آڈیو لیکس اور ملکی سیاست
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 26 / اپریل / 2023
گزشتہ دنوں دو نئی آڈیو لیکس کا چرچا رہا۔ ایک میں دو خواتین کی گفتگو سامنے آئی جن میں سے ایک خاتون سپریم کورٹ کے جج کی قریبی عزیزہ بتائی جاتی ہیں جبکہ دوسری گفتگو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور تحریک انصاف کے قانونی مشیر کے درمیان تھی۔ حسب معمول اس معاملہ پر بھی ملک میں دو آرا کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومتی کیمپ میں شامل لوگ ان لیکس کے ذریعے اداروں پر تحریک انصاف کے حامیوں کے اثر و رسوخ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں جبکہ تحریک انصاف اس طریقہ کو انفرادی آزادی پر حملہ قرار دے کر اس کی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔
آڈیو لیکس کا سلسلہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستانی سیاست کا مستقل جزو بن چکا ہے لیکن خبروں کا حصہ بننے اور ان پر تبصرے کرنے کے علاوہ اس حوالے سے کوئی کارروائی دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ حکومت ایسی کسی آڈیو لیک پر کوئی خاص رد عمل دینے پر آمادہ نہیں ہے جس کے مواد سے اسے سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان ہو۔ جبکہ تحریک انصاف اپنے طور پر ایسی آڈیو لیکس کو سیاسی بیان بازی کے لئے تو استعمال کرتی ہے لیکن اصلاح احوال کے لئے اس کے پاس بھی کوئی تجویز یا حل نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار ملک میں بداعتمادی اور نفرتوں میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ لیکن سیاسی تقسیم کے موجودہ ماحول میں کوئی بھی سیاست دان اس قسم کی غیر قانونی سرگرمی کے دوررس اثرات و عواقب کا جائزہ لینے اور اس سے ملک و قوم کو بچانے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔
عام قیاس ہے کہ اہم لوگوں کی نجی گفتگو کی نگرانی اور ریکارڈنگ عام طور سے ایجنسیاں کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ ایجنسیاں براہ راست سول حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں جبکہ بعض ایجنسیاں فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ تاہم اگر پاک فوج کے نئے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری کی تازہ ترین پریس کانفرنس پر یقین کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ ملکی فوج سیاست سے تائب ہونے کے وعدے پر قائم ہے اور حکومت سے اس کا تعلق غیر سیاسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے لئے سب سیاست دان واجب الاحترام ہیں ، اس کی کوئی ترجیح یا پسند و ناپسند نہیں ہے۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ فوج حکومت وقت کے کنٹرول میں ہے۔ انتخابات کے موقع پر فوج کی تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے وزارت دفاع کے اعلامیہ کی حمایت کرنے پر اکتفا کیا جس کے مطابق سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے انتخابی ڈیوٹی کے لئے فوج فراہم نہیں کی جاسکتی ۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ انتخابات ایک ہی وقت میں ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دلچسپ اضافہ بھی کیا کہ یہ فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے کہ فوج کہاں اور کس وقت تعینات کرنا ہے۔
میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے اس بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو فوج بھی اس وقت حکومتی دائرہ اختیار سے باہر نہیں ہے۔ اس لئے قیاس کیا جانا چاہئے کہ اس کے زیر انتظام کام کرنے والی ایجنسیاں بھی بالواسطہ طور سے ہی سہی حکومت کو جواب دہ ہیں۔ اس صورت میں ہر تھوڑے وقفے کے بعد کسی اہم شخصیت کی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آنا اور اس پر سیاسی مباحث کا آغاز براہ راست حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ ایسے کسی موقع پر وزیر داخلہ سمیت اہم وزرا کو کسی قانون شکنی اور نظام کی کمزوری کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہوتی لیکن وہ ایسی کسی گفتگو سے مرضی کے معنی نکال کر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کا سلسلہ ضرور شروع کردیتے ہیں۔ حکومتی ذمہ داران کے اسی رویہ کے سبب یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ غیر قانونی حرکتیں حکومت کی خواہش پر ہی تو دیکھنے میں نہیں آتیں۔ اس حوالے سے کسی کے پاس موجودہ حکومت کے کسی غیر قانونی رویہ کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن جب حکومت بعض بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور مسلمہ طریقہ کار کے خلاف ہونے والی حرکتوں کو مسترد کرنے کی بجائے ، ان سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی تو اس کی پوزیشن کمزور ہوگی۔
