پارلیمینٹ کی غیر مشروط آئینی اتھارٹی

الحمدللہ برکتوں والا مبارک مہینہ اختتام پذیر ہوا ہے جس میں چاروں سو مذہبیت چھائی ہوئی تھی۔ ہم پاکستانیوں میں جس قدر مذہبی جوش و خروش ہے شاید دنیا کی کوئی مسلم عرب قوم بھی اس سلسلے میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

درویش بنیادی طور پر ایک مولوی ہے جس کی ساری زندگی اسلام اور دیگر مذہب عالم کو پڑھتے سمجھتے گزری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس کو اسلام پر کچھ لکھنے بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہماری اس پاکستانی مذہبی سوسائٹی میں دو طرح کے اسلام چل رہے ہیں، ایک روایتی جذباتی اسلام ہے جو ہمارے پورے سماج پر چھایا ہوا ہے۔ دوسرا غیر روایتی شعوری اسلام ہے جو سوسائٹی کے لئے اجنبی ہے۔ سچائی سے کام لیا جائے تو اس شعوری اسلام کے علمبردار اس قدر کمزور و قلیل اقلیت ہیں کہ شاید یہاں بسنے والے ہندوؤں، مسیحیوں یا احمدیوں سے بھی نحیف و حقیر قرارپائیں گے۔ کیونکہ حاوی ایمان والے ایسی اپروچ رکھنے والوں کو وہ حقوق دینے کے لئے بھی تیار نہیں جو وہ دیگر مذہبی اقلیتوں کے لئے کم از کم زبانی طور پر مان لیتے ہیں بالفعل اس سے آگے بڑھنے کی اجازت انہیں بھی نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان مذہبی اقلیتوں کے لئے ایک طرح سے جنگل ہے جہاں عدم برداشت آسمانوں تک پہنچی ہوئی ہے۔ ہماری اس روایتی جذباتی اسلامیت کے عقائد و نظریات میں کس قدر شدت براجمان ہے اور کتنے تضادات موجود ہیں کاش کبھی وہ زمانہ امن وسلامتی آئے جب درویش کھل کر ان سب کاپوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اپنے سینے میں موجود دکھ اور بھڑاس نکال سکے۔ فی الحال ایک ہلکا سا اسلامی ٹچ دیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہوں ہماری روایتی مذہبیت میں اول و آخر پورے کا پورا زور اس نظریہ توحید پر ہے کہ ایک خدائے واحد و یکتا پر ایمان کا اقرار کرنے سے بھی پہلے دیگر ایسے تمام چھوٹے بڑے دعویداروں پرنفی کی تلوار چلاؤ۔ لاالہ کا یہی مطلب ہے وحدت و ایکتا کا کس قدر انوکھاتصور ہے دیگر سب کی چھٹی، سب کی جھنڈی کا اعلان کرتے ہوئے علم توحید اٹھا لو۔

اس نظریہ کی تفہیم میں ہمارے مفسرین نے لاکھوں کروڑوں کاغذات سیاہ کردئے ہیں کہ غیر اللہ کے آگے جھکنا تو دور کی بات کسی بڑی سے بڑی ہستی کے لئے خبردار جو خدائی و کبریائی کی صفت بھی منسوب کی ۔ ہر چیز کی معافی ہوسکتی ہے شرک کے لئے ایسی کوئی گنجائش نہیں’’ان الشرک لظلم عظیم‘‘ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن۔ ہمارے حضرت علامہ کو قلندر کی یہ بات پانی پانی کرگئی تھی۔ یہ بات محض قرآن یا اسلام تک محدود نہیں ہے بائبل یعنی تورات، زبور اورا ناجیل اربعہ و برناباس میں بھی اس نوع کی صراحتیں حوالہ جات کے ساتھ تحریر کی جاسکتی ہیں یہ کہ عبادت یا بن   گی کی سزا وار محض ایک ہی ہستی ہے۔ ” تو خدا وند اپنے خدا کے سوا کبھی کسی کوسجدہ نہ کر”۔

