گم گشتہ تاریخ کا عکس

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کراچی میں دو چار فیشن رواں دواں تھے۔ نوجوان لمبی کالروں والی قمیص اور کھلےپائنچوں والی پتلونیں پہنتے تھے۔ لمبی کالریں مرے ہوئے بکرے کے کانوں کی طرح لٹکتی رہتی تھیں۔

تب آتش کی طرح ہم بھی جوان اور فیشن کے دل دادہ ہوتے تھے۔ ہم بھی لمبی کالروں والی قمیص اور خوب کھلے پائنچوں والی بیل باٹم پتلونیں پہنا کرتے تھے۔ پاؤں میں سکڑے ہوئے چونچدار جوتے پہنتے تھے۔ ساخت کے لحاظ سے سکڑے ہوئے چونچدار جوتے دور سے پاؤں سے چپکے ہوئے دو چھوٹے چھوٹے مگرمچھ لگتے تھے۔ آج کل چھوٹے چھوٹے مگرمچھوں جیسے نوکدار جوتوں کا فیشن لوٹ آیا ہے۔ میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں انیس سو پچاس کی دہائی کے آخری چند برسوں کی، اور انیس سو ساٹھ کی دہائی کے شروع کے چند برسوں کی۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ میں آپ سے دس بارہ برسوں کی مدت کے قصہ کہانیاں بیان کر رہا ہوں۔ سیاست دانوں اور ان کی لاجواب سیاست سے ہمارا لینا دینا نہیں ہے۔ وہ جانیں اور ان کے سیاسی کارنامے جانیں۔

اس دور کے برصغیر پر، بلکہ برصغیر کے لوگوں کے دل و دماغ پر بالی وڈ، تب بامبے فلم انڈسٹریز کے سپر ہیرو دلیپ کمار کا راج تھا۔ بنانے والے نے ان کو اس قدر ہینڈسم اور جاذب نظر بنایا تھا کہ دیکھنے والے ان کو دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔ ان کی فلم دیوداس دیکھ کر لگتا تھا کہ سرت چندر چیٹرجی نے ناول دیوداس دلیپ کمار کے لئے لکھا تھا اور وہ بھی دلیپ کمار کے پیدا ہونےسے پہلے۔ اس دور میں دلیپ کمار کو دیکھ کر پروڈیوسر فلموں کے اسکرپٹ لکھواتے تھے۔ کہانی میں زیادہ تر ہیرو مر جاتا تھا۔ اس بنا پر دلیپ کمار کو ٹریجیڈی کنگ کہا اور مانا جاتا تھا۔ ان کی المناک فلموں کو دیکھ کر نوجوان ایسی کسی محبت کے متلاشی رہتے تھے جس میں ان کو اپنی محبوبہ سے بچھڑنا پڑ جائے نوجوان بالوں کی لٹ ماتھے پر ڈالے نامراد چاہنے والے کی زندہ تصویر بنے پھرتے تھے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ المناک دکھنا یا غمگین نظر آنا اس دور کا فیشن بن چکا تھا۔

دلیپ کمار کے ساتھ ساتھ نام آتا تھا، راج کپور کا۔ ان کا اپنا اسٹوڈیو اور فلم میکنگ کا مکمل بندوبست تھا۔ خود اپنے مقصد اور مطلب کی کہانیاں لکھواتے تھے۔ ان فلموں میں لا ابالی، آوارہ، غیر محتاط، نڈر اور بیباک لوگوں کی عکاسی راج کپور خود کرتے تھے اور اپنی زیادہ تر فلمیں خود ڈائریکٹ کرتے تھے۔ ان کی اکثر فلموں میں کمال کا طنز اور مزاح ہوتا تھا۔ وہ اس نوعیت کے کردار کرتے ہوئے پتلون کے پائنچے اوپر چڑھائے رکھتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی بے شمار نوجوان اکثر پتلون کے پائنچے پلٹ کر اوپر چڑھا دیتے تھے اور فقرہ بازی کرتے تھے۔ یہ بھی ان دس بارہ برسوں کا فیشن تھا۔ اکثر فلموں میں ہیرو اور دیگر اہم کرداروں کو شراب پیتے ہوئے دکھایا جاتا تھا۔ تب کراچی میں شراب خانوں کی کمی نہیں تھی۔ شراب پی کر بے معنی باتیں کرنا، گانے گانا، ’یارو مجھے معاف کرو میں نشے میں ہوں‘ اور لڑکھڑانا بھی فیشن میں شمار ہوتا تھا۔

