اسمبلیاں توڑی جائیں نہیں تو احتجاج ہوگا: تحریک انصاف

  • اتوار 30 / اپریل / 2023

تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری نے انتخابات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان اعلان کرچکے ہیں کہ اگر حکومت 14 مئی تک اسمبلیاں توڑنے کا اعلان نہیں کرتی تو فیصلہ عدالت میں ہوگا۔

فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ  تحریک انصاف مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے لیکن ناکامی کی صورت میں حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آئین کو ردی کا ٹکڑا اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھ لیا جائے۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں عوام بڑی تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک کا آغاز کل ہی لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں ریلی سے ہو رہا ہے۔  یہ تاریخی لانگ مارچ کی شکل اختیار کرے گا ۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات سپریم کورٹ کی تجویز پر رواں ہفتے کے آغاز میں شروع ہوئے تھے جسے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان انتخابات پر ہفتوں سے جاری تعطل میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

مذاکرات کے لیے 2 نشستوں کے بعد اب فریقین کے درمیان 2 مئی کو مذاکرات کا آخری دور متوقع ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 2 مئی پی ٹی آئی اور حکومتی مذاکرات کاروں کے لیے ایک مشکل دن ہو گا۔ پی ٹی آئی 14 مئی سے پہلے اسمبلیاں تحلیل کروانے پر بضد ہے جبکہ حکومت یہ مطالبہ ماننے سے انکار کرتی ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کے بعد مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہونے کے امکانات بہت کم نظر آرہے ہیں۔

سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اتحادی حکومت سے کہا ہے کہ اگر آپ 14 مئی تک تمام اسمبلیاں تحلیل کرتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ایک ہی الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگر آپ کو 14 مئی کو اسمبلیاں تحلیل کرنا قبول نہیں تو ہم پھر دونوں صوبوں میں الیکشن کرائیں گے جس کا سپریم کورٹ نے حکم دیا ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی، خیبرپختونخوا میں جلد از جلد عام انتخابات کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی کیونکہ 90 دن کا آئینی وقت گزر چکا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے عوام پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے پرامن احتجاج کے لیے نکل رہے ہیں کیونکہ وہ انتخابات کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے طاقتور حلقوں کو متنبہ کیا کہ اگر انتخابات سے انکار کیا گیا تو لوگ پرامن نہیں رہیں گے اور پاکستان کو سری لنکا سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے یکم مئی کو لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں یوم مزدور کی مناسبت سے ریلیوں کا بھی اعلان کیا جن کا نصب العین ’آئین بچاؤ - پاکستان بچاؤ‘ ہوگا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ماڈل ٹاؤن میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں بیک وقت انتخابات کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اجلاس میں نواز شریف نے بھی شرکت کی جس کے دوران وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پارٹی رہنماؤں کو اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اتحادی حکومت مقررہ وقت پر انتخابات کے مطالبے پر قائم رہے گی۔