اسے آپ ابراہمی نظریہ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ ان تینوں عرب مذہبی فرقوں کے اولین معمار یا باپ سیدنا ابراھیم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں فرقوں میں تخلیق آدم یا قصہ ٔ آدم کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کو آدم تخلیق کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ آدم کی تخلیق ارتقائی عمل تھا یا اچانک پتلا بنا کر صور پھونک دی گئی؟ آدم سے پہلے کون کون سی مخلوقیات اس کائنات میں وجود پذیر ہو چکی تھیں؟ جنوں اور فرشتوں کی کہانیاں تو ملتی ہیں تو کیا ان کا جسدی و جسمانی وجود بھی تھا یا محض استعارے کے طور پر کائنات کی فطری طاقتوں یا خدائی کارندوں یا مشیت ایزدی کا نام تھا؟  کیا ان میں ارادے، رائے یا اختلاف کی طاقت تھی؟ اگر نہیں تھی تو ابلیس نے صبح ازل انکار کی جرأت کیسے کی؟ ان کی تخلیقی کیفیت جو بھی تھی فرشتوں اور جنوں میں تخصیصی تفاوت کی نوعیت کیا تھی؟

کئی لوگ اس نوع کی بحث بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر خدا نے انسان کو یا دیگر مخلوقات کو تخلیق کیا تو خود اسے کس نے پیدا کیا؟ قصۂ آدم میں ہمارے روایتی الوہی و ماورائی کلام نے آدم کو جس طرح مرکز و محور قرار دیتے ہوئے بطور ہیرو پیش کیا ہے حوا جیسی خوبصورت ترین تخلیق کو کمتر کیوں ٹھہرایا ہے؟ بلکہ پورے قصہ میں اس بدنصیب کا تذکر بڑی حد تک گول کردیا جاتا ہے یا پھر محض ایک ضمیمے کے طور پر ہڈی یا پسلی توڑی جاتی ہے بلکہ بائبل مقدس کے مطابق تو اس مقصد کے لئے آدم کے پائوں کی ہڈی کوتوڑ کر استعمال میں لانے کا منصوبہ تھا مگر پھر ترس کھاتے ہوئے یا رحم دلی سے پسلی کی ہڈی استعمال فرمائی اور خالص اسلامی روایات کے مطابق پسلی کی ہڈی چونکہ ٹیڑھی تھی اس لئے عورت ذات ابدی طور پر اپنی سوچ یا شعور کے حوالے سے ٹیڑھی ہی رہے گی۔ اس کے بعد اگر عورت کو ناقص العقل یا ناقص فی الدین قرار دیا جاتا ہے تو اس پس منظر میں یہ قابل فہم ہونا چاہیے۔

یہاں کئی ناہنجار یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ حوا کو پسلی توڑ کر ہی تخلیق کرنے کی کیا مجبوری تھی؟ کیا اس بدنصیب کو آدم کی طرح انڈیپینڈنٹلی تخلیق نہیں کیا جاسکتا تھا اور جب آدم کی پسلی توڑی گئی ہوگی تو اس کو کتنی اذیت پہنچی ہو گی کتنا خون بہا ہوگا۔ اگر خود ہی اس شدید زخم کا علاج کیا ہوگا تو پھر جنگوں میں زخمی صحابہ کے لئے یہ علاج کیوں نازل نہ کردیا گیا؟ درویش کا بھی ہمیشہ سے اپنی روایتی مذہبیت کے سامنے یہ سوال رہا ہے کہ جب ان تمام الہامی و آسمانی کہلائے جانے والے مذاہب میں اول و آخر یہ ازلی و ابدی اٹل حکم تھا کہ تمام تر مخلوقات محض اپنے خالق یا پیدا کرنے والے کی عبادت کرسکتی ہیں اور صرف اسی کے سامنے سجدہ ریز ہو سکتی ہیں تو پھر قصۂ تخلیق آدم میں پیہم اس تقاضے و مطالبے پر اس قدر کیوں زور ہے کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ سب کے سب آدم کو سجدہ کریں، صرف ابلیس نے آدم کےسامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کیا تو وہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ ہوگیا اور شیطان مردود قرار پایا۔

ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا جبکہ شیطان تو بنیادی حیثیت میں فرشتوں سے نہیں جنوں کی مخلوق سے تھا۔ پھر یہ حکم اس پر کیسے لاگو ہوگیا؟ یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ ایک اٹل ابدی و ازلی حکم کی موجودگی میں دوسرا قطعی الٹا یا متضاد حکم کیسے جاری کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ دعویٰ یہ ہو کہ خداوند خالق کائنات و فطرت کی حیثیت سے اپنے ضوابط کو نہیں توڑتا جوطے کردیا سو کردیا؟ فرمان ہے کہ یقیناً تو سنت اللہ یعنی خدا کے طریق کار میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ ایک طرف تیرا یہ فرمان ہے کہ کائنات کی تمام قوتوں میں کسی کی مجال نہیں ہے کہ جو تیرے حکم کی تعمیل سے انکار و انحراف کرپائے۔ تیرا یہ بھی فرمان ہے کہ تیرے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہلتا اور تو جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے تو گمراہ کرد ے، اسے کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا، تو پھر قصۂ آدم میں ابلیس کی نافرمانی کو کن معنوں میں لیا جائے؟ جب تیرا ابدی حکم تھا کہ ایک تیرے سوا کسی کو سجدہ روا نہیں ہے تو پھر ابلیس نے کون سی نافرمانی کی؟ اگر تیرے احکام اور ضوابط اٹل ہیں تو پھر خود تو نے اپنے علاوہ آدم کو سجدہ کرنے کا حکم کیوں صادر فرمایا؟ ہمارے فقہا و مفتیان شرح متین نے اسی سے ایک نقطہ نکالا ہے کہ خداوند ایک طرف فرماتا ہے کہ میں اپنے فرمان یا اصولوں کے خلاف نہیں جاتا، دوسری طرف پیہم یہ دہراتا ہے کہ میں ہر چیز پر قادر ہوں اس پس منظر میں بحث یہ ہے کہ مسئلہ امکان کذب کیا ہے؟ دارالعلوم دیوبند کے بڑے عالم مولانا رشید احمد گنگوہی کے فتاویٰ رشیدیہ میں پوری بحث موجود ہے کہ کیا خدا جھوٹ بول سکتا ہے؟ کیا وہ اپنے دعوؤں یا وعدوں کے خلاف جا سکتا ہے؟ اسی طرح مسئلہ جبر و قدر کیا ہے؟ انسان کتنا مختار ہے اور کتنا بے بس ؟ اور پھر ان کی حدود ماپنے کا پیمانہ کیا ہے؟ بہر حال بحث دوسری طرف چلی گئی ہے۔ ہماری اصل دلچسپی اس امر میں ہے کہ خدا نے روز ازل اپنے علاوہ جب آدم کو سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمادیا تو پھر اس کی معنویت کو سمجھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اسی حکم سے ابدی طور پر شرف انسانی اور عظمت انسانی کی سوچ پھوٹتی یا پروان چڑھتی ہے اور آپ سے آپ یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ جو عظمت انسانی کے سامنے سجدہ ریز یا سرنگوں ہونے سے انکاری ہو درحقیقت وہی شیطان ابلیس ہے۔

انسانی عظمت کا اولین تقاضا یہی ہے کہ اس کی مرضی، رائے یا پسند کا احترام کیا جائے یہی اپروچ یو این ہیومن رائٹس چارٹر میں منوائی گئی ہے۔ یو این کا یہی تقاضا ہےکہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر یا ڈیکلریشن میں بیان کردہ تمامتر حقوق کو تقدس بخشتے ہوئے اقوام عالم نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ اپنی اپنی اقوام و ممالک کے اندر بھی انہیں جاری و ساری کردیں۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کے ساتھ ہی اسی سے جمہوریت اور پارلیمینٹ کی بالادستی کا تصور بھی تشکیل پاتاہے۔ مخصوص انسانی کمیونٹی کی امنگوں کے مطابق اگر کوئی ادارہ ابھرتا ہے تو وہ بھی اسی تقدس ، عظمت اور ساورنٹی کا ویسا ہی حقدار ہوگا جو پوری انسانیت کے لئے تسلیم کی گئی ہے۔ کسی فرد واحد ، گروہ ، ٹولے، ادارے یا جماعت کا چاہے وہ کتنے ہی مقدس یا طاقتور عہدے یا حیثیت پر براجماں ہوں یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ کمیونٹی کے نمائندوں کی آواز رد کرسکیں۔

مسلم ورلڈ میں پہلی مرتبہ جب اتاترک نے شخصی خلافت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس کی تمام تر اتھارٹی منتخب پارلیمینٹ کو تفویض کرنے کا اعلان کیا تھا تو ہمارے قومی مفکر علامہ اقبال نے اس کی بھرپور وکالت کی تھی۔ درویش کا اپنی قوم کےسامنے سوال یہ ہے کہ کیا آج ہمارا موجودہ آئین عوام اور پارلیمینٹ کی اس بالادستی یا ساورنٹی کوتسلیم کرتا ہے ؟ کیا یہاں یہ مطالبہ نہیں رکھنا چاہئے کہ عوامی ساورنٹی سے ٹکراؤ والی تمام شقیں چاہے وہ مذہب کے نام پر ہوں یا روایات کے نام پر چیلنج ایبل قرار دیتے ہوئے ان سب کا قلع قمع ہونا چاہیے۔