مکالمہ کا سیاسی، علمی و فکری کلچر
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 28 / اپریل / 2023
مہذب معاشروں یا علمی و فکری بنیادوں پر موجود سماج کی سب سے بڑی خوبی جذباتیت کے مقابلے میں رواداری پر مبنی معاشرے سے جڑا ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ جو ایک دوسرے کے مختلف نظریات، سوچ، فکر او رخیالات کو احترام دیتا ہے تو معاشرے سے جڑے افراد کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ضروری امریہ ہوتا ہے کہ ہم معاشرے کی تشکیل میں مکالمہ کے کلچر کو فروغ دیں او راس کامجموعی طور پر احترام بھی کیا جائے۔لیکن جیسے یہاں مختلف معاملات میں ہمیں مختلف نوعیت کے بگاڑ کا سامنا ہے تو ایسے ہی معاشرے میں مکالمہ کے عملی فقدان نے بھی ہمیں مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ایک ایسا معاشرے جو اب سیاسی، سماجی، اخلاقی اور علمی و فکری بنیادوں پر جو تقسیم بڑھی ہے تو اس کے نتیجہ میں مکالمہ کم بلکہ اپنی رائے اور خیالات کو جبر کی بنیاد پر دوسروں پر مسلط کرنا یا دوسرے کی رائے کو غلط سمجھ کر اپنی رائے کو ہی مکمل سچ تسلیم کرنا ہے۔ اختلافات کی نوعیت کسی بھی طرز کی ہوسکتی ہے او ریہ ایک سے زیادہ لوگوں میں فطری امر بھی ہوتا ہے لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ ہم اختلافات کو کسی دشمنی کا رنگ دیں یا ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی بجائے ان پر مختلف نوعیت کے منفی لعن طعن یا فتوی جاری کرکے مکالمہ کی اہمیت کو کم کریں۔
مکالمہ کی خوبی بحث کو آگے بڑھانا او رایک رائے یا سوچ کے مقابلے میں ایک متبادل سوچ او ر فکر کو سامنے لانا ہوتا ہے۔مکالمہ عمومی طور پر عملًا نئے خیالات کو جنم دیتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آگے بڑھنے کا راستہ بھی دیتا ہے۔ کیونکہ مکالمہ پہلے سے موجود جمود کو توڑنے کا سبب بنتا ہے اور تنقید وتضحیک کے درمیان فرق کو قائم بھی کرتا ہے۔ کیونکہ عمومی طو رپر ہم تنقید کرتے وقت ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں اور اپنے مخالف سوچ کو باقاعدہ شعوری یا لاشعوری طو رپر تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔سب سے بڑا بحران اپنی سوچ اور فکر یا خیال کو سچ تسلیم کرنا اور دوسروں کی سوچ کو غلط سمجھنا ہوتا ہے۔اسی بنیادپر ہم لوگوں کو پرکھتے ہیں یا ان سے تعلق کو جوڑتے یا توڑتے ہیں۔مکالمہ وہیں چلے گا جہاں ہم خود کو کسی بھی فریق کے بارے میں تعصب سے باہر نکلالیں گے۔کیونکہ جہاں تعصب ہوگا او رپہلے سے موجود خیالات میں جمود, سختی یا نئی بات کو قبول نہ کرنے کی گنجائش ہوگی وہاں مکالمہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہم سوال یا مکالمہ یا اپنی رائے دیتے وقت الجھ جائیں او ربلاوجہ خود ہی ٹکراؤ کا ماحول پیدا کریں او راس بات پر ضد کریں کہ میں ہی سچا ہوں او رمیری ہی بات کو تسلیم کیا جائے۔
مسئلہ محض سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ آپ کسی بھی علمی و فکری مجلس میں جائیں، رسمی یا غیر رسمی میڈیا کا جائزہ لیں جس میں سوشل میڈیا بھی پیش پیش ہے یاکسی مذہبی مجلس کا حصہ ہوں سب ہی جگہ زیر بحث بنیادی نکتہ مکالمہ کے کلچر کے فقدان کا نظر آئے گا۔ہم مکالمہ کے نام پر تعصب، نفرت،منفی خیالات،عدم برداشت اور ایک دوسرے کے خیالات کے وجود کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ہم مکالمہ کے نام معاملات کو عملی طور پر سلجھانے کی بجائے بگاڑنے کے کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہم محض اپنی سوچ اور فکر کی بنیاد پر ہی معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں پورا معاشرے ویسے ہی سوچے جیسے میں سوچتا ہوں تو یہ ممکن نہیں۔معاشرے مختلف سوچ اور خیالات کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں مگر ان میں ایک دوسرے کے لیے رواداری پر مبنی سوچ بھی ہوتی ہے کہ ہم مختلف خیالات کے باوجود اکھٹے مل کر رہ سکتے ہیں اور ساتھ چل بھی سکتے ہیں۔