نجی گفتگو ریکارڈ کرکے اسے کسی بھی مقصد سے نشر کرنا غیر قانونی حرکت ہے۔ اگر اس کام میں ملوث لوگوں کا علم ہوجائے تو متعلقہ قوانین کے تحت انہیں سزا دی جاسکتی ہے۔ مہذب جمہوری ممالک میں ایسی کوئی حرکت حکومت وقت کے لئے کسی بڑے سیاسی بحران کا سبب بھی بن سکتی ہے لیکن پاکستان میں ان باتوں کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ البتہ شہباز شریف حکومت ان حالات میں اس ذمہ داری سے انکار نہیں کرسکتی کہ آڈیو لیکس سامنے آنے پر وہ اپنے فرائض ادا کرنے اور شہری آزادی کی حفاظت کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ موجودہ حکومت پہلے ہی سیاسی و معاشی پالیسیوں میں شدید ناکامی کا سامنا کررہی ہے۔ آڈیو لیکس کے معاملہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت انتظامی طور سے بھی ناکام ہے۔ اپنے ہی زیر انتظام اداروں پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ ملکی ایجنسیوں کو یہ حکم دے سکی ہے کہ ایسی غیر قانونی سرگرمیاں فوری طور سے بند ہونی چاہئیں۔ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ یا وزیر اعظم شہباز شریف اگر کسی آڈیو لیک کے بعد اس پر اپنی سیاست چمکانے کی بجائے، معاملہ کی سنگینی سمجھتے ہوئے، دو ٹوک الفاظ میں متعلقہ اداروں کو وارننگ جاری کرتے تو ملکی سیاسی حالات تو شاید تبدیل نہ ہوتے لیکن حکومت کو کم از کم یہ اخلاقی بالادستی حاصل ہوسکتی تھی کہ وہ سیاسی مقاصد کے لئے نہ تو اپنے زیر انتظام اداروں کو استعمال کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی سیاسی مخالفت میں شہریوں کے حقوق سلب کرنے کی اجازت دے گی۔ حکومت البتہ یہ اخلاقی فائدہ اٹھانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔
آڈیو لیکس کے حوالے سے اگرچہ عام طور سے ایجنسیوں کی طرف انگلی اٹھائی جاتی ہے لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی اور عام دستیابی کی وجہ سے بعض دوسرے منظم گروہ بھی اس قسم کی جاسوسی یا ریکارڈنگ کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ سامنے آنے والی متنازعہ آڈیوز کو ایجنسیوں نے نہیں بلکہ بعض ایسے گروہوں نے ریکارڈ کیا ہے جو ملک میں سیاسی انارکی پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بھی اس صورت میں یہ ذمہ داری بہر حال حکومت وقت اور ایجنسیوں پر ہی عائد ہوگی کہ وہ کیسے ایسے سماج دشمن عناصر کو غیر قانونی کام کرنے اور لوگوں کی نجی گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اس قسم کی حرکت کو ’ریاست کے اندر ریاست‘ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ قانونی اور جمہوری انتظام کے تحت چلنے والے ممالک میں بھی جاسوسی کی جاتی ہے لیکن اس کے لئے مجاز ادارے عدالت کی قانونی اجازت کے بعد کارورائی کرتے ہیں۔ اور ایسی ریکارڈنگ کو سختی سے قومی سلامتی یا کسی جرم کی نشاندہی کے مقصد سے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں البتہ یہ غیر قانونی کام بظاہر محض سیاسی فائدے کے لئے کیا جارہا ہے۔ اس ناکامی کی ذمہ داری بھی بہر صورت حکومت وقت پر ہی عائد ہوگی خواہ وہ یا اس کے زیر انتظام ادارے اس کام میں براہ راست ملوث نہ بھی ہوں۔ یہ صورت حال ہر لحاظ سے ناکامی کا سامنا کرنے والی کسی حکومت کے لئے خوش آئیند نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار ملکی نظام کو کمزور کرے گا اور سرکاری اداروں و حکومت پر عوام کا اعتبار مزید کمزور ہوگا۔
اس وقت حکومت پارلیمنٹ کی آڑ میں سپریم کورٹ کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ وفاقی حکومت پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات سے انکار کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں اور پنجاب و خیبر پختون خوا میں قبل ازوقت انتخابات کروانا قومی مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت اس حوالے سے سپریم کورٹ کے یکم مارچ کو جاری ہونے والے متنازعہ فیصلہ کا سہارا لے رہی ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم اور دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقلیتی ججوں کا فیصلہ تھا جسے اکثریتی ججوں کا فیصلہ قرار دے کر قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ اسمبلی ٹوٹنے کے 90 روز کے اندر انتخاب کروانے کی آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کررہی ہے کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروائے جائیں۔ تاہم حکومت نے اس حکم کے تحت الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے سے انکار کردیا ہے۔
گو کہ چیف جسٹس کی بعض غلطیوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کے حکم پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ اس میں سب سے اہم تو یہی معاملہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں یکے بعد دیگرے توڑی گئی تھیں لیکن سپریم کورٹ صرف پنجاب میں انتخابات کروانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ دوسری طرف چیف جسٹس نے شدید تنقید کے باوجود اپنے دو ہمنوا ججوں پر مشتمل بنچ بنا کر تمام اہم سیاسی فیصلے کرنے کا طریقہ ترک نہیں کیا۔ اب یہ معاملہ جمعرات کو ایک بار پھر سپریم کورٹ میں زیر غور ہوگا۔ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے عید کی چھٹیوں سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے اور انتخابات کے سوال پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ثالثی کروانے کے کردار کو تسلیم نہیں کرتی۔ ججوں کو ضامن بننے کی بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں تند و تیز تقریروں میں سپریم کورٹ پر پارلیمان کا احترام نہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ایوان کے جذبات سے بذریعہ خط چیف جسٹس کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سیاسی پس منظر میں بھی اہم ہے کہ حکومت کی اخلاقی اور قانونی پوزیشن مستحکم ہو۔ تاہم آڈیو لیکس پر ناکامی اور اس کے مواد کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کے طریقہ سے حکومت کے درست سیاسی مؤقف پر بھی شکوک کے سائے نمایاں ہوں گے۔