور حلقوں پر مجوزہ ٹیکسز لگانا نہیں چاہتے جو آئی ایم ایف کے مطالبات کا پہلا آپشن ہے۔

خود کو ناگزیر سمجھنے والوں سے درخواست ہے کہ روایتی اور کمپرومائزڈ سیاستدانوں کے خلاف پختونخوا میں منظور پشتون اور بلوچستان میں ہدایت الرحمان کی شکل میں متبادل لیڈرشپ اور عوامی دلچسپی کے نئے مراکز تیار ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا کو نقارہ خدا سمجھیں۔ باہمی مفادات کی تحفظ کی خاطر ایک دوسرے کی زیادتیوں اور جرائم پر پردہ ڈالنے والوں سے عوام تیزی سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے۔ اگر ایک طرف عمران قوم کے توقعات پر پورا نہیں اترا تو دوسری طرف موجود حکومت بھی اپنی شہرت کو برقرار نہیں رکھ سکی جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی حالت یہ ہے کہ جب تک وہ عمران کے ساتھ تھی تو قوم اس سے بیزار تھی اور اب پی ڈی ایم کے ساتھ ہے تو ہر ضمنی الیکشن میں اسے شکست پر شکست دے رہی ہے۔

عوام مایوس ہو جائیں تو وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔ وہ عوامی دانش کا مظاہرہ کرکے اپنی لیڈرشپ پیدا کرتے ہیں۔ عرب سپرنگ کل کی بات ہے۔ یاد رہے جب احساس ملکیت باقی نہیں رہتا تو پھر قوم برانگیختہ ہجوم بن جاتی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)