ان دنوں کراچی میں گنے چنے دو چار تھیٹر ہوتے تھے۔ تھیٹروں میں آغا حشر کے ڈراموں کے علاوہ دھرمی ڈرامے لگاتار چلتے رہتے تھے۔ ایک ہی وقت میں ہزار ڈیڑھ ہزار دیکھنے والوں کیلئے ایک تھیٹر میں گنجائش ہوتی تھی۔ اس کے برعکس تب کراچی میں بیس پچیس سینما ہوتے تھے۔ ان کی عمارتیں دیدہ زیب اور دلکش ہوتی تھیں۔ بندر روڈ پر سعید منزل سے متصل ہمارا گھر تھا۔ ہمارے گھر کے اطراف چار پانچ سینما ہوا کرتے تھے۔ تاج محل، پلازہ، جوبلی، امپیریل اور ایلائٹ سینما۔ بٹوارے سے پہلے ایلائٹ سنیما کی جگہ ایلائٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ ایلائٹ تھیٹر میں دھرمی ڈرامے برسہا برس چلتے رہتے تھے۔ بٹوارے کے بعد ایلائٹ تھیٹر جن کو متروکہ املاک کے طور پر ملا انکے پاس ڈرامے لکھنے والے اور ڈراموں میں کام کرنے کیلئے منجھے ہوئے فنکار نہیں تھے۔

ایک مرتبہ انہوں نے ’فاتح سندھ‘ کے نام سے ڈرامہ چلایا تھا مگر وہ ڈرامہ ٹکٹوں پر چل نہ سکا۔ تب تک بامبے فلم انڈسٹری کی فلمیں کراچی میں دھڑا دھڑ آنے لگی تھیں۔ ایلائٹ تھیٹر والوں نے اسی جگہ خوبصورت الائٹ یا الیٹ نام سے سینما بنوالیا۔ الائٹ یا الیٹ سینما مجھے اب بھی اس لئے یاد ہے کہ اس میں دلیپ کمار کی دو فلمیں بابل اور دیدار مہینوں چلتی رہی تھیں۔ ان فلموں نے لگاتار پلاٹینم جوبلی منائی تھی۔ اب ان سینماؤں کا نام و نشان نہیں ہے۔ اس طرح رادھے ٹاکیز کے نام سے بندر روڈ پر ایک خوبصورت سینما ہوتا تھا۔ رادھے ٹاکیز میں دلیپ کمار کی فلم آن بہت لمبے عرصے تک چلتی رہی تھی۔ آن انڈین فلم انڈسٹری کی پہلی رنگین فلم تھی ۔ متروکہ املاک میں رادھے سینما جن کے حصہ میں آیا، انہوں نے رادھے ٹاکیز کا نام بدل کر ناز سینمارکھا۔ دیکھا دیکھی بندر روڈ کی دوسری جانب ناز سینما کے سامنے کسی مالدار نے نشاط سینما بنوایا۔ نشاط سینما اب تک فعال ہے۔ اس میں فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔ ناز سینما کی جگہ ایک مارکیٹ نے لے لی ہے۔

لاہور کے پروڈیوسرز نے ملک کے ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان سے گزارش کی کہ ہندوستانی فلموں پر فی الفور بندش لگائی جائے تا کہ لاہور کی فلم انڈسٹری ترقی کر سکے۔ فیلڈ مارشل نے بغیر کسی پس و پیش فرمان جاری کر دیا۔ ہندوستانی فلموں کی نمائش پر مکمل بندش لگا دی گئی۔ تب پاکستان میں شاید پندرہ بیس فلمیں ایک سال میں بنتی تھیں۔ ملک میں سینماؤں کی تعداد ڈھائی تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ڈھائی تین ہزار سینما کیسے پندرہ بیس فلموں پر گزارہ کر سکتے ہیں؟ یہ کسی نے نہیں سوچا تھا۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں سینما انڈسٹری تباہ ہو گئی۔ ابھی تو بہت سی پرانی باتیں ہمیں آپس میں کرنی ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)