الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کو پنجاب میں انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کردیا
الیکشن کمیشن پاکستان نے 30 اپریل کو پنجاب میں پولنگ کرانے کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا ہے۔
واضح رہے کہ 3 مارچ کو صدرعارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کا حکم جاری کیا تھا ۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدوار 12 مارچ سے 14 مارچ تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن امیدواروں کے ناموں کی فہرست 15 مارچ کو آویزاں کرے گا، کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 22 مارچ تک کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن پاکستان کے مطابق اسکروٹنی پر ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپلیں 27 مارچ تک دائر کی جا سکیں گی۔ اپیلیٹ ٹریبونل اپیلوں پر فیصلے 3 اپریل تک کرے گا۔ امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 4 اپریل کو جاری کی جائے گی۔
شیڈول کے مطابق نامزدگی سے دستبرداری کی آخری تاریخ 5 اپریل مقرر کی گئی ہے۔ انتخابی نشان 6 اپریل کو جاری ہوں گے اور الیکشن کے لیے پولنگ 30 اپریل کو ہو گی۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے بدھ کے روز جاری ہونے والے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔
سپریم کورٹ نے اس میں یہ بھی کہا تھا کہ صدر مملکت اور گورنر خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن پاکستان کی مشاورت سے بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں، قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔
اس دوران الیکشن کمیشن اور گورنر خیبرپختونخوا کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ بدھ کو اس ضمن میں ہونے والی مشاورت بے سود ثابت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق گورنر حاجی غلام علی نے صوبے میں پرامن انتخابات کے انعقاد پر زور دیا تاہم مشاورت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام نے گورنر کو سیکیورٹی پر بریفنگ دینے سے معذرت کر لی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے حکام نے گورنر کو انتخابی تاریخ تک محدود رہنے کا مشورہ دیا۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت گورنر سے مشاورت کا دائرۂ کار صرف انتخابی تاریخ ہے۔ آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نگران حکومت پرامن انتخابات کو یقینی بنانے میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرتے ہیں۔