شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمان میں 180 ووٹ حاصل کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ شہباز شریف نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان وزیرِ اعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں گزشتہ سماعت پر جسٹس منیب اختر کی جانب سے ریمارکس دیے گئے تھے کہ پارلیمان نے فنڈ جاری کرنے کے حوالے سے قرار داد منظور نہیں کر سکی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیرِ اعظم پارلیمان کا اعتماد ہی کھو چکے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آئین بنانا اور اس میں ترمیم کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، عدلیہ کو آئین ری رائٹ کرنے کا کوئی اختیار نہیں‘۔ آج ہاؤس نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا پارلیمان قانون بنائے اور عدلیہ اس پر سٹے آرڈر دے دے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج ایوان کے فیصلوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے لیکن پارلیمان نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ ہم تین رکنی بینچ کا فیصلہ نہیں مانتے۔ اگر پارلیمان اس قانونی خلاف ورزی پر صدائے احتجاج بلند کرتی ہے تو اس پر توہینِ عدالت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھیجیں گے لیکن اس کا ایجنڈا کیا ہو گا یہ اصل سوال ہے۔ اس کا ایجنڈا ملک میں ایک ساتھ انتخبات ہو گا‘۔
شہباز شریف نے کہا کہ عدلیہ کی آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمان صدائے احتجاج بلند کرے تو توہینِ عدالت کے وار کی دھمکی دی جاتی ہے۔