آئین موم کی ناک نہیں ہے

حکومت اور تحریک انصاف کے وفود   کے درمیان     مذاکرات کا دوسرا   دور اس  اطلاع کے ساتھ  ختم ہوگیا ہے کہ  فریقین نے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں اور اب قیادت سے رہنمائی لینے کے بعد منگل کو بات چیت کا فائنل راؤنڈ ہوگا۔ سرکاری وفد کے قائد اسحاق  ڈار اور تحریک انصاف کے  وائس چئیرمین   شاہ محمود قریشی نے یکساں طور سے آج کی ملاقات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم   ملاقات میں شریک ہونے والے کسی بھی لیڈر نے  مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔

حکومتی اتحاد کے ساتھ تحریک انصاف کے وفد کی ملاقات  میں شرکت کے بعد اگرچہ شاہ محمود قریشی نے پیش رفت کی تصدیق کی لیکن اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر صحافیوں  سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ  ’میں نے شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری سے کہہ دیا ہے کہ  اگر حکومت فوری طور سے اسمبلیاں توڑ کر انتخابات پر راضی نہیں ہوتی تو کسی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں‘۔ یہ دھمکی آمیز لب و  لہجہ پارلیمنٹ ہاؤس میں فریقین کی ملاقات کے بعد سامنے آنے والے اشاروں سے مختلف ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان کو     انتخابات کے سوال پر   حکومت کے ساتھ اتفاق رائے کے سوا  موجودہ بحران کا کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا اور وہ ایک متفقہ تاریخ پر بیک وقت انتخابات کروانے کے اصول  کو تسلیم کررہے ہیں ۔ لیکن اپنے حامیوں کو مسلسل دھوکے میں رکھنے کے لئے  وہ  حکومت کے بارے میں دھمکی آمیز لب و لہجہ اپنانے پر مجبور ہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوسکتا ہے کہ عمران خان جب ایک مقدمہ میں ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تو صحافیوں نے  ان سے بار بار پوچھا کہ ’اب  چوروں سے بات چیت کیوں کر شروع کی گئی ہے‘۔ تاہم عمران خان نے ان سوالوں کا جواب  دینے کی بجائے کمرہ عدالت میں جانے کو ترجیح دی ۔  عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے  حسب معمول خود کو درست اور حکومتی اتحاد کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئین کو مانتے ہیں لیکن وہ آئین کے خلاف ہیں۔ ہم عدالتوں کے فیصلوں کے ساتھ ہیں لیکن حکومت عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بالادست  آئین ہوتا ہے ، پارلیمنٹ نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں عمران خا  ن کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب  میں  14  مئی کو انتخابات نہیں ہوتے تو آئین ٹوٹ جائے گا۔  ’اگر آئین ٹوٹ گیا تو پھر جس کا بھی زورہو گا، اسی کی بات چلے گی‘۔

عمران خان کا رویہ ایک ہی وقت  میں دو مختلف باتیں کرنے جیسا ہے۔ گویا وہ حقیقی سیاسی صورت حال اور اپنے حامیوں کی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کررہے  ہیں۔ ایک طرف فوری انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو آئین شکن قرار دیا جارہا ہے لیکن دوسری  طرف   تحریک انصاف کا وفد حکومتی وفد سے نہ صرف بات چیت مکمل کرنے پہنچ گیا بلکہ مختلف  آپشنز پر غور کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا اور متفقہ طور سے طے ہؤا کہ 2 مئی کو مل کر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ حالانکہ اگر میڈیا سے  عمران خان کی گفتگو ہی تحریک انصاف کا رہنما اصول ہے  اور وہ پنجاب میں فوری انتخاب کے  مطالبے سے  کسی صورت پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں  ہے تو  انتخابات کے سوال پر حکومتی وفد سے بات چیت کا کوئی جواز نہیں تھا۔ بات چیت کی قسمت کا فیصلہ تو عمران خان نے ایک فقرے میں ہی کردیا کہ اگر فوری طور سے اسمبلیاں نہیں توڑی جاتیں تو مذاکرات نہیں ہوں گے۔ 

