لاہورمیں دفعہ 144 نافذ، پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریاں
محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک ہفتے کے لیے جلسے، جلوسوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ پیمرا نے تحریک انصاف کی ریلی کی کوریج پر پابندی عائد کردی ہے اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاہور میں جلسے، جلوسوں پر پابندی دفعہ 144 کے تحت لگائی ہے۔ پابندی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبائی دارالحکومت میں یہ پابندی ایک ہفتے کے لیے عائد کی ہے۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ عائد کردہ پابندی کا نفاذ آج سے ہوگا۔ پابندی امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عائد کی گئی ہے۔
یہ پابندی ایک ایسے وقت لگائی گئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی مہم کے آغاز کے لیے آج زمان پارک سے داتا دربار تک ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسے حکومت کا فسطائی اقدام قرار دیا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب میں سیاسی اجتماعات پر پابندی فسطائی حکومت کا نیا ہتھیار ہے۔ سامراجی قوتیں ہمیشہ عوام سے خوفزدہ رہی ہیں، پاکستان کے عوام نے اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ لڑائی لڑی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوں گے، اس فاشسٹ حکومت کے خلاف جدوجہد میں مزید تیزی آئے گی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشاورتی جاری ہے۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے سینیٹر وسیم شہزاد نے کہا تھا کہ آج لاہور میں عمران خان کی زیر قیادت ریلی ایک عوامی ریفرنڈم ہوگا۔
قبل ازیں محکمہ داخلہ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو لکھے گئے مراسلے میں کہا تھا کہ آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لاہور میں خواتین مارچ بھی منعقد ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کو یقینی بنائے۔
صوبائی محکمہ داخلہ نے مراسلے میں کہا تھا کہ ملکی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں عوامی اجتماعات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