مجموعی طو رپر مکالمہ کا کلچر وہیں مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتا ہے جہاں جمہوری روایات یا جمہوری کلچر یا سوچ وفکر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہاں جمہوریت بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے تو ہمیں مکالمہ کم اور اس کے نام پر شدت پسندی، انتہا پسندی یا پھر پر تشدد رجحانات غالب نظر آتے ہیں۔مکالمہ کے فقدان کی ناکامی محض کسی ایک فرد یا ادارہ کی نہیں ہے بلکہ ہم مجموعی طور پر بطور معاشرہ اس میں ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ سیاست دان،راہنما، مذہبی پیش رو، دانشور، صحافی، استاد، شاعر ادیب جو عمومی طور رپر انفرادی یا اجتماعی طور پر رائے عامہ بناتے ہیں، وہ سب ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ فریق لوگوں کی ذہنی،علمی و فکری تربیت نہیں کرسکے بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ رہا کہ خود ان افراد کے جو رائے عامہ بناتے ہیں یا تشکیل کرتے ہیں خود بھی مکالمہ سے کہیں دور کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام مکالمہ کے مقابلے میں ایک مخصوص سوچ او رفکر کو مسلط کرتا ہے او راگر کوئی اس پر سوالات کرتا ہے یا اٹھاتا ہے تو اس کو طاقت ور طبقہ سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوشل میڈیا یا رسمی میڈیا میں جو مباحث ہوتے ہیں اس میں چار طرح کے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔ اول ہم جو سوال اٹھائے جارہے ہوتے ہیں یا جو رائے دی گئی ہوتی ہے اس کے برعکس اپنے مخصو ص خیالات کی بنیاد پر اس پر تبصرہ کرتے ہیں جس میں بات کو آگے بڑھانے یا اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی بجائے تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ دوئم ہم مکالمہ کے نام پر لوگوں کی ذاتی زندگی کی بنیاد پر تنقید، ذاتیات پر مبنی کردار کشی، سیاسی و مذہبی فتوے یا لوگوں کے ذاتی سیاسی و مذہبی عقائد پر سخت بیان بازی میں ہم الجھ کر رہ گئے ہیں۔ سوئم جذباتیت کا شعوراور دلیل یا شواہد کے مقابلے میں بالادست ہونا۔ چہارم ایک دوسرے کے خیالات میں اس کے وجود سے ہی انکاری کا عمل اور زیادہ خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔مکالمہ کا کلچر یا اس کی اہمیت کو تسلیم کروانے کا عمل براہ راست ہمارے خاندانی نظام،تعلیمی نظام، کمیونٹی سے جڑا نظام اور ریاستی و حکومتی نظاسے جڑا ہوتا ہے۔ یہ سب نظام بنیادی طو رپر معاشرے کی تشکیل نو اسی انداز میں کرتے ہیں کہ لوگ جبری خیالات کے مقابلے میں مکالمہ کے کلچر کو فوقیت دیں۔گھر یا خاندان میں جب ہم خود بھی مکالمہ کے خلاف ہوں او راپنے ہی بچوں پر رائے یا سوچ کو مسلط کرتے ہوں وہاں گھر سے باہر کا ماحول یا ریاستی نظام کیسے درست ہوسکتا ہے۔
آپ ضرور تنقید کریں یا اختلاف کریں مگر اس کا علمی و فکری سلیقہ سیکھنا ہوگا کہ کیسے مکالمہ کیا جاتا ہے اور کیسے مکالمہ کو بنیاد بنا کر ہم خود کو آگے بڑھاسکتے ہیں۔کیونکہ اگر ہم نے خود کو مہذہب انداز میں پیش کرنا ہے تو اس لیے ہمیں اپنے موجودہ طور طریقوں کو بدل کردوسروں کو بھی اس بات کی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ خود کو بدلیں۔ کیونکہ یہ جو مکالمہ کے نام پر الفاظ کی یا لب ولہجہ کا عملی مظاہرہ ہم شدت پسندی پر مبنی جذبات اور تقریروں یا بیانات کی صورت میں دیکھ رہے ہیں وہ کسی بھی سطح قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ہمیں مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے ریاستی محاذ پر مکالمہ کو ایک قومی نصاب اور بیانیہ کی حیثیت دینی چاہیے۔جو لوگ بھی مکالمہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں یا مکالمہ کے نام پر جو انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں ان کا سیاسی اور سماجی سطح پر بایکاٹ بھی ہونا چاہیے اور ان کو احتساب کے دائرہ کار میں بھی لانا ہوگا۔سیاسی، مذہبی، لسانی اور علاقائی بنیادوں کو بنیاد بنا کر مکالمہ کو پیچھے دھکیلنا درست حکمت عملی نہیں۔
اس وقت معاشرتی سطح پر مکالمہ کو بنیاد بنانے کے لیے ہمیں ایک کوڈ آف کنڈکٹ درکار ہے۔ اسی کوڈ آف کنڈکٹ کو بنیاد بناکر ہمیں خاندانی نظام سے لے کر ریاستی نظام تک اس اصول کو اپنی بڑی ترجیح کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اسی طرح ہمیں ریاستی محاذپر اس اصول کو بھی اختیار کرنا ہوگا کہ جو لوگ بھی متبادل آوازیں اٹھارہے ہیں ان کے ساتھ کسی بھی سطح پر طاقت کا استعمال یا تشد دپر مبنی پالیسی کو اختیار کرکے ان کی آوازوں کو دبانے کا اختیار بھی درست حکمت عملی نہیں۔ ہمیں متبادل طور پر اٹھنی والی آوازوں کے ساتھ بات چیت یا مکالمہ کے انداز کو ہی اختیار کرکے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔کسی کے خلاف کسی بھی سطح کے فتووں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے جس میں ہم مکالمہ کرنے کی بجائے اپنے مخالفین کو دہشت گرد, مذہب دشمن یا ملک کے غدار کے طور پر پیش کریں۔کاش ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر مکالمہ کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں تو اپنے قومی تشخص کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر بہتر مقدمہ کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