یہ کہنا تو ممکن نہیں ہے کہ تحریک انصاف ، عمران خان کی مرضی کے علاوہ کوئی فیصلہ کرسکتی ہے یا  پی ٹی آئی کوئی ایسا سیاسی  پلیٹ فارم ہے جہاں اعلیٰ قیادت مل بیٹھ کر بحث و تمحیص کے بعد  اتفاق سے یا کثرت رائے سے فیصلے کرتی ہے۔  اس لئے عمران خان مذاکرات اور انتخابات کے حوالے سے میڈیا سے کچھ بھی کہتے رہیں،  فیصلہ تو پارٹی کے اجلاس میں ہوگا۔ بدقسمتی سے تمام سیاسی پارٹیوں کی طرح تحریک انصاف بھی شخصی آمریت کے چنگل میں ہے۔ عمران خان ہی تحریک انصاف ہیں اور تحریک انصاف،  عمران خان کی مرضی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر اس پارٹی میں ایک شخص کی ضد ہی  فیصلہ کن حیثیت کی حامل نہ ہوتی تو کبھی بھی پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں نہ توڑی جاتیں۔  یہ دونوں اسمبلیاں عمران خان  کی ذاتی خواہش اور ضد کی وجہ سے توڑی گئیں ۔ البتہ اس فیصلے کے حسب توقع  نتائج سامنے نہیں آئے۔ تاہم عمران خان کو نہ تو اس پر کوئی شرمندگی ہے اور نہ ہی اس  وجہ سے ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ  متعدد تجزیہ نگار بدستور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ    ایک فرد کے کہنے پر اسمبلیاں توڑنے کا طریقہ غیر آئینی تھا اور آئینی تقاضے کے مطابق  90 دن میں انتخابات کا حکم دینے سے پہلے سپریم  کورٹ کو یہ بھی دیکھنا چاہئے تھا کہ جن اسمبلیوں کے انتخابات کے بارے میں اس نے انتہائی مؤقف اختیار کیا ہے، کیا انہیں آئینی تقاضوں کے مطابق  تحلیل کیا گیا تھا یا اس موقع پر آئین کی خلاف ورزی ہوئی تھی اور اصولی طور پر یہ اسمبلیاں بحال ہونی چاہئیں؟ حتی کہ سپریم کورٹ کے ابتدائی بنچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے بھی یہ سوال اٹھایا اور تحریری طور پر اس  کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت پر  زور دیا ۔ البتہ چیف جسٹس  عمر عطا بندیال نے بعد میں رونما ہونے والے واقعات کے ہجوم میں اس اہم اور بنیادی سوال پر غور کرنے یا رائے دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

گو کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس  نے تین رکنی بنچ کی قیادت کرتے ہوئے بدھ کو یہی ریمارکس دئے تھے کہ اگر سیاسی اتفاق رائے  نہیں ہوتا تو آئین بھی موجود ہے اور ہمارا فیصلہ بھی برقرار ہے۔ تاہم  بدھ کو اس مقدمہ   کی سماعت مکمل کرتے ہوئے جو تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، اس پر ابھی تک عمل نہیں ہؤا۔ حالانکہ اگر سپریم کورٹ واقعی  14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم پر عمل درآمد کروانا چاہتی ہے تو  وہ مزید کسی تاخیر کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی اور پرسوں ہی  یہ ہدایت تحریری حکم کی صورت میں سامنے آنی چاہئے تھی کہ    14 مئی کو انتخاب نہ ہوئے تو  اس کوتاہی کے ذمہ دار سب ادارے اور افراد سپریم کورٹ کو جواب دہ ہوں گے۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں انتخابات کے حوالے سے جو رپورٹ جمع کروائی ہے ، اس میں کہا گیا ہے کہ نہ فنڈز ملے ہیں  اور نہ سکیورٹی فراہم ہورہی ہے۔ اس حالات میں 14 مئی کو انتخابات منعقد نہیں ہوسکتے۔

سپریم کورٹ کے حکم اور ججوں کے رویہ پر  اس  حوالے  سے بھی شدید نکتہ چینی  ہوئی ہے کہ اسمبلیاں ٹوٹے تو  90  دن گزر چکے ہیں، حکم جاری کرنا اور آئین کی مقررہ مدت پر اصرار کرنا سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ دوسرے پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبیاں یکے بعد دیگرے توڑی گئی تھیں لیکن سپریم کورٹ کا سہ رکنی   بنچ پنجاب میں انتخابات پر حکم بھی دے چکا ہے اور شدید حساسیت کا اظہار بھی کرتا رہا ہے۔  لیکن خیبر پختون خوا میں انتخاب کے سوال پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں صوبوں میں آئین کی مختلف تشریح نافذ کی جائے گی۔ عملی طور سے سپریم کورٹ  یہی طریقہ اختیار کرنے کا موجب بن رہی ہے جو بجائے خود آئینی تقاضوں  سے متصادم  ہے۔

ان حالات میں قیاس تو یہی ہے کہ سپریم کورٹ کا سہ رکنی  بنچ جب بھی اپنا فیصلہ جاری کرے  گا تو وہ  صرف ایک حکم پر اصرار کرنے کی بجائے اس عمل میں ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کا ادراک بھی کرے گا۔ اب سیاسی پارٹیاں انتخابات کے لئے بات چیت بھی کررہی ہیں ، اس لئے سپریم کورٹ کے پاس خود کو اس معاملہ سے  الگ کرنے کا سنہرا موقع ہے۔  یوں  14 مئی کو پنجاب میں انتخابات  کو آئینی شرط قرار دینے والوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے کا وقت مل جائے گا اور ملکی سیاسی معاملات کسی دباؤ یا الٹی میٹم  کے تحت طے نہیں ہوں گے۔ بلکہ تمام سیاسی قوتیں مل بیٹھ وسیع تر قومی و ملکی مفاد میں کسی مناسب ٹائم فریم پر متفق ہوجائیں  گی۔

اس صورت حال کے باوجود عمران خان نے آج میڈیا سے گفتگو میں   پنجاب میں انتخابات کے  لئے 14 کو آئینی حد قرار دینے پر  اصرار کیا۔ وہ اس حد تک چلے گئے کہ اگر اس روز پنجاب میں انتخابات منعقد نہیں ہوتے تو اس کا مطلب ہے کہ آئین ٹوٹ چکا ہے اور جو طاقت ور ہے ، وہی اپنی مرضی نافذ کرسکتا ہے۔  اس بیان پر عمران خان سے  یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ آئین پاکستان کوئی موم کی ناک نہیں ہے جو کسی سیاسی لیڈر کی خواہش یا بیان کے مطابق جب اور جیسے جی چاہے موڑ لی جائے۔ نہ ہی سپریم کورٹ  کے ایک نامکمل اور  ناقص فیصلہ سے آئین تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔  ماضی میں یہ  آئین  دو آمروں کی   چیرہ دستی  اور سپریم کورٹ کے متعدد ناگوار فیصلوں کے باوجود  قائم رہا ۔ اس وقت ملکی نظام 1973 کے آئین کے مطابق ہی کام کررہا ہے۔ اس لئے اس کے ٹوٹنے کی باتوں کو سیاسی پروپیگنڈے  کا ذریعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ موجودہ صورت حال سیاسی تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور جیسا کہ تحریک انصاف اور حکومت  بھی ادراک کرچکی ہے، اسے سیاسی مفاہمت سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ  یہ  مقصد حاصل کرنے کے لئے سیاسی لیڈروں کو اشتعال انگیز اور گمراہ کن بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے۔

عمران خان اگر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کے فیصلے  نہ ہوئے   تو وہ ملکی آئین کو ماننے سے انکار کردیں گے اور سول نافرمانی کی تحریک کے ذریعے اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے نافذ کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ جتنی جلدی خواہشوں کے اس محل  کو گرادیں اتنا  ہی بہتر ہوگا۔  پاکستانی عوام اور ادارے ملکی آئین کی  پشت پر ہیں۔ اسے کسی ایک فرد یا پارٹی کے خواہشات پر قربان کